بینظیر کی نئی کتاب میں نئے انکشاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم اور پی پی پی کی سربراہ مرحومہ بینظیر بھٹو نے اپنی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والی کتاب ’ریکنسیلی ایشن: اسلام، ڈیموکریسی اینڈ دی ویسٹ‘ میں لکھا ہے کہ طالبان کے بیت اللہ محسود، بن لادن کے فرزند حمزہ بن لادن کی سربراہی میں شدت پسندوں کے گروپ، اسلام آباد کی لال مسجد کے عسکریت پسند اور کراچي میں قائم ایک گروپ ان پر حملہ کرسکتے تھے۔ بینظیر کی سوانح عمری آئندہ ہفتے شائع کی جائے گی۔ کتاب کے بعض حصے اتوار کو برطانیہ کے اخبار دی سنڈے ٹائمز نے شائع کیے ہیں جس میں محترمہ بینظير نے کہا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والے حملے سے پہلے مشرف حکومت اور ایک مسلم دوست ملک نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے اور چار خودکش بمبار دستے ان پر حملہ کرنے کو تیار ہیں۔ جن میں سے ایک خود کش بمبار دستے کی سربراہی اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کریں گے۔ کتاب میں انھوں نے لکھا ہے ’جلاوطنی کے بعد جب میں پاکستان واپس آئی تھی تو مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں زندہ رہوں گي یا مار دی جاؤں گي۔ مجھے پتہ تھا جن عناصر نے میرے والد کا قتل کیا اور انیس سو ستتر میں ملک میں جمہوریت کا خاتمہ کیا، اب وہ اسی مقصد سے میری جان کے پیچھے ہیں۔‘
بی بی نے مزید لکھا ہے کہ ’ ایک مسلم دوست ملک نے مجھ پر خودکش حملہ کرنے والوں کے نام اور موبائیل نمبر بھیجے تھے۔‘ کتاب میں انھوں نے مزید لکھا ہے ’مجھے مشرف حکومت اور ایک مسلم دوست ملک نے بتایا تھا کہ چار خودکش بمبار دستے مجھ پر حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ حملے طالبان کے بیت اللہ مسعود، حمزہ بن لادن، لال مسجد کے انتہا پسند اور کراچی میں واقع ایک عکسریت پسند گروپ کی قیادت میں کیے جائیں گے۔‘ اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے حوالے سے بی بی نے مزید لکھا ہے ’ مشرف حکومت کو مجھ پر ہونے حملوں کی خبر تھی۔ جو لوگ مجھے مار سکتے ہیں ان کے نام اور نمبر بھی مشرف حکومت کے پاس تھے۔ اس کے علاوہ انہیں ان افراد کے نام بھی معلوم تھے جو خود ان کی پارٹی اور ان کے احباب میں تھے اور جو مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ میری تمام درخواستوں کے بعد بھی مشرف حکومت نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ میرے ملک آنے سے پہلے ان وارننگز سے متعلق کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔‘ اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے بی بی نے لکھا ہے کہ انہیں شک ہے کہ جس آدمی کی گود میں بچہ تھا وہی حملہ کرنے والا پہلا خودکش حملہ آور تھا۔ ’بعد میں مجھے پتہ چلا لاہور میں ایک میٹنگ میں مجھ پر حملے کی سازش رچی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایک مخالف سیاسی جماعت کی طرف سے تین افراد کو اس حملے کو انجام دینے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دیئے گئے تھے۔ میرے ذرائع کے مطابق ان کے نام سجاد، اعجاز ہیں اور تیسرے کا نام میں بھول رہی ہوں ‘ محترمہ کی کتاب ابھی منظر عام پر نہیں آئی لیکن کتاب کے جو اقتباسات سنڈے ٹائمز میں شائع کیا گئے ہیں ان سے اٹھارہ اکتوبر کو ان پر ہونے والے حملے، ستائیس دسمبر کو ان کی ہلاکت اور مشرف حکومت کی طرف سے انکی سیکورٹی میں کوتاہی سے متعلق تمام سوالات عالمی میڈیا میں ایک بار پھر اٹھ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں متحدہ بھی یو این تحقیقات کی حامی31 January, 2008 | پاکستان تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ11 January, 2008 | پاکستان انتخابات کا حتمی فیصلہ آج، انعقاد میں’چند ہفتے‘ کی تاخیر کا خدشہ31 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی28 December, 2007 | پاکستان نقصان کے تخمینے کے لیے کمیشن قائم 05 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی04 January, 2008 | پاکستان ’قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں‘03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||