ملک بھرمیں صحافیوں کایوم سیاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پابندیوں اور نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کیے جانے کے خلاف صحافیوں نے جمعہ کو یوم سیاہ منایا ہے۔ صحافیوں نے دو روز تک سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ اور راولپینڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کی کال پر یوم سیاہ منایا گیا اور اسلام آباد پریس کلب کے باہر مقامی صحافیوں کی طرف سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں جنرل مشرف کی طرف سے ملک می ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اس موقع پر ایک سو کے قریب صحافی کیمپ میں موجود تھے جنہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھیں تھیں۔ یومِ سیاہ کے موقع پر پریس کلب پر سیاہ پرچم بھی لہرائے گئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ راولپینڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ نے کہا جمعہ سے سے پورے ملک میں باقاعدہ تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور سنیچر کو پیمرا کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور یہ احتجاج وقفے وقفے سے اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں۔ کیمپ میں موجود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکریٹری مظہر عباس نے کہا کہ یہ تحریک دراصل اخبارات کی آزادی اور اظہارِ خیال کی تحریک ہے جو دو اگست انیس سو پچاس میں شروع ہوئی تھی اور آج تک جاری ہے جس میں مختلف سویلین یا فوجی حکومتیں جو میڈیا پر پابندیاں لگاتی ہیں ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں۔ کراچی کراچی میں کراچی یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام صحافیوں کا احتجاجی جلسہ ہوا جسے کے یو جے کے صدر شمیم الرحمان، سیکرٹری جنرل جاوید چودھری، ایسو سی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹ کے رہنما جاوید صبا نے خطاب کیا۔ اطلاعات کے وزیر مملکت طارق عظیم نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ کو مذاکرات کے لیے بلایا ہے جو ٹی وی چینل ضابطہ اخلاق پر پابندی کی یقین دہانی کرائے گا اس کے چینل بحال ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سی این بی سی اور بزنس پلس نے ضابطہ اخلاق پر دستخط کردئیے تھے جو بحال کردئیے گئے ہیں۔ کراچی میں صحافیوں کے اجلاس میں ملک سے ایمرجنسی کے خاتمے، سیاسی اور سول سوسائٹی کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور عدلیہ کی بحالی کے مطالبات کیے گئے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر شمیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سمیت اخبارات کے مالکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ میں صحافیوں کا ساتھ دیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو مالکان کی بھی بات نہیں مانی جائیگی اور صحافیوں کو تنہا کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مالکان یہ چاہتے ہیں کہ ان کے چینل دیکھے جائیں اور ان کی ساکھ برقرار رہے تو اس فیصلے پر عمل درآمد کریں۔ شمیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جب پابندیاں عائد ہوئی تھیں تو ایک ادارے کے مالک نے کہا تھا کہ صرف ٹیلی نور کا اشتھار بند ہوا تھا تو ساٹھ کروڑ کا نقصان ہوا تھا۔ انہوں نےکہا کہ اگر صحافت کو کروڑوں میں تولا جائیگا تو پھر کبھی آزادی صحافت نہیں مل سکے گی۔ لاہور یومِ سیاہ کے موقع پر پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ لاہور کے صحافیوں نے پریس کلب کے گرد چکر لگایا اور صدر جنرل پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی انہوں نے ایک بڑا بینراٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ صحافت کی آزادی تک جنگ رہے گی۔ اس سے پہلے پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں ٹی وی کے نیوز چینلز بند کرنے کی مذمت کی گئی اور پیمرا آرڈیننس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ پی یو جے کے صدر عارف حمید بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ فیصل آباد میں بھی صحافیوں اور نیوز فوٹوگرافروں نے پریس کلب پر پولیس کے قبضے کے خلاف نعرے بازی کی۔ملتان میں سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے صحافیوں نے مذمتی اجلاس کیا۔ کوئٹہ پاکستان یونین آف جرنلسٹ کی اپیل پر آج بلوچستان میں بھی صحافیوں نے یوم سیاح منایا۔کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اورمیڈیا کی آزادی کیلیے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ تاہم پولیس کے آمد کے بعد مظاہرے میں شریک صحافی منتشرہوگئے۔ اس سے قبل کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں اوراخبارات کے مالکان کا اجلاس اس وقت بدمزگی کا شکار ہواجب روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹرانور ساجدی نے کہا کہ صحافیوں کیلیے اب ایک بارپھر قربانی دینے کا وقت آگیا ہے کیونکہ حکومت میڈیاپرپابندی کے نتیجے میں اخبارات کے اشتہارات بند کرسکتی ہے جس کی وجہ سے کارکنوں کی تنخواہیں بھی بند ہوسکتی ہے۔ انورساجدی کے اس بات پراجلاس میں موجود ورکِنگ جرنلسٹوں نے شدید احتجاج کیا اورکہا کہ مالکان اخبارات ہرمسئلے میں تنحواہوں کواشتہارات سے منسلک کرنے کی کوشش کرتے ہیں بعد میں مالکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ صحافیوں نے کہا کہ گرفتاری سب سے پہلے مالکان کودینی ہوگی اور ساتھ ہی زیادہ ترشرکاء نے اجلاس میں پی ایف یوجی اور بی یوجے کے غیرحاضر عہدیداروں پربھی شد ید تنقید کی جوبقول ان کے گرفتاریوں سے بچنے کی وجہ سے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔ بعدمیں بی یوجے کا ایک اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی سی او اور مشرف کے مقاصد08 November, 2007 | پاکستان پولیس اور جماعت اراکین کی جھڑپ08 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||