کارساز ٹریبونل تحلیل کردیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی صوبائی حکومت نے تحقیقاتی ٹریبونل کو تحلیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو استقبالیہ جلوس میں بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے سابق سندھ حکومت کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ صوبائی محکمۂ داخلہ کے حکام کے نے سنیچر کو بتایا کہ ٹریبونل کو فوری طور پر ڈی نوٹیفائی یا تحلیل کردیا گیا ہے اور اب اس ٹریبونل کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تاہم حکام نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہے کہ ٹریبونل کی تحلیل کی وجوہات کیا ہیں اور یہ کہ اب تک کی جانے والی تحقیقات کا کیا ہوگا۔ ٹریبونل نے اب تک چالیس گواہوں کے بیانات قلمبند کیے تھے جن میں پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار اور پیپلزپارٹی کے چند ارکان سمیت پی پی کی جانب سے سیکیورٹی انچارج جنرل ریٹائرڈ احسان بھی شامل تھے۔ یہ ٹریبونل گزشتہ سال اکتیس اکتوبر کو ایسے وقت تشکیل دیا گیا تھا جب عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان حملوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ٹریبونل یہ معلوم کرے گا کہ ایسے کیا حالات اور واقعات تھے جو بم دھماکوں کا سبب بنے اور جس کے نتیجے میں ایک سو اڑتیس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ٹریبونل کو اس بات کا بھی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ذمہ دار افراد یا گروپ کا تعین کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا بھی تجویز کرے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر اس تحقیقاتی ٹریبونل کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور چھبیس جنوری کو تحقیقاتی ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ٹریبونل کے
بعدازاں پہلی فروری کو پیپلز پارٹی نے تحقیقاتی ٹریبونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس ٹریبونل کی تشکیل غیرقانونی ہے اور اس کو تحقیقات کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے جس پر عدالتِ عالیہ نے ٹریبونل کی کارروائی پر حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹریبونل کو مزید کارروائی کرنے سے سترہ اپریل تک روک دیا تھا۔ | اسی بارے میں اٹھارہ اکتوبرحملہ، سماعت ملتوی11 March, 2008 | پاکستان ’سانحہ کارساز ٹریبونل غیر قانونی‘01 February, 2008 | پاکستان ’جیمرز کام نہیں کر رہے تھے‘28 January, 2008 | پاکستان اکتوبر ٹریبونل پر عدم اعتماد مسترد26 January, 2008 | پاکستان پولیس افسروں کے بیانات قلمبند03 January, 2008 | پاکستان بی بی، ارباب کے خلاف درخواستیں07 December, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے، تفتیشی ٹریبیونل31 October, 2007 | پاکستان اٹھارہ اکتوبر کے عینی شاہد04 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||