حسن مجتبی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک |  |
 | | | یہ وہ جماعت ہے جو اعتزاز احسن کو اپنے سے پرے کر دیتی ہے |
پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں مشکل سے دس بار ہونے والے عام انتخابات کی طرح جنوری دو ہزار آٹھ میں بھی ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے انتخابات کی ’شفافیت اور غیر جانبداری‘ کا ایک اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے۔ نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کے آبائی شہر جیکب آباد میں ان کی بہن اور بھانجے کے ممکنہ مد مقابل مسلم لیگ نواز کے امیدوار عزیز ابڑو مقامی تھانے میں پولیس کے ہاتھوں الٹا لٹکائے جانے کے بعد اب جیل میں سڑ رہے ہیں۔ عزیز ابڑو کو محمد میاں سومرو کے حلف اٹھانے کے فوراً بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اسی طرح پاکستان میں انتخابی دھاندلیوں کی کہانی جیکب آباد کی طرح ملک کے ہر علاقے، حلقے اور اب تک ہونیوالے انتخابات کی ایک جیسی ہی کہانی ہے۔  | | | سومرو خاندان سیاست میں سرگرم رہا ہے | کل تک حمکران مسلم لیگ قاف کے کور کمانڈروں یعنی گجرات کے چودھریوں پر ان کے مخالف پیپلزپارٹی کے امیدوار قمرالزمان نے الزام لگایا ہے ان کے حلقے میں ووٹروں کو ہراساں کرنے کیلیے وجاہت فورس کے نام پر ایک خانگی ملیشیا بنائي گئی ہے۔ اور یہی کہانی سندھ میں تھرپارکر کے اربابوں اور دادو میں جتوئیوں کی ہے۔ زبان خلق کہتی ہے تھر میں اربابوں نے سرحد پار رہنے والے اپنے ہزاروں ہم قبیلہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں میں داخل کروائے ہوئے ہیں۔ انیس سو پچاس کی دہائي میں پاکستانی اسٹبلشمینٹ نے اسوقت سے انتخابات کا جھرلو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں ان کے اندازوں کے بر خلاف شیر بنگال کہلانے والے چودھری فضل الحق کی سربراہی میں بنگالی قوم پرستوں کا اتحاد جگتو فرنٹ بھاری اکثریت سے جیت کر آیا تھا۔  | | | متنازعہ انتخابات کا فائدہ ہمیشہ اقتدار میں رہنے والے مخصوص خاندان اٹھاتے رہے ہیں | انیس سو ساٹھ میں ایوب خان کے دنوں میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں جب ملک کے بانی کی ہمشیرہ ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے حق میں ملک کی تبکی حزب اختلاف اور ایک طرح کی سول سوسائٹی کےساتھ میں ایوب خال کےخلاف اٹھ کر کھڑی ہوئی تھیں۔ لالٹین کے انتخابی نشان والی مس فاطمہ جناح کےخلاف پھول کے انتخابی نشان والے صدر ایوب نے اپنے حق میں زبردست دھاندلیاں کروائيں۔ لیکن بالغ رائے دہی یا فی بالغ فی ڈاریکٹ ووٹ کے انتخابات ایک اور فوجی حمکران یحیٰ خان کی حکومت میں جسٹس سجاد جان (وسیم سجاد کے والد) کی سربراہی میں قائم الیکشن کمیشن کے دنوں میں ہوئے تھے جنہیں مغربی پاکستانی غیر جانبداراہ انتخابات کہتے ہیں جن کے نتیجے میں تب کے مغربی پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ سے ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور بلوچستان اور سرحد سےعبدلولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی اور مفتی محمود کی جمیعت علمائےاسلام (جے یو آئي) اور سابقہ مشرقی پاکستان سے پاکستانی اسٹبلشمینٹ کی توقعات کے برخلاف شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ بھاری اکثریت سے جیت کر آئي تھی۔ بلوچستان سے بلوچ قومپرست رہنما خیر بخش مری تب کے تمام مغربی پاکستان میں سب سے زیاد ہ ووٹ لےکر قومی اسمبلی کی نشست سے انتخابات جیت کر آئے تھے۔
 | | | اعتزاز نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے |
جب کہ ڈاکٹر حئي بلوچ جیسے نچلے متوسط طبقے کے آدمی نے خان آف قلات کے بیٹے کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ ستر کے انتخابات اس لیے ہر گز غیر جانبدرارانہ نہیں تھے کہ یحییٰ خان اور ان کے فوجی ٹولے نے اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے جیت کر آنےوالے شیخ مجیب الرحمان اور ان کی عوامی لیگ کو حکومت بنانے کے بجائے اس پر فوجی چڑہائي کی اور نتیجے میں ملک دو لخت ہوگیا۔ اور اب بھی اس سے کئي گنا زیادہ جنرل مشرف نے ملک کو ایسے پرخطر حالات سے دوچار کیا ہوا ہے۔ باقی ماندہ پاکستان میں اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے سے قبل ہی ذولفقار علی بھٹو کی حکومت نے انتخابات کروائے اور ان میں دھاندلیوں کے نتیجے میں انہیں حکومت اور جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ بھٹو کے آبائی حلقے لاڑکانہ میں جماعت اسلامی کے رہمنا مولانا جان محمد عباسی کو تب کے لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر خالد کھرل اور سندھ میں وزیر اعلی غلام مصطفی جتوئی کی انتظامیہ کے تحت اغوا کیا گیا تھا۔  | | | نواز شریف کی جماعت بھی متنازعہ انتخابات کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے | اگر جان محمد عباسی اغوا نہ بھی ہوتے تب بھی بھٹو جیت سکتے تھے لیکن آپ یہ آسانی سے نہیں کہ سکتے کہ بھٹوئوں کو زیادہ دشمنوں نے مارا ہے کہ دوستوں نے! وہی ڈپٹی کمشنر خالد کھرل پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے رہمنااور کمالیہ سے رکن قومی اسبملی اور وزیر بنتے آئے ہیں۔ یہ وہ جماعت ہے جو، بقول شخصے، ٹکا خان اور رحمان ملک کو بھی اپنی پہلی صف میں جگہ دے دیتی ہے لیکن اعتزاز احسن کو اپنے سے پرے کر دیتی ہے۔ بھٹو کی انیس سو ستتر میں انتخابات کی دھاندلیوں اور اس کے خلاف دائيں بازو کی تحریک پی این اے یا نو ستاروں کے درمیان محاذ آرائي کو بہانہ بناتے ہوئے جنرل ضیا ءالحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے ملک کو مارشل لاء سے دوچار کردیا اور ان کے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کی خانہ کعبہ میں قسم گيارہ سال تک محیط رہی۔  | | | جام صادق علی سیاسی مخالفیں کے لیے |
ان کے انتخابات سے ٹال مٹول پر لطیفہ بنا تھا کہ ان کے بال کاٹنے والے نائی نے ایک دفعہ بال کاٹتے ہوئے ان سے جب بار بار سوال کیا کہ ’سر آپ ملک مین انتخابات کیوں نہیں کروا رہے؟‘ تو جنرل ضیاء نائی پر خفا ہوگئے اور اس پوچھا ’یہ تم مجھ سے بار بار کیوں پوچھ رہے ہو کیا تمہیں بھی انتخاب لڑنا ہے۔‘ تو نائی نے کہا کہ نہیں جناب! مجھے تو آپ کے بال کاٹنے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے آپ کے بال بہت سخت ہیں لیکن جب میں انتخابات کا نام لیتا ہوں تو آپ کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں اور مجھے کاٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔ تو اگر آپ نے، بقول شخصے، جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی والی تقریر کے دوران ان کا ہئیر اسٹائيل دیکھا تھا تو وردی اتارنے کے معاملے پر ان کے بالوں کا بھی کچھ یہی حال تھا۔
انیس سو پچاسی میں جنرل ضیاءالحق کو’غیر جماعتی‘ انتخابات کروانے پڑے جس کے نتیجے میں جو لاٹ سامنے آئی وہ یوننین کونسل کے لائق بھی نہیں تھی اور اس کا خمیازہ آج بھی پورا ملک بھگت رہا ہے۔ ضیاء کے غیر جماعتی اور جداگانہ طرز انتخابات میں جہاں ان کے جماعتیوں نے حصہ لیا وہاں سندھ کے سابق وزیر اعلی عبداللہ شاہ سمیت نواب شاہ سے زرداری بھی شامل تھے جو بحرحال ہار گئے تھے۔ بارہ سال بعد انیس سو اٹھاسی میں عام انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تو سہی لیکن اب پاکستانی اسٹتبلشمینٹ نے ایوان صدر اور آئی ایس آئی میں قائم سیلوں مں ریڈی میڈ نتیجوں، آئی جے آئی جیسے اتحاد، لسانی گروہ، یک نشستی وزیر اعلیٰ اور معلق ایوان جیسی ایجاد کےمعنی تخلیق کرلے۔ کچھ سیاسی معجزوں (جن میں پرویز علی شاہ جیسے پیپلز پارٹی کے لیڈر نےپیر پگاڑو کو ان کے حلقے سے ہرادیا اور پیر پگاڑو کے ہی مرید لیکن پی پی پی امیدوار رحمت اللہ بھین نے مورو سے غلام مصطفی جتوئی کو) بینظیر بھٹو نے فوج سے مشروط اقتدار قبول کرلیا۔ اب وہ ایسی پیپلزپارٹی تھی جس کے لیے آصف علی زرداری کہتے رہے ہیں کہ وہ انہیں جہیز میں ملی ہے۔ اقتدار سے بیس ماہ تک ہنی مون کی کیفیت میں رہنے کے بعد بینظیر بھٹو کی حکومت کو ان کے ہی منتخب کروائے ہوئے صدر غلام اسحاق خان (جنہیں نوابزہ نصراللہ خان پر ترجیح دی تھی) نے بدعنوانی کے نام پر چلتا کرتے ہوئے انتخابات کا اعلان کیا۔غلام مصطفی جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت بنائي گئي جس نے اکتوبر انیس سونوے میں انتخابات کروائے جن کے اب خود حلف لینے والے نگران وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی اعتراف کرچکے ہیں کہ ان میں دھاندلی ہوئي تھی۔
 | | |
کہتے ہیں کہ جنرل رفاقت کی سربراہی میں ایوان صدار میں قائم سیل کے نتیجے دینے پر جام صادق علی نے تو غلام اسحاق خان سے یہ بھی اجازت مانگی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو خود بینظیر بھٹو کو ان کے آبائی حلقے لاڑکانہ سے بھی ہروا سکتے ہیں۔ سانگھڑ میں جام صادق علی کے حق میں دھاندلی اور دھونس کروانے والے ایس ایچ او اور ڈی آئی جی لگے ہوئے ہیں۔ انیس سو نوے سے لیکر انیس سو ترانوے تک اور پھر انیس سو ستانوے سے لیکر اب تک صوبہ سندھ پیپلزپارٹی کا اکثریتی ووٹ بینک رہا ہے لیکن سندھیوں کو اپنے ووٹ سے محروم رکھنے کا طریقہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مافیائوں کی طرح یہ نکال لیا کہ وہ ایک نشست پر جیت کر آنیوالے ڈان ٹائیپ لوگوں کو سندھ پر وزیر اعلیٰ مسلط کر دیں گے۔ وہ لوگ جوعملی طور شکارپور میں جوئے کے اڈے چلایا کرتے اور ڈاکو پالا کرتے تھے وہ حکمران پارٹی کے مرکزی سربراہ بن گئے۔ یہی مشق پنجاب میں نواز شریف سے بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران کی گئی جہاں وٹو کو و زیراعلی بنا دیا گیا۔ پھروٹو کو ہٹا کر تمام پنجاب کا چارج فیصل صالح حیات کو دے دی گیا۔
انیس سو ستانوے میں فاروق لغاری کی صدرات میں انتخابات کچھ یوں ہوئے کہ ’بھاری بھر کم مینڈیٹ‘ نتائج آگے تھے اور الیکشن پیچھے پیچھے۔ نواز شریف کو وزیر اعلی پنجاب سے ترقی دیکر وزیر اعظم بنادیا گيا۔ جو باقی کچھ ہے اب اس ملک کی فرجی اسٹبلشمنٹ کے سائے تلے دھاندلیوں سے بھری تاریخ ہے۔ سنہ دو ہزار دو میں ہونیوالے مشرفی انتخابات میں سرجد اور بلوچستان میں قومپرستوں کو روکنے کیلیے مدرسوں کی سندوں کو گریجوئیشن کے مساوی کرکے ملائوں کو جتواکر نیب زدہ مسلم لیگ قاف کی مخلوط حکومتیں بنوا دی گئيں۔ لیکن مشرف کی صدرات میں الیکشن اور نگران ا نتظامیہ اور عدلیہ کی جو شکل ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یار زندہ صحبت باقی ٹائیپ ملک میں کہیں آئندہ اتنخابات اقوام متحدہ کی نگرانی میں کروانے کے نہ مطالبات ہو رہے ہوں کیونکہ اب اسے فوج اور عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات کراونے کی بات کرنے والے خود اسپر پانی پانی ہوتے ہونگے۔ |