’تحقیقات میں غیرملکی تعاون حاصل کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کی ایسی تحقیقات کو تسلیم نہیں کریں گی جس میں تمام تر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کیا جائے اور وہ صرف بیرون ملک ہی دستیاب ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو بلاول ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف معاملات پر غیرملکی تعاون حاصل کیا گیا تو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے غیرملکی تعاون کیوں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ’کارگل کی جنگ بند کرانے کے لیے بھی غیرملکی مدد لی گئی تو پھر کیا یہ بڑی بات ہے کہ ایک واقعے کی تحقیقات کے لیے جس میں 140 بے گناہ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، غیرملکی تعاون حاصل کیا جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میرا اصرار ہے کہ میں ایسی کوئی تحقیقات نہیں مانوں گی جس میں اس واقعے کی تہہ تک جانے کے لیے جدید فارینسک، ٹیکنیکل اور سائنٹفک ذرائع استعمال نہ ہوں، نہ صرف دھماکے کرنے والوں تک پہنچنے کے لیے بلکہ یہ جاننے کے لیے بھی کہ ان کے پیچھے کون لوگ ہیں کیونکہ یہ دھماکے صرف میرے خلاف نہیں پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کے خلاف تھے۔‘ بینظیر بھٹو نے جنرل مشرف سے مذاکرات کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کی جماعت نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ جنرل مشرف سے جمہوریت کی بحالی کے لیے بات چیت کرے گی اور اعتدال پسند قوتوں کو انتہاپسندی کے خلاف منظم کرنے کے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کرے گی۔ ’ہم اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور پارٹی کے اندر ہماری اس پر بحث بھی ہوئی۔ میرے کچھ رفقاء اسکے حق میں اور کچھ مخالفت میں تھے لیکن سب نے پارٹی کے فیصلے کو قبول کیا۔ لیکن جنرل صاحب کے کچھ رفقاء نے تو اسے قبول کیا مگر کچھ نے قبول نہیں کیا جنہوں نے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس ایک چال ہے۔‘ بینظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے ان اتحادیوں پر نام لیے بغیر کڑی تنقید کی جو مشرف اور ان کے مابین مفاہمت کے مخالف ہیں۔ ’جنرل صاحب کے ان رفقاء نے اب تک بم حملے کی مذمت بھی نہیں کی اور انہوں نے دہشتگردوں کو تقویت دینے کی کوشش یہ کہہ کر کی کہ پیپلز پارٹی نے خود یہ دھماکے کرائے ہیں۔‘ ’اس چیز کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہیے، ان لوگوں کے ذہنوں میں کیا خوف ہے کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ ان کا کیا ارادہ ہے پیپلز پارٹی کو روکنے کے لیے، یہ کیوں اس کاررواں کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں؟‘ بینظیر بھٹو نے کہا کہ جنرل مشرف کے ایک ساتھی انہیں ایک تقریب میں ملے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ایک ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے۔ ’مگر اخباروں میں ان کے جو بیانات پڑھتی ہوں اس سے تو فضاء خراب ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے بیان دیا ہے کہ ان پر حملہ ہوا ہے کیونکہ زمینی حقائق بدل چکے ہیں۔ ’کیا اسکا مطلب ہے کہ میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کو قبول کرلوں اور اپنے اوپر مزید حملوں کے لیے تیار رہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے ان اتحادیوں کو جواب دینا ہے کہ کیا وہ جمہوریت اور اعتدال پسندی چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ جمہوریت اور اعتدال پسندی کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں پیپلز پارٹی پر حملے بند کردینے چاہئیں اور انہیں دہشتگردوں کی مذمت کرنی چاہیئے۔ | اسی بارے میں ’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت‘21 October, 2007 | پاکستان اے پی سی بلانے کا فیصلہ: درانی20 October, 2007 | پاکستان ’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘15 October, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو اور مشرف کی مجبوری25 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں‘23 October, 2007 | پاکستان بینظیر پرحملہ ہم نے نہیں کیا: طالبان22 October, 2007 | پاکستان کراچی: خود کش حملے کو تقویت22 October, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کا مقصد بینظیر کو ڈرانا تھا‘20 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||