BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 April, 2008, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارساز ٹریبونل تحلیل کردیاگیا

بینطیر بھٹو فائل فوٹو
بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر انتہائی خوش تھیں
نئی صوبائی حکومت نے تحقیقاتی ٹریبونل کو تحلیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو استقبالیہ جلوس میں بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے سابق سندھ حکومت کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔

صوبائی محکمۂ داخلہ کے حکام کے نے سنیچر کو بتایا کہ ٹریبونل کو فوری طور پر ڈی نوٹیفائی یا تحلیل کردیا گیا ہے اور اب اس ٹریبونل کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تاہم حکام نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہے کہ ٹریبونل کی تحلیل کی وجوہات کیا ہیں اور یہ کہ اب تک کی جانے والی تحقیقات کا کیا ہوگا۔

ٹریبونل نے اب تک چالیس گواہوں کے بیانات قلمبند کیے تھے جن میں پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار اور پیپلزپارٹی کے چند ارکان سمیت پی پی کی جانب سے سیکیورٹی انچارج جنرل ریٹائرڈ احسان بھی شامل تھے۔

یہ ٹریبونل گزشتہ سال اکتیس اکتوبر کو ایسے وقت تشکیل دیا گیا تھا جب عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان حملوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ٹریبونل یہ معلوم کرے گا کہ ایسے کیا حالات اور واقعات تھے جو بم دھماکوں کا سبب بنے اور جس کے نتیجے میں ایک سو اڑتیس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ٹریبونل کو اس بات کا بھی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ذمہ دار افراد یا گروپ کا تعین کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا بھی تجویز کرے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر اس تحقیقاتی ٹریبونل کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور چھبیس جنوری کو تحقیقاتی ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ٹریبونل کے

مزید کارروائی نہ کرنے کی پابندی
 سید قائم علی شاہ کی جانب سے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت کی جانے والی آئینی درخواست پر عدالتِ عالیہ نے حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹریبونل کو مزید کارروائی سے سترہ اپریل تک روک دیا تھا
سندھ ہائی کورٹ
سربراہ جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد نے عدم اعتماد کی اس تحریری درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹریبونل قانون کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے اور یہ اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔

بعدازاں پہلی فروری کو پیپلز پارٹی نے تحقیقاتی ٹریبونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس ٹریبونل کی تشکیل غیرقانونی ہے اور اس کو تحقیقات کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے جس پر عدالتِ عالیہ نے ٹریبونل کی کارروائی پر حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹریبونل کو مزید کارروائی کرنے سے سترہ اپریل تک روک دیا تھا۔

اسی بارے میں
اٹھارہ اکتوبر کے عینی شاہد
04 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد