مذاکرات میں’تعطل‘، اب نواز دبئی جائیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کی جانب سے برطرف کردہ ججوں کو بحال کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان دبئی میں ہونے والی بات چیت بظاہر بےنتیجہ ہونے کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آصف علی زرداری سے خود بات چیت کے لیے دبئی روانہ ہو رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک ترجمان پرویز رشید نے بی بی سی سے کو بتایا کہ منگل کی شام میاں نواز شریف دبئی کے لیے روانہ ہوں گے اور امکان ہے کہ بدھ کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کا ایک وفد ججوں کی بحالی کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے آصف علی زرداری سے مذاکرات کرنے دبئی گیا تھا اور ان کی بات چیت کی بظاہر ناکامی کے بعد اچانک میاں نواز شریف نے دبئی جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوموار کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر دبئی میں مذاکرات کے دو دور ہوئے جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ان مذاکرات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت آصف علی زرداری نے کی جبکہ مسلم لیگ نون کے وفد کی سربراہی میاں شہباز شریف کر رہے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ تیس اپریل ججوں کی بحالی کی قرار داد پارلیمان میں پیش کی جائے۔ بصورت دیگر انہوں نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے میاں نواز شریف اب خود آصف علی زرداری بات کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) چار جماعتی حکومت اتحاد کی پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے اور چوبیس رکنی وفاقی کابینہ میں نو اہم وزارتیں مسلم لیگ (ن) کے پاس ہیں۔ وکلاء کے ایک سرکردہ نمائندے جسٹس (ر) طارق محمود کا کہنا ہے کہ تیس اپریل تک ججوں کی عدم بحالی کی صورت میں وکلاء برادری مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دبئی میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی عدلیہ میں اصلاحات کے ایک پیکج کی تحت عمل میں لائی جائے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ کے موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے۔ آئینی پیکج کی تیاری اور اس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بارے میں آصف علی زرداری نے وقت کا تعین کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اس سارے عمل میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان زرداری اور شہباز، دبئی میں ملاقات28 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||