اکتوبر ٹریبونل پر عدم اعتماد مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پپلزپارٹی نےسنیچر کو سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم حملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد نے عدم اعتماد کی اس تحریری درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریبونل قانون کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے اور یہ اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔ پیپلزپارٹی اور اس کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ٹریبونل کے سربراہ کو ایک خط ارسال کیا تھا جسے سنیچر کو ٹریبونل کی کارروائی کے دوران جسٹس غوث محمد نے پڑھا۔ خط پڑھتے ہوئے سنیچر کو ٹریبونل کے سربراہ نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی آمد پر ان کے جلوس میں انہیں قتل کرنے کے ارادے سے خودکش دھماکے کیے گئے جس میں ایک سو اناسی افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کا مقدمہ درج کرانے کے لیے بینظیر بھٹو کی جانب سے بہادرآباد پولیس سٹیشن کو درخواست دی گئی لیکن پولیس نے اس درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی جس پر سیشن جج ساؤتھ کراچی کو درخواست دی گئی اور انہوں نے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیے لیکن حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی اور یک طرفہ فیصلہ لے لیا گیا جس میں پولیس کو ایف آئی آر کاٹنے سے روک دیا گیا۔ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے اس خط میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مذمتی بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی، اس کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور خاندان کے دیگر افراد ٹریبونل کی تشکیل کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح اس معاملہ کو پسِ پشت ڈال کر ان لوگوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بم دھماکے کے ذمہ دار ہیں۔ خط میں ٹریبونل کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے پاس
ٹریبونل کے سربراہ نے خط پڑھنے کے بعد اس میں کی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹریبونل قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بنایا گیا ہے اور یہ اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔ گزشتہ سماعت میں بینظیر بھٹو کے فلوٹ کے ڈرائیور عبدالغنی کو طلب کیا گیا تھا لیکن بہادرآباد کے ایڈیشنل ایس ایچ او نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ پارٹی کی اجازت کے بغیر گواہی نہیں دے سکتے۔ ٹریبونل نے عبدالغنی کے عذر کو مسترد کردیا اور اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عبدالغنی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ انہیں آئندہ سماعت میں پیش کیا جائے۔ |
اسی بارے میں بینظیر! مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید19 October, 2007 | پاکستان عادت بدلنا ہوگی19 October, 2007 | پاکستان بےنظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، دو درجن سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ18 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکوں کی وسیع تر مذمت 18 October, 2007 | پاکستان ’ بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘30 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||