’کوئی مائنس ون فارمولا نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججوں کی بحالی کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے علاوہ باقی ججوں کی بحالی یعنی ’مائنس ون‘ کا کوئی فارمولا زیر غور نہیں اور اس بارے میں خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ بدھ کی شام گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے جو کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا وہ بن چکی ہے اور اس کا پہلا اجلاس بدھ کو ان کی سربراہی میں ہوا ہے۔ انہوں نے کمیٹی میں زیر غور امور کی تفصیلات تو نہیں بتائیں البتہ اتنا کہا کہ ’ہم ایسا کام کرنا چاہتے ہیں کہ آئندہ کوئی ڈکٹیٹر آئین کو پامال نہ کرسکے اور کوئی جج کسی آمر کو تحفظ فراہم نہیں کرسکے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کسی فرد کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے بلکہ عدلیہ کو بطور ادارہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ فاروق نائیک نے دعویٰ کیا کہ حکومت ججوں کی بحالی اور عدلیہ کو مستحکم کرنے کے بارے میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق طے کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے کوئی ماورائے آئین قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے ججوں کی بحالی کے بارے میں وقت کا تعین تو نہیں کیا لیکن کہا کہ بہت جلد یہ معاملہ پارلیمان میں پیش کردیا جائے گا۔ قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے جن ججوں کو معطل کیا تھا ان کی بحالی کے لیے حکمران اتحاد نے چھ رکنی کمیٹی بنادی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی اعلانِ بھوربن میں مقرر کردہ مدت کے اندر ججوں کی بحالی کے بارے میں قرار داد پارلیمان میں پیش کردے گی۔ صدیق الفاروق کے مطابق کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے میاں رضا ربانی، وزیر اطلاعات شیری رحمٰن اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک، جبکہ مسلم لیگ نواز کی طرف سے سینئر وزیر چودھری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وزیر پیٹرولیم خواجہ آصف کمیٹی نامزد کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی قانونی معاونت خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور زاہد فخرالدین کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہوں آصف زرداری اور میاں نواز شریف نے دو روزہ بات چیت کے بعد منگل کو کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ صدیق الفاروق کا دعویٰ ہے کہ یہ کمیٹی صرف ججوں کی بحالی کی قرار داد پر غور کرے گی اور عدالتی پیکیج پر بعد میں بات ہوگی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمیٹی قرارداد اور پیکیج دونوں کو حتمی شکل دے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس تین نومبر کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت عدالت اعظمیٰ اور چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے تقریباً ساٹھ کے قریب ججوں کو برطرف کیا تھا۔ بعد میں ایک درجن کے قریب برطرف ججوں نے صدر مشرف کے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھالیا تھا۔ لیکن باقی ججوں نے صدر مشرف کے حکم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حلف نہیں اٹھایا تھا، جن کی بحالی کے لیے وکلاء نے ملک بھر میں تحریک چلائی اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد کامیابی حاصل کرنے والی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے برطرف ججوں کو حکومت بننے کے تیس روز کے اندر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن حکومت بننے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ججوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات متعارف کرانے کے سوال پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ پہلے ججوں کی بحالی کی قرارداد پیش کی جائے جبکہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ قرارداد کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں۔ یاد رہے کہ پاکستان بھر میں وکلاء کے نمائندوں نے ڈیڈ لائن دی ہے کہ اگر تیس اپریل تک جج بحال نہ ہوئے تو وہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کریں گے۔ | اسی بارے میں ’ججوں کے بحالی معاہدہ کےمطابق‘22 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا21 April, 2008 | پاکستان ’جج بحال نہ ہوئے تو کابینہ سے باہر‘22 April, 2008 | پاکستان 3 مئی کولائحہ عمل بتائیں گے، وکلاء22 April, 2008 | پاکستان صدر کو مانتا ہوں نہ گورنر کو: کھوسہ22 April, 2008 | پاکستان متحدہ،پیپلز پارٹی میں اصولی اتفاق22 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||