حساس ادارے کے افسران قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کی شب پاکستان کے حساس ادارے انٹیلیجنس بیورو کے دو افسران کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت ہوا جب یہ دونوں افسران ڈیوٹی ختم کر کے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پولیس کے متعلقہ افسر سلمان احمد نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے، جنہوں نے انٹیلیجنس بیورو کے افسران کو روکا اور اُن سے کچھ دیر تک بات چیت کرتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے فائرنگ کر دی جس سے دونوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق اس سے یہ لگتا ہے کہ حملہ آوروں نے فائرنگ کرنے سے پہلے اُن کی شناخت کی تصدیق کی تھی۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تلاشی کے دوران اُن کی جیبوں سے آئی بی کے کارڈ برآمد ہوئے جن کی مدد سے اُن کی شناخت انسپکٹر ابراھیم اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر فضل الرحمان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ضابطہ کی کارروائی کے لیے سول اسپتال لائی گئیں، جہاں حساس ادارے کے افسران بھی پہنچ گئے اور واقعہ کی تفتیش شروع کر دی گئی۔ ڈی ایس پی سلمان احمد کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا واقعہ ظاہر ہوتا ہے اور پولیس اس کے محرکات معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں عام انتخابات کے بعد سے ’ٹارگٹ کلنگ‘ کی وارداتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور مارچ کے مہینے میں اب تک 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ تاہم کراچی میں ایک طویل عرصہ کے بعد کسی حساس ادارے کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں لاہور:فوجی کالج پر حملہ، چھ ہلاک 04 March, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ 14 January, 2008 | پاکستان کراچی: چھ سال میں اٹھائیس دھماکے15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||