BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 April, 2008, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں

نواز شریف، آصف زرداری
مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں
مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف دبئی روانہ ہورہے ہیں جہاں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جس میں عدلیہ اور ججوں کی بحالی کے معاملے کو آخری شکل دی جائے گی۔

شہباز شریف کے ساتھ مسلم لیگ نواز کا ایک وفد بھی دبئی جار رہا ہے جس میں چودھری نثار علی خان،خواجہ آصف اور پنجاب میں ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے کے نامزد قانون دان خواجہ حارث شامل ہے۔

یہ بات اتوار کو وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کراچی سے دبئی جاتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے طلب کیے جانے پر دبئی جارہے ہیں جہاں کل مسلم لیگ کے رہنماء شہباز شریف بھی پہنچیں گے اور ججوں کی بحالی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے دبئی روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ ان کو پارٹی کے شریک چئرمین آصف زرداری نے بلایا ہے جو اس وقت دبئی میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پپلزپارٹی یا آصف زرداری ججوں کی بحالی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ’مگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ عدلیہ اور ججوں کی بحالی قانون اور آئین کے دائرے میں ہو تاکہ کل اس پر کوئی آنچ نہ آئے اور نہ ہی کوئی انگلی اٹھا سکے‘

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری دونوں رہنماؤوں کی سوچ مثبت ہے، دونوں چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہو، قانون کی بالادستی ہو اور آزاد عدلیہ ہو، لہذٰا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان ججوں یا کسی اور معاملے پر ہم آہنگی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک صدر سے تصادم کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی تصادم ہوگا، ہاں قانون میں کئی جگہ میں سمجھتا ہوں کہ الجھنیں آسکتی ہیں اور ان ہی الجھنوں کو دور کرنے کے لئے پیر کو اجلاس ہوگا جس میں تمام امور کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر موجودہ سپریم کورٹ ججوں کی بحالی کے اقدام کو کالعدم قرار دیتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کیا قدم اٹھائے گی، انہوں نے کہا کہ ابھی اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہے لیکن پھر بھی اگر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیتی ہے تو پھر اُس وقت دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ایسا فیصلہ کرے کہ سپریم کورٹ کے پاس بھی اس سلسلے میں کوئی جواز نہ بنے کہ وہ ججوں کی بحالی کو کالعدم قرار دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہتی ہے کہ جس کے دور رس مثبت نتائج سامنے آئیں اور افراد یا اداروں میں تصادم کی فضاء پیدا نہ ہو۔
کیا ججوں کی بحالی کا معاملہ تیس اپریل تک ممکن ہوسکے گا اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جہاں قوم اور وکلاء نے اتنا صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہیں چند دن اور ٹھہر جائیں اور حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی وہ عوام، وکلاء اور عدلیہ سب کی بہتری میں ہوگا۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے معزول ججوں کی بحالی کے معاملہ پر ملاقات کی۔ رائےونڈفارم پر ہونے والی اس میں ملاقات میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان، منیر اے ملک ،جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے علاوہ سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں امین جاوید،غلام بنی بھٹی،لاہور ہائی کورٹ بار صدر انور کمال، سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی،لاہور بار کے صدر منظور قادر ، اطہر من اللہ اور شکیل ہادی شامل تھے۔

اعتزاز احسن کے بقول نواز شریف نے ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ شیڈول کے مطابق تمام معاملات طے ہونگے۔ان کے مطابق وکلا رہنماؤں کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وکلاء رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تیس اپریل سے پہلے ان جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی جائے گی جہنوں نے اعلان مری پر دستخط کیے تھے تاکہ ان کو اپنے خیالات کے بارے میں آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید اور لاہور بار کے صدر منظور قادر نے بتایا کہ نواز شریف نے کہا کہ اعلان مری کے تحت تیس دنوں میں جج اپنے عہدوں پر بحال ہونگے۔

ملاقات کے دوران وکلا رہنماؤں نے اس بات زور دیا کہ معزول ججوں کو تیس دنوں کی مقررہ مدت میں ان کے عہدے پر بحال کیا جائے۔

ملاقات میں موجود ایک وکیل رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایاکہ نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون اعلان مری سے انحراف نہیں کرے اور معاہدے کی پاسداری نہ ہونے پر ان کے وزراء استعفے دے دیں گے۔

دریں اثناء وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان نے لاہور میں عدلیہ کی بحالی کے لیے جیل روڈ سے ایک ریلی نکالی اور جلوس کی شکل میں جی او آر میں سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔
ریلی میں شامل افراد نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر اور کتبے اٹھارکھے تھے جن پر عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے عبارتیں درج تھیں۔

سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل رمدے نے ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا تحریک کا مقصد ججوں کی نوکریاں بحال کرانا نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حکمرانی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد بھی وکلا اپنی تحریک کو جمہوریت کے لیے جاری رکھیں۔

بعدازں ریلی کے شرکاء گورنر ہاؤس کے باہر کے احتجاجی مظاہرہ کیا اور عدلیہ کے بحالی کے لیے نعرے لگائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد