BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 01:49 GMT 06:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: 75 ہلاکتیں یا ’ٹارگٹ قتل‘

پولیس
پولیس کے محکمہ میں سیاسی مداخلت کی شکایت کی جاتی ہے
کراچی میں عام انتخابات کے بعد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور رواں ماہ کے پچیس دنوں میں اب تک پِچھتر افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ حکومت سندھ کے حکام کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

گزشتہ پچیس دنوں سے کراچی کے بعض علاقوں میں فائرنگ کرکے متعدد لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور کچھ کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ صرف اس مہینے یعنی مارچ کی پہلی سے پچیس تاریخ کے درمیان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد پچھتر تک پہنچ چکی ہے جن میں ایک پولیس اہلکار سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں میں سے بیشتر کورنگی، لانڈھی، ملیر، اور لیاری کے انہی علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں انیس سو نوے کی دہائی میں امن و امان کی صورتحال دگرگوں تھی۔

صوبہ سندھ کے سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان نے بدھ کو اس بات کا جواب اثبات میں دیا کہ گزشتہ چند دنوں سے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور کہا کہ ان میں ہلاک ہونے والے افراد کی وجۂ قتل بیان کرنا قدرے مشکل ہے اور اسی لیے اسے ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کراچی کی تاریخ میں گروہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ واقعات اسی کا شاخسانہ ہوں۔

پولیس اور عوام میں رابطے کا کام اور پولیس کو تکنیکی مدد فراہم کرنے والی سی پی ایل سی یعنی سیٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے سربراہ شرف الدین میمن اچانک رونما ہونے والے ان واقعات کے بارے میں کہتے ہیں کہ انیس سو نوے کی دہائی میں جب سیاسی طور پر غیریقینی کی فضا تھی اس وقت اس قسم کے واقعات میں لوگوں کی اموات ہوتی تھیں اور متعدد بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں اور ان میں زیادہ تر واقعات کے پیچھے سیاسی عناصر کارفرما ہوتے تھے۔

گروہی تشدد کا شاخسانہ؟
 ہلاک ہونے والے افراد کی وجۂ قتل بیان کرنا قدرے مشکل ہے اور اسی لیے اسے ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جارہا ہے، بدقسمتی سے کراچی کی تاریخ میں گروہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ واقعات اسی کا شاخسانہ ہوں
سیکریٹری داخلہ

انہوں نے کہا کہ پھر سیاسی طور پر استحکام آیا اور کئی برسوں سے اس قسم کی وارداتیں نظر نہیں آرہی تھیں لیکن اب عام انتخابات کے بعد ایسی وارداتیں دوبارہ ہونا شروع ہوگئی ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی نشانہ بن رہے ہیں جو سیاسی کارکن ہیں۔

شرف الدین میمن کہتے ہیں کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ان واقعات کی وجوہات معلوم کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش بھی کریں اور جہاں تک سی پی ایل سی کا تعلق ہے تو وہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاہم شرف الدین میمن کے بقول امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے پولیس کے محکمہ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

محکمہ داخلہ کے سیکریٹری عارف احمد خان کہتے ہیں کہ جوں ہی یہ اندازہ ہوا کہ اس قسم کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس بات کے اشارے ملے کہ جان بوجھ کر کچھ لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو صوبائی وزیرداخلہ کی صدارت میں ایک اجلاس طلب کیا گیا جس میں محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شریک تھے اور اجلاس میں ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں پر قابو پانے کے لیے حکمتِ عملی طے کی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت جلد ہی ان واقعات کا سدباب کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

اسی بارے میں
بیٹھو گے یا لیٹو گے؟
15 August, 2005 | پاکستان
کراچی میں پولیس آپریشن
16 July, 2004 | پاکستان
کراچی میں فائرنگ دو ہلاک
05 July, 2004 | پاکستان
کراچی میں ہڑتال، فائرنگ
14 May, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد