BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی، کمیٹی کا اجلاس آج

آصف زرداری اور نواز شریف
آصف زرداری اور میاں نواز شریف نے دو روزہ بات چیت کے بعد منگل کو کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے برطرف شدہ ججوں کی بحالی کے لیے حکمران اتحاد چھ رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج شام چھ بجے ہورہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا ہے کہ یہ کمیٹی اعلانِ بھوربن میں مقرر کردہ مدت کے اندر ججوں کی بحالی کے بارے میں قرار داد پارلیمان میں پیش کردے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کے چئرمین وزیر قانون فاروق نائیک ہوں گے۔ کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے میاں رضا ربانی، وزیر اطلاعات شیری رحمٰن اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک شامل ہوں گے۔

مسلم لیگ نواز کی طرف سے سینئر وزیر چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وزیر پیٹرولیم خواجہ آصف کمیٹی کے اراکین مقرر کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی قانونی معاونت خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور زاہد فخرالدین کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہوں آصف زرداری اور میاں نواز شریف نے دو روزہ بات چیت کے بعد منگل کو کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

صدیق الفاروق کا دعویٰ ہے کہ یہ کمیٹی صرف ججوں کی بحالی کی قرار داد پر غور کرے گی اور عدالتی پیکیج پر بعد میں بات ہوگی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمیٹی قرارداد اور پیکیج دونوں کو حتمی شکل دے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس تین نومبر کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت عدالت اعظمیٰ اور چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے تقریبا ساٹھ کے قریب ججوں کو برطرف کیا تھا۔ بعد میں ایک درجن کے قریب برطرف ججوں نے صدر مشرف کے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھالیا تھا۔

لیکن باقی ججوں نے صدر مشرف کے حکم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حلف نہیں اٹھایا تھا، جن کی بحالی کے لیے وکلاء نے ملک بھر میں تحریک چلائی اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد کامیابی حاصل کرنے والی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے برطرف ججوں کو حکومت بننے کے تیس روز کے اندر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن حکومت بننے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ججوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات متعارف کرانے کے سوال پر اختلافات پیداہو ہوگئے۔

مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ پہلے ججوں کی بحالی کی قرارداد پیش کی جائے جبکہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ قرارداد کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان بھر میں وکلاء کے نمائندوں نے ڈیڈ لائن دی ہے کہ اگر تیس اپریل تک جج بحال نہ ہوئے تو وہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد