زرداری اور شہباز، دبئی میں ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف کے درمیان ججوں کی بحالی کے سلسلے میں فیصلہ کن مذاکرات سوموار کو دبئی میں ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ شہباز شریف کی قیادت میں ایک وفد اتوار کی شب لاہور سے دبئی روانہ ہوا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پہلے ہی سے موجود ہیں۔ وفد کے ارکان میں مسلم لیگ نون کے رہنما چودھری نثار علی خان، خواجہ آصف اور پنجاب میں ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے کے نامزد قانون دان خواجہ حارث شامل ہے۔ آصف علی زرداری نے اتوار کو دبئی سے واپس پاکستان آنا تھا لیکن ان کے وطن واپس نہ آنے کی وجہ سے مسلم لیگ نون کا وفد دبئی روانہ ہو گیا۔ دوسری جانب سے آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو دبئی طلب کر لیا ہے۔ ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے معزول ججوں کی بحالی کے معاملہ پر ملاقات کی۔ رائےونڈفارم پر ہونے والی اس میں ملاقات میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدرو حامد خان، منیر اے ملک، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے علاوہ سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں امین جاوید، غلام نبی بھٹی، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال، سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی، لاہور بار کے صدر منظور قادر، اطہر من اللہ اور شکیل ہادی شامل تھے۔
اعتزاز احسن کے بقول نواز شریف نے ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ شیڈول کے مطابق تمام معاملات طے ہونگے۔ ان کے مطابق وکلا رہنماؤں کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تیس اپریل سے پہلے ان جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی جائے گی جہنوں نے اعلان مری پر دستخط کیے تھے تاکہ ان کو اپنے خیالات کے بارے میں آگاہ کریں۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید اور لاہور بار کے صدر منظور قادر نے بتایا کہ نواز شریف نے کہا کہ اعلان مری کے تحت تیس دنوں میں جج اپنے عہدوں پر بحال ہونگے ۔ دریں اثناء وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے لاہور میں عدلیہ کی بحالی کے لیے جیل روڈ سے ایک ریلی نکالی اور جلوس کی شکل میں جی او آر میں سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ ریلی میں شامل افراد نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے عبارتیں درج تھیں۔ سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل رمدے نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کا مقصد ججوں کی نوکریاں بحال کرانا نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حکمرانی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد بھی وکلاء اپنی تحریک کو جمہوریت کے لیے جاری رکھیں۔ بعدازاں ریلی کے شرکاء گورنر ہاوس کے باہر کے احتجاجی مظاہرہ کیا اور عدلیہ کے بحالی کے لیے نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں: شریف26 April, 2008 | پاکستان ’ججوں کے بحران کے حل کےلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||