BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 January, 2008, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جیمرز کام نہیں کر رہے تھے‘

بینظیر ریلی بم دھماکہ
’ٹریلر کے اطراف لگائے گئے جیمرز کام نہیں کررہے تھے۔‘
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے سکیورٹی ایڈوائزر میجر جنرل ریٹائرڈ احسان احمد نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جانے والے جیمرز کام نہیں کر رہے تھے۔

یہ بات انہوں نے اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات میں بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر ہونے والے بم حملے کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہی۔

ٹریبونل نے بینظیر بھٹو کے دیگر سیکیورٹی ایڈوائزرز ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آغا سراج درانی کو بھی طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ احسان احمد نے ٹریبونل کو بتایا کہ اٹھارہ اکتوبر بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اور ان کے استقبال کے پروگرام کا سکیورٹی پلان انہوں نے ہی ترتیب دیا تھا۔ تاہم پولیس نے بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس میں ان کے ٹریلر کے اطراف بم دھماکے کو روکنے کے لیے جو جیمرز لگائے تھے وہ کام نہیں کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جیمرز کام کر رہے ہوں تو ان کی رینج میں موبائل فون بھی کام نہیں کرتے لیکن اس دن موبائل فون بھی پوری طرح جام نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے آئی جی پولیس سندھ سے ملاقات کرکے انہیں اس بات کی شکایت کی تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس فنڈز کی کمی ہے اور جیمرز پرانے ہوچکے ہیں اس لیے کام نہیں کررہے تھے۔

احسان احمد نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی غرض سے خصوصی طور پر تیار کئے گیے بلٹ اور بلاسٹ پروف ٹریلر کی چھت پر ان کے لیے بلٹ پروف روسٹرم بھی بنایا گیا تھا ’لیکن بینظیر بھٹو اسے استعمال نہیں کر رہی تھیں جس پر انہیں کراچی پولیس کے سربراہ نے انہیں (احسان احمد) ایس ایم ایس بھیج کر کہا تھا کہ بینظیر بھٹو سے کہیں کہ وہ اس روسٹرم کے اندر رہیں‘۔

احسان احمد کے مطابق انہوں نے یہ پیغام بینظیر بھٹو کو بھجوایا لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور وہ براہ راست استقبال کے لیِے جمع ہونے والے لوگوں کے سامنے کسی رکاوٹ کے بغیر کھڑی رہیں۔

 بلٹ پروف روسٹرم بینظیر بھٹو استعمال نہیں کررہی تھیں جس پر کراچی پولیس کے سربراہ نے انہیں (احسان احمد) ایس ایم ایس بھیج کر کہا تھا کہ بینظیر بھٹو سے کہیں کہ وہ اس روسٹرم کے اندر رہیں۔
میجر جنرل ریٹائرڈ احسان احمد

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلوس کے راستے میں سٹریٹ لائٹس کئی جگہوں پر بند تھیں جس کی انہوں نے متعلقہ افسران کو شکایت بھی کی تھی۔ ٹریبونل کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد نے ایک موقع پر ان سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے کسی غیرملکی فرم سے رابطہ کیا تھا؟

احسان احمد نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو پہلے ہی کئی سال جلاوطن رہی تھیں اور اگر ان کی حفاظت کے لیے غیرملکی افراد مامور کئے جاتے تو اس سے ان کے بارے میں خراب تاثر جاتا اس لئے ایسا نہیں کیا گیا۔

ٹریبونل نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آغا سراج درانی کو دوبارہ سمن جاری کرتے ہوئے چار فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل سنیچر کو ہی پی پی پی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک ٹریبونل کو خط لکھ کر ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد نے عدم اعتماد کی اس تحریری درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹریبونل قانون کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے اور یہ اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ یہ ٹریبونل صوبے کے سابق وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم نے یہ ٹریبونل اس وقت تشکیل دیا تھا جب سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پہلے ہی اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسکی سماعت شروع کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔

اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد