’سانحہ کارساز ٹریبونل غیر قانونی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے جلوس میں ہونے والے بم حملے کے تحقیقاتی ٹریبونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاھ کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس ٹریبونل کی تشکیل غیرقانونی ہے اور اس کے پاس کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ اس ٹریبونل کا مقصد اصل مجرمان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، کیونکہ اٹھارہ اکتوبر کے حوالے سے بینظیر بھٹو کی ایف آئی آر بھی رجسٹر نہیں کی گئی ہے اور جب سیشن جج سے اس کی اجازت لی گئی تو ہائی کورٹ سے اسے منسوخ کروایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ٹریبونل کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد متعصب ہیں۔ جب وہ احتساب عدالت کے جج تھے تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو سزائیں دیں جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے رد کیا۔ ان سے انصاف کی کوئی بھی توقع نہیں ہے اس لیے اس ٹریبونل کو ختم کیا جائے۔‘ واضح رہے کہ گزشتہ سال اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقعے پر ان کے استقبالیہ جلوس میں بم دھماکے ہوئے تھے جس میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور ڈھائی سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے بعد سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں ٹریبونل تشکیل دیا تھا۔ اس ٹریبونل میں پولیس افسران نے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ٹریبونل نے گزشتہ سماعت پر بینظیر بھٹو کا ٹرک چلانے والے ڈرائیور عبدالغنی کی گرفتاری کے دوبارہ وارنٹ جاری کئے تھے۔ ٹریبونل کی سماعت دو فروری کو ہوگی۔ | اسی بارے میں لیاری کے جانثار: داستانیں کیا کیا 22 October, 2007 | پاکستان پی پی پی عدم اعتماد، افسر تبدیل24 October, 2007 | پاکستان ’پولیس کو دھماکوں کی اطلاع تھی‘27 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے، تفتیشی ٹریبیونل31 October, 2007 | پاکستان اٹھارہ اکتوبر کے عینی شاہد04 January, 2008 | پاکستان کراچی: چھ سال میں اٹھائیس دھماکے15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||