’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر ججوں کی بحالی کے بارے میں وکلاء کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں تو تحریک چلائی جائے گی۔ کراچی میں جمعرات کی شب حبیب جالب یادگار کمیٹی کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دبئی سے خبر کے منتظر اور جب تک دبئی سے کوئی خبر موصول نہیں ہوتی کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی سے کسی اعلان کے بعد وکلاء مشاورت کریں گے اور رات بارہ بجے یا تیس تاریخ کے اختتام پر کوئی تحریک شروع نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا تمام مصروفیات چھوڑ کر دبئی جانا کوئی معمولی بات نہیں اور وہ دبئی میں ہونے والے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط اور بالادست دیکھنا چاہتے ہیں لیکن عدلیہ کے ملبے پر مضبوط پارلیمنٹ کھڑی نہیں کی جاسکتی۔ اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ وکلاء کا یہ مطالبہ ہے کہ جو ججز معزول ہیں وہ بشمول افتخار محمد چودھری بحال ہونا ہے اس میں کوئی مائنس ون فارمولا قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک فلاحی ریاست کا خواب دیکھا تھا مگر اس ملک کو قومی سلامتی کی ریاست بنا دیا گیا ہے، جس میں شہری پہلی ترجیج نہیں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر شہری ریاست کی پہلی ترجیح نہ ہو تو وہ ریاست کمزور ہوتی ہے اور وہ ٹوٹنے کے خطرات سے دوچار رہتی ہے۔ اس تقریب میں اعتزاز احسن کو حبیب جالب ایوارڈ بھی دیا گیا اور انہوں نے اپنی ایک طویل نظم سناکر لوگوں کو گرما دیا۔ اس تقریب کو جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور جج انہوں نے جو صحیح کام کیا انصاف کا دامن نہیں چھوڑا، ظالم کے آگے نہیں جھکے ڈکٹیٹر کی بات نہیں مانی، یا غلط حکم کی تعمیل نہیں کی تو یہ ان کا فرض تھا۔ انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام سے لیکر مختلف ادوار میں متعدد حکمرانوں نے عدلیہ پر حملے کیئے۔ جس کا دفاع گزشتہ ڈیڑھ سال سے وکلاء برداری اور سول سوسائیٹی نے جس طرح کیا ہے وہ روشنی کی کرن ہے۔ رانا بھگوان داس کے کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ سن انیس سو اکاسی میں جب بڑے بڑے ججوں سے اس ملک کو محروم کیا گیا تو سول سوسائیٹی اور وکلاء نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ اس طرح موجودہ حمکمران نے جب سن دو ہزار میں اپنی مرضی سے چند ججوں کو فارغ کردیا تو سول سوسائیٹی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دو ہزار میں پی سی او کے تحت حلف کیوں لیا تو اس وقت سوچ یہ تھی کہ اگر صحیح جج اور باہمت جج قانون اور آئین کے تحت انصاف کرتے رہے تو پی سی او کے تحت حلف برداری ان کے ایمان میں کبھی رخنہ نہیں ڈالے گی۔ اگر سارے ایسے جج عدالتوں سے ہٹ گئے تو فوجی جوانوں کو عدالتوں پر سوار کرادیا جائےگا جس کے بعد انصاف کا ستیا ناس ہوجائیگا اور یہ ادارہ تباہ اور برباد ہوجائےگا۔ | اسی بارے میں ’ایم کیو ایم کراچی کو جلنے سے بچائے‘09 April, 2008 | پاکستان ’امریکہ وکلاء کی مخالفت نہ کرے‘16 March, 2008 | پاکستان احتجاج: بارکونسل کانظرثانی اجلاس15 March, 2008 | پاکستان وکلاء کا ملک گیر احتجاج، مظاہرے06 March, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر وکلاء مطمئن09 March, 2008 | پاکستان ’حکمِ امتناعی آیا تو احتجاج ہو گا‘17 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||