BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 April, 2008, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیوایم، پی پی کا اظہارِ یکجہتی

فاروق ستار
طاہر پلازہ میں جن سات وکلاء کو زندہ جلایا گیا ہے ان کی فہرست قوم کے سامنے پیش کی جائے
متحدہ قومی موومنٹ کا ایک وفد ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں اتوار کی شام پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے بلاول ہاؤس گیا جہاں انہوں نے بلاول ہاؤس پر فائرنگ کے واقعہ پر اظہارِ یکجہتی کیا۔

سنیچر کی رات ایم کیو ایم کے دو ارکان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے لانڈھی میں قتل کردیا تھا جبکہ پیپلزپارٹی کے کراچی میں صدر دفتر بلاول ہاؤس پر چند نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی اور پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں فرار ہوگئے تھے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ کہ بظاہر یہ دونوں واقعات پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو لڑوانے کی سازش کا حصہ نظر آتے ہیں اور اس ملاقات کا مقصد صرف اظہارِ یکجہتی ہے اور اسے حکومت سازی یہ کسی سیاسی ملاقات کا رنگ دینا مناسب نہیں ہوگا۔

ایم کیو ایم کا چار رکنی وفد جب بلاول ہاؤس پہنچا تو پیپلزپارٹی کے رہنماء اور سندھ حکومت کے سینئر وزیر پیر مظہرالحق اور صوبائی وزیرِداخلہ ذوالفقار مرزا نے ان کا استقبال پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے کیا اور کارکنوں نے نعرے بازی بھی کی، جس پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے شکریہ ادا کیا۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں آنے کا مقصد اِن کو یقین دلانا ہے کہ گذشتہ روز بلاول ہاؤس پر جو دہشت گردی کا واقعہ ہوا ایم کیو ایم نے اس کو اسی طرح لیا ہے جیسے یہ شرانگیزی کا واقعہ ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو پر ہوا ہے۔

فاروق ستار نے نو اپریل کو طاہر پلازہ کے ایک چیمبر میں سات افراد کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی روز سے طاہر پلازہ

طاہر پلازہ پر رائے مشترک ہے
 ایم کیو ایم اور وکلاء کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ہیں جو بہت جلد دور ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ طاہر پلازہ کے معاملے میں ہم دونوں کی رائے مشترک ہے
پیر مظہرالحق
سانحہ کو جواز بنا کر ایم کیو ایم مخالف عناصر پورے ملک میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ طاہر پلازہ میں سات وکلاء کو زندہ جلادیا گیا، ان وکلاء کی فہرست قوم کے سامنے پیش کی جائے اور جو لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اگر وہ فہرست پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر وکلاء کو زندہ جلائے جانے کا بہتان لگانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء پیر مظہرالحق نے اس موقع پر کہا کہ ایم کیو ایم اور وکلاء کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ہیں جو بہت جلد دور ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ طاہر پلازہ کے معاملے میں ہم دونوں کی رائے مشترک ہے اور کسی پر بھی الزام لگانے سے پہلے اس کی تحقیق کی جانی چاہیے اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی فرد یا جماعت پر الزام نہیں لگانا چاہیے، چاہے وہ اپوزیشن ہی میں کیوں نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں سیاسی جماعتیں ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت جسے عوام سے ووٹ لینا ہے وہ اتنا گھناؤنا کام نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ طاہر پلازہ سانحے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور جو لوگ بھی اس میں ملوث ہوں گے ان کو جلد گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں پیر مظہر نے کہا کہ حکومت سازی کے حوالے سے ایم کیو ایم سے بات تو نہیں ہوئی ہے لیکن اگر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں اس بات کا بھی امکان ہے اور ایسا ہوگا۔

ڈاکٹر شعیب سڈل’تحفظات بے بنیاد‘
جرائم کےخلاف بلاامتیاز کارروائی کروں گا: سڈل
لاہور مظاہرہکراچی پر احتجاج
پنجاب و سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی کامطالبہ
مشرف’مشرف کا عزم‘
’صدارت کے لیے ماورائے آئین اقدام بھی ممکن ہے‘
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
اسی بارے میں
حساس ادارے کے افسران قتل
27 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد