BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 March, 2008, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹھارہ اکتوبرحملہ، سماعت ملتوی

کراچی میں مرحومہ بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد جمع ہوئے تھے
سندھ ہائی کورٹ نےمرحومہ بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے حملوں کے تحقیقاتی ٹربیونل کو 15 اپریل تک کام کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ کی درخواست پر جاری کیا ہے۔ انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے جلوس میں ہونے والے بم حملے کے تحقیقاتی ٹرئبیونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو مرحومہ بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم ایک سو چالیس افراد ہلاک اور پانچ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ یہ ٹرئبیونل حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے اور اس کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمود عالم رضوی اور جسٹس مسز قیصر اقبال پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو منگل کو اس درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں سید قائم علی شاہ کے وکیل فاروق نائیک نے دلائل دیئے عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے سماعت 15 اپریل تک ملتوی کردی۔

سید قائم علی شاہ کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس ٹرئبیونل کی تشکیل غیرقانونی ہے اور اس کے پاس کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ اس ٹرئبیونل کا مقصد اصل مجرمان کو تحفظ فراہم کرنا ہے کیونکہ اٹھارہ اکتوبر کے حوالے سے بینظیر بھٹو کی ایف آئی آر بھی رجسٹر نہیں کی گئی ہے اور جب سیشن جج سے اس کی اجازت لی گئی تو ہائی کورٹ سے اسے منسوخ کروایا گیا۔

اس حملہ میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹرئبیونل کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد متعصب ہیں۔ جب وہ احتساب عدالت کے جج تھے تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو سزائیں دیں جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے رد کیا۔ ان سے انصاف کی کوئی بھی توقع نہیں ہے اس لیے اس ٹرئبیونل کو ختم کیا جائے۔‘

سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے بعد سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں ٹرئبیونل تشکیل دیا تھا۔

ا سے قبل ٹرئبیونل نے بینظیر بھٹو کی آمد کے موقعے پر سیکیورٹی انچارج ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ اور بینظیر بھٹو کا ٹرک چلانے والے ڈرائیور عبدالغنی کو متعدد بار نوٹس جاری کرچکا ہے مگر کسی نے بھی اپنا بیان قلمبند نہیں کروایا ہے۔

تاہم صرف پولیس اہلکاروں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد