BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 April, 2008, 17:12 GMT 22:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ کابینہ کا غیرمعمولی اجلاس

کابینہ
دو روز قبل تشکیل پانے والی سندھ کابینہ کے ارکان
سندھ میں دو روز قبل تشکیل پانے والی کابینہ کا اتوار کو غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں صوبے میں آٹے کے بحران، امن وامان اور نواپریل کے سانحۂ سمیت کئی امور پر غور کیا گیا۔

کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ آٹے کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بارڈر سِیل کیے جائیں گے جبکہ نو اپریل کے سانحہ میں ملوث افراد سے ان کی جماعتی وابستگی سے قطع نظر قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

صوبائی کابینہ کا اجلاس اتوار کو یعنی ہفتہ وار تعطیل کے باوجود طلب کیا گیا تھا۔ سندھ کے وزیرِ اعلٰی قائم علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں کابینہ کے تمام اکیس ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر برائے اطلاعات شازیہ مری نے صحافیوں کو بتایا کہ کابینہ میں امن وامان اور مہنگائی سمیت کئی امور زیرِبحث آئے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی اور خاص طور پر آٹے کی قیمتوں پر بات ہوئی اور یہ بات سامنے رکھی گئی کہ اگر بارڈرز کو سِیل کردیا جائے اور حکومت گندم کی خریداری پر زور دے تو یہ ایسے اقدامات ہونگے جن سے عوام کو فوری ریلیف ملے سکتا ہے۔

اس کے علاوہ تمام وزراء اپنے محکموں میں گذشتہ حکومت کے اقدامات کے بارے میں رپورٹ وزیراعلٰی کو پیش کریں گے جن کی بنیاد پر مستقبل میں فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پپلزپارٹی چاہتی ہے کہ مکمل چھان بین کے بعد ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

نو اپریل کے سانحہ میں ملوث افراد سے ان کی جماعتی وابستگی سے قطع نظر قانون کے مطابق نمٹا جائے گا

جب نو اپریل کے سانحے کی تحقیقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کسی بھی جماعت کا نام لیے بغیر اس بات پر زور دیا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان سے ان کی جماعتی وابستگی سے قطع نظر سختی سے نمٹا جائے گا۔

وفاقی مشیرِ داخلہ رحمٰن ملک بھی کابینہ کے اجلاس میں موجود تھے اور انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے اور خاص طور پر کراچی میں امن وامان کے قیام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں نئے آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کی تعیناتی کے بعد اب ہر سطح پر ایماندار اور محنتی افسران کو تعینات کیا جائے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو۔

سندھ میں ہنگامے
کیا لسانی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا؟
اسی بارے میں
سندھ: زرداری مخالف مظاہرے
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد