BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
BBC بلیٹنز: حکم امتناعی میں توسیع

مست ایف ایم 103
مختصر دورانیے کے خبرنامے دونوں اداروں کے مابین ایک تحریری معاہدے کے تحت نشر ہونا شروع ہوئے تھے
سندھ ہائی کورٹ نے مست ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کی نشریات پر سرکاری پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں نو اکتوبر تک توسیع کر دی ہے اور اپیلوں کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ اپیلیں بی بی سی پاکستان اور ایف ایم 103 کی جانب سے داخل کی گئی ہیں جن میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں سرکاری ادارے پیمرا کے اس اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت اس نے اس سال 30 جون کو ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے پانچ منٹ کے مختصر دورانئے کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کروا دی تھیں۔

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ضیاء پرویز کی عدالت میں ان اپیلوں کی شنوائی ہونا تھی تاہم عدالت کا وقت ختم ہو جانے کی بناء پر سماعت نو اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناع برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت میں عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے اپیل کنندگان اور کاشف حنیف اور ناصر ایاز نے پیمرا کی نمائندگی کی۔

بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 نے اپنی اپیلوں میں کہا ہے کہ مختصر دورانیے کے خبرنامے دونوں اداروں کے مابین ایک تحریری معاہدے کے تحت نشر ہونا شروع ہوئے تھے جس کی پیمرا نے منظوری دی تھی تاہم پیمرا نے ایک حکم کے تحت ان پر پابندی عائد کردی جو کہ اظہار رائے، صحافت اور تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیمرا اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور اگر اسے ان بلیٹنز پر کوئی اعتراض تھا تو پیمرا کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب پیمرا کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اپیل کنندگان کے وکیل پیمرا کے جس خط کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ بلیٹن پیمرا کی اجازت سے نشر ہونا شروع ہوئے وہ مجاز اتھارٹی نے نہیں بلکہ ایک افسر نے لکھا تھا اور وہ اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں
BBC بلیٹنز:اگلی سماعت26ستمبرکو
18 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد