’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی مخلوط حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ملک کے عدالتی بحران کے حل کے لیے بات چیت دبئی میں جاری ہے۔مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوا ہے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ مسلم لیگ نون کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ مذاکرات سات گھنٹے جاری رہے اور بات چیت کا دوسرا دور آج رات کو ہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی بھی ملتوی ہوگئی ہے۔ ججوں کی بحالی کے لیے اعلان مری کے تحت مقرر کردہ ڈیڈ لائن بدھ کو ختم ہورہی ہے لیکن تاحال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ اجلاس میں برطرف ججوں کی بحالی کا طریقہ کار طے کرنے کے بارے میں مشاورت ہونی ہے۔ سات گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما اور سینئر وزیر چودہری نثار علی خان نے صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم کچھ قانونی اور آئینی نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔ اس سے قبل دو گھنٹے جاری رہنے والی ایک غیر رسمی اجلاس کے بعد میاں نواز شریف نے ہوٹل کے باہر اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ ’اختلافی نکات پر غیر رسمی گفتگو‘ ہوئی ہے جبکہ رسمی اجلاس ہونا باقی ہے۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ کے درمیان اس معاملے پر پہلے ہی سے اتفاق ہے اور اب چھوٹے چھوٹے معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔
بات چیت کے بارے میں فریقین مقامی قوانین کے پیش نظر سرکاری طور پر یہ تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کے درمیان سیاسی امور پر بات ہو رہی ہے۔ ججوں کی بحالی کے لیے دونوں جماعتوں نے حکومت بنانے سے پہلے اعلان مری میں عہد کیا تھا کہ حکومت سازی کے تیس دن کے اندر تمام جج بحال ہوں گے۔ لیکن حکومت سازی کی تشریح دونوں جماعتیں مختلف انداز میں کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن وفاقی کابینہ کے حلف سے شروع ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں میں حکومتوں کے قیام کے بعد سے اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ فریقین میں اب تک بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہیں لیکن تاحال اختلاف رائے ختم نہیں ہوسکا۔ مسلم لیگ (ن) کا اصرار ہے کہ پہلے ججوں کی بحالی کے لیے قرار داد پارلیمان میں پیش کی جائےاور وزیراعظم ایگزیکیٹو حکم سے ججوں کی بحالی کا اعلان کریں اور بعد میں عدالتی اصلاحات کا پیکیج منظور کیا جائے۔ لیکن پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ قانون کے مطابق سپریم کورٹ میں سترہ سے زیادہ جج نہیں ہوسکتے اور اِس وقت پہلے ہی اِس تعداد میں جج کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول برطرف جج بحال کرنے سے ان کی تعداد ستائیس ہوجائے گی اور ایسے میں ان کی بحالی سے پہلے متعلقہ قانون میں ترمیم کرنی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی بہت ساری قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں اور انہیں آئینی ترامیم کے پیکیج کی منظوری کے بنا ججوں کی بحالی کا فیصلہ کئی اور سوالات کو جنم دے سکتا ہے جبکہ مسلم لیگ اور ان کے قانونی ماہرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان زرداری اور شہباز، دبئی میں ملاقات28 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||