نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس، سپیکر منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی کی نئی سپیکر منتخب ہوگئی ہیں۔ پارلیمان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون سپیکر کے عہدے پر منتخب ہوئی ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے نئے سپیکر کے لیے ووٹنگ ہوئی تو پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کی نامزد امیدوار فہمیدہ مرزا نے 249 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ (ق) کے امیدوار سردار اسرار ترین نے 70 ووٹ حاصل کیے۔ سپیکر کے لیے ووٹنگ کے لیے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف شریک نہیں ہوئے۔ پولنگ کے لیے دو بوتھ بنائے گئے جبکہ شفاف بیلٹ باکس ایک ہی رکھا گیا۔ بدھ کو اجلاس مقررہ وقت (گیارہ بجے) سے پون گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا تو سب سے پہلے سپیکر نے دو نومنتخب اراکین جن میں مسلم لیگ فنکشنل کی رینا کماری اور فرزانہ مشتاق نے حلف اٹھایا۔
قومی اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنے اراکین کی تعداد سے بیس ووٹ زیادہ ملے جبکہ مسلم لیگ (ق) اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنی تعداد سے گیارہ ووٹ کم ملے۔ تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں بعض حلقوں میں انتخاب نہ ہونے اور بعض کے نتائج عدالتوں سے روکنے کے بعد اس وقت قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد تین سو چونتیس ہے۔ لیکن سپیکر کے انتخاب کے لیے تین سو چوبیس اراکین نے ووٹ ڈالے یعنی دس اراکین نے ووٹ نہیں ڈالے۔ ڈالے گئے ووٹوں میں سے پانچ مسترد ہوگئے جبکہ تین سو انیس ووٹ جائز قرار پائے۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 121، مسلم لیگ نواز کے 91، عوامی نیشنل پارٹی کے 13 ، جمیعت علماء اسلام (ف) کے 6 اراکین ہیں اور ان کے کل اراکین کی تعداد 231 بنتی ہے۔ جاوید ہاشمی جو تین حلقوں سے منتحب ہوئے ان کے دو حلقے چھوڑنے کی وجہ سے حکومتی اتحاد کی تعداد دو سو انتیس بنتی ہے۔
جبکہ مسلم لیگ (ق) کے 51 ، متحدہ قومی موومینٹ کے پچیس اور مسلم لیگ فنکشنل کے پانچ اراکین پر مشتمل اپوزیشن کے کل اراکین کی تعداد 81 بنتی ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن اور مولوی عصمت اللہ سمیت پیپلز پارٹی کے بعض حامیوں نے ووٹ ہی نہیں ڈالا لیکن پھر بھی ان کی سپیکر کی امیدوار کو 249 ووٹ ملے۔ لگتا ہے کہ منظور احمد وٹو سمیی ملک کے مختلف حصوں اور قبائلی علاقوں سے منتخب زیادہ تر آزاد اراکین نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور مولوی عصمت اللہ کے بعض حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ عورت کی ’امامت‘، کے خلاف ہیں حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن ماضی میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی نے کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مخدوم امین فہیم اور آصف علی زرداری میں وزیراعظم کی نامزدگی کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافاف ختم ہوگئے ہیں اور توقع ہے کہ امین فہیم کو پارلیمانی رہمناء مقرر کیا جائے گا۔ تاہم پارلیمانی روایات کے برعکس قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کو وزیر اعظم نامزد نہیں کیا جائےگا اور وزیر اعظم کسی اور رکن کو نامزد کیا جائے گا جس کا نام ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں اسمبلی اجلاس، میلے جیسا سماں17 March, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی: اراکین نے حلف اٹھالیا17 March, 2008 | پاکستان سرحد: سپیکر ڈپٹی سپیکر نامزد17 March, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی: سپیکر اور ڈپٹی17 March, 2008 | پاکستان مرکز: وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق18 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد کا مصروف ترین ’ہاؤس‘18 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||