BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 April, 2008, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایم کیو ایم کے تحفظات سے فرق نہیں پڑتا‘

ڈاکٹر شعیب سڈل
شعیب سڈل کی بطور آئی جی سندھ تعیناتی پر ایم کیو ایم نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں صوبہ سندھ کی پولیس کے نئے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے ان کی تعیناتی پر تحفظات سے فرق نہیں پڑتا اور وہ صوبے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں گے خواہ ان کا تعلق صو بے کی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب سڈل نے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مفاہمت کے مذاکرات میں ناکامی کی ایک وجہ ان کی بطور آئی جی سندھ تعیناتی کو بتایا ہے۔

تحفظات کی بنیاد
 اگر ایم کیو ایم کی قیادت کو میری تعیناتی پر تحفظات ہیں تو وہ آئیں اور مجھ سے بات کریں تو پھر میں انہیں بتاوں گا کہ ان کے تحفظات کی بنیاد غلط ہیں یا کہ صیح ہے۔
آئی جی سندھ
ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں ڈاکٹر شعیب سڈل نے، جو اُس وقت ڈی آئی جی کراچی تھے، ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا تھا اور متاثرہ خاندانوں میں ان کی بطور آئی جی سندھ تعیناتی پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرفاروق ستار نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جو مذاکرات ہو رہے تھے اُن میں ایم کیو ایم نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ شعیب سڈل کو بطور آئی جی سندھ تعینات نہ کیا جائے۔

آئی جی سندھ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم کی حکومت پانچ سال تک صوبے میں اور مرکز میں برسراقتدار رہی ہے اور اس دوران وہ ایک بھی ایسا ثبوت سامنے نہیں لاسکی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ بطور ڈی آئی جی کراچی، ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے کہنے پر ایم کیو ایم کے کسی کارکن کی موت واقع ہوئی ہے تو اسے سامنے لائیں۔

شعیب سڈل نے کہا کہ ’اگر ایم کیو ایم کی قیادت کو میری تعیناتی پر تحفظات ہیں تو وہ آئیں اور مجھ سے بات کریں تو پھر میں انہیں بتاؤں گا کہ ان کے تحفظات کی بنیاد غلط ہیں یا کہ صحیح۔‘

ڈاکٹر شعیب سڈل جب ڈی آئی جی کراچی تھے تو شہر میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ اُس وقت کے وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ بابر کو دیتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوراٹر نائن زیرو سے پولیس کی نفری ہٹانے کے احکامات نہیں دیئے تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس کی نفری میں کمی یا اضافہ معمول کی کارروائی ہے۔

بدنما داغ
 اٹھارہ اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں کراچی میں بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے حملوں کے مقدمات کی غیر معیاری تفیش سندھ پولیس کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے اور میں اس داغ کو مٹانے کی کوشش کروں گا۔
ڈاکٹر شعیب سڈل
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ صوبے کےکسی شخص کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ ان کے دفتر میں آئے اور بات کرے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ وہ دن بارہ بجے سے ایک بجے تک لوگوں سے ملا کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں کراچی میں بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے حملوں کے مقدمات کی غیر معیاری تفیش سندھ پولیس کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے اور وہ اس داغ کو مٹانے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن منظور مغل کو جو پہلے اس واقعہ کی تفتیش کر رہے تھے فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت چاہے تو اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کروا سکتی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کے واقعہ کے علاوہ جن مقدمات میں پولیس کی نااہلی پائی گئی ان کی محکمانہ انکوائری ہوگی اور فرائض سے غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے پر انہیں فیلڈ میں تعینات کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا سنہ دو ہزار ایک میں جب امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہوا اُس کے فوری بعد وفاقی حکومت نے انہیں آئی جی بلوچستان تعینات کیا تھا کیونکہ اس واقعہ کے بعد وہاں پر امن وامان سب سے بڑا چیلنج تھا اور وہ تین سال تک وہاں رہے اُس وقت تو پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں تھی۔

مرتضی بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جس دن اس واقعہ کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی اُس سے اگلے روز ہی وہ چھٹی پر چلے گئے تاکہ یہ تاثر نہ دیا جاسکے کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں کوئی اثرورسوخ استعمال کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد