میڈیا پابندیاں ہائی کورٹ میں چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل گروپ نے نشریات پر سرکاری پابندی اور پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ سنیچر کو دائر کی گئیں دو علیحدہ آئینی درخواستوں میں انڈیپنڈینٹ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (جیو نیوز اور جیو انٹرٹینمنٹ) اور بَرڈ پرائیویٹ لمیٹڈ (آگ اور جیو سُپر) نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ٹی وی چینلوں کی نشریات کیبل ٹی وی کے ذریعے ملک بھر میں نشر کی جاتی ہیں جبکہ حکومت نے کیبل نیٹ ورک پر پابندی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے ناظرین ان کے ٹی وی چینلوں کی نشریات سے محروم ہوگئے ہیں۔ درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس میں حالیہ ترامیم آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے خلاف ہیں اور انہیں واپس لیا جائے۔ درخواست گزاروں نے حکومت پاکستان اور پیمرا کے سربراہ کو فریق بنایا ہے۔ جیو نیوز کے صدر عمران اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم کو یہ معلوم ہے کہ ایمرجنسی میں تمام حقوق معطل ہیں لیکن ہم نے پھر بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہمیں سنے بغیر ہی ہماری نشریات کو بند کردیا گیا جبکہ ہم نے پیمرا آرڈیننس کی کوئی خلاف ورزی بھی نہیں کی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پیر کو ان درخواستوں کی ابتدائی سماعت ہوگی۔ واضح رہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں کیبل پر نشر ہونے والے تقریباً تمام نیوز چینل بند کردیےگئے تھے۔ حکومت نے کہا تھا کہ یہ چینل سرکاری طور پر نافذ کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ |
اسی بارے میں ملک بھرمیں صحافیوں کایوم سیاہ09 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||