دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں معطل شدہ ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان دبئی میں جاری مذاکرات طول پکڑ گئے ہیں اور ان کا دوسرا دور جمعرات کو ہو رہا ہے۔ مخلوط حکومت میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان بدھ کو مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ آصف زرداری اور میاں شہباز شریف کے درمیان اس ہفتے کے شروع میں دو دن تک مذاکرات ہوئِے تھے لیکن ججوں کی بحالی کے معاملہ پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس کے بعد میاں نواز شریف پاکستان میں اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے منگل کو بغیر کسی پیشگی اعلان کے دبئی پہنچے تھے۔ دریں اثناء مسلم لیگ نون کی طرف سے ججوں کی بحالی کے لیے دی جانے والی تیس دن کی مہلت بھی گزشتہ روز ختم ہو گئی ہے اور اس مسئلہ پر دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز میں دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے دیئے جانے والے بیانات سے اس مسئلہ پر ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح طور میں کہا تھا کہ ججوں کی بحالی ایک آئینی پیکج کے تحت عمل میں لائی جائے گی اور اس آئینی پیکج میں عدالیہ میں اصلاحات کی ترامیم بھی شامل ہوں گی۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے بھور بن میں ہونے والے معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ ججوں کی بحالی ایک آئینی پیکج کے تحت ہوگی۔ دوسری طرف میاں نواز شریف نے دبئی روانگی سے قبل لاہور کے ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اعلان مری کی صورت میں وہ قوم کے سامنے اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت عدلیہ کوایک سادہ قرارداد کے ذریعے دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کیا جانا ہے اور اس کے لیے آخری تاریخ تیس اپریل ہے۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے دبئی میں جاری ان مذاکرات میں ان جماعتوں کے سربراہوں کے علاوہ ان کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان پہلے دور کے اختتام پر دونوں طرف سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ ایک ماہ قبل انہی رہنماؤں کے درمیان اسی مسئلہ پر بھور بن میں ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے جس کے بعد قوم کو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ معطل ججوں کی بحالی کا مسئلہ طے پا گیا ہے ۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان زرداری اور شہباز، دبئی میں ملاقات28 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||