’اب جلسوں میں نہیں جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں بم دھماکوں سے بالکل خوفزدہ نہیں بلکہ اب تو میں جلسے اور جلوسوں میں اپنے بچوں کو بھی لے کر جاؤں گا اور اپنی بہن بینظیر بھٹو کی حفاظت میں اپنی جان بھی دے دوں گا‘۔ اس عزم کا اظہار جناح ہسپتال کے بستر پر لیٹے شیرباز نے کیا جو اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں بم دھماکوں کے دوران زخمی ہوئے تھے اور ان جیسے اب بھی کئی افراد جناح ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔ شیرباز کندھ کوٹ سے بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں شرکت کرنے آئے تھے انہوں نے کہا کہ وہ بلاول ہاؤس سے پیدل ائرپورٹ گئے تھے اور جلوس کے ساتھ آرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ٹی وی میں دھماکے دیکھے تھے لیکن جب آنکھوں کے سامنے دیکھا تو پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ تین بچوں کے والد اور بےروزگار شیرباز نے بتایا کہ ’یہ سب دیکھنے کے بعد بھی حوصلے بلند ہیں اور اب ہم مزید قربانیاں دیں گے اور اپنے بچوں کو بھی لائیں گے اور اس سے بڑے جلسے کریں گے‘۔
اسی طرح پشاور سے آنے والے محمد ایاز کا پیٹ اور کمر بری طرح زخمی ہے اور ان کا آپریشن ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے چھوٹا دھماکہ ہوا اور اس میں جو لوگ زخمی ہوئے تو میں ان کی مدد کے لیے آگے بڑھا لیکن اچانک دوسرا زور دار دھماکہ ہوا اور پھر جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھا‘۔ ایاز نے بتایا: ’ہم پیپلز پارٹی کے جلسے میں ضرور جائیں گے کیونکہ ہمارے باپ دادا پیپلزپارٹی میں رہے ہیں اور ہمارے بچے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ رہیں گے چاہے کچھ بھی ہو‘۔ زخمیوں میں جہاں اب بھی بینظیر بھٹو پر اپنی جان نثار کرنے والے موجود ہیں وہیں ایسے زخمی بھی ہیں جو اب کسی بھی سیاسی جلسے جلوس میں جانے سے تائب نظر آتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کو خیرباد کہنے کے لیے تیار نہیں۔
چوبیس سالہ راشد نے بتایا کہ ان کے پیٹ کا آپریشن ہوا ہے لیکن پیپلزپارٹی کا کوئی فرد ان کے پاس امداد لے کر نہیں آیا جبکہ دوسرے وارڈ میں امداد دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں غریب آدمی ہوں اور میرے پاس علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں‘۔ راشد ایک مقامی ہوٹل میں روٹی بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والے راشد نے بتایا کہ اس نے پہلی بار کسی جلسے میں شرکت کی تھی لیکن اب وہ کسی بھی سیاسی جلسے میں شرکت نہیں کریں انہوں نے بتایا کہ وہ دو بچوں کے والد ہیں اور بیوہ ماں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں جبکہ زخمی ہونے کے بعد سے وہ بے روزگار ہوگئے ہیں کیونکہ وہ کاسمیٹکس کا کام کرتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر کماتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ دو ماہ کے بعد چلنے کے قابل ہوسکیں گے۔
طارق روڈ کے علاقے کے رہائشی عرفان نے کہا کہ ’میں آئندہ ان کے جلسوں میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں یہاں اکیلا پڑا ہوں اور گھر میں ماں، بیوی اور بچے بھوکے بیٹھے ہیں تو اس طرح کے جلسے جلوسوں میں جانے سے کیا حاصل‘۔ ایک تیرہ سالہ زخمی بچے زاہد کی والدہ رانی غلام رسول نے آئندہ جلوس میں جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی جلتی آگ میں اپنے بچوں کو نہیں جھونکے گا، ہم خود چلے جائیں گے لیکن اپنے بچوں کو نہیں بھیجیں گے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا پورا گھرانہ پیپلزپارٹی میں ہے لیکن وہ اپنے بچوں کو جلسے میں نہیں جانے دیں گی اور انہوں نے زاہد کو بھی منع کیا تھا لیکن وہ چپکے سے بغیر بتائے چلاگیا اور بری طرح زخمی ہوگیا۔ ہسپتال میں داخل بم دھماکوں کے زخمی پیپلزپارٹی پر تنقید کریں یا اس کے حق میں بیان دیں، ان میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرسن نظیر بھٹو کو ایک بار پھر وزیرِاعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا جو نعرہ دیا تھا وہ بینظیر اقتدار میں آنے کے بعد ضرور پورا کریں گی۔ |
اسی بارے میں کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک19 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکوں کی وسیع تر مذمت 18 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری20 October, 2007 | پاکستان کراچی: خود کش حملے کو تقویت22 October, 2007 | پاکستان کراچی ایئرپورٹ کے راستے بند17 October, 2007 | پاکستان کراچی میں دھماکہ، متعدد زخمی06 September, 2007 | پاکستان کراچی میں پرتشدد احتجاج27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||