’تمہیں شاید معلوم نہیں کہ مجھے ایڈز ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں اپنی بیماری پر خوش نہیں ہوں۔ میں خوش نہیں ہوں کہ مجھے ایڈز ہے۔ لیکن اگر میری اس بیماری سے دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے تو کم از کم میں یہ سمجھوں گا کہ میری بدقستمی نے کوئی مثبت کام دکھایا‘۔ یہ الفاظ امریکی اداکار راک ہڈسن کے ہیں جو انہوں نے اپنے ایڈز میں مبتلا ہونے کے اعتراف والے بیان میں کہے تھے- یکم دسمبر یا ورلڈز ایڈز ڈے ہالی ووڈ کے ادکار راک ہڈسن سے لیکر لاڑکانہ کے لالہ بشیر تک ان مردوں اور عورتوں اور بچوں سمیت دنیا کے ان لاکھوں انسانوں کو یاد کرنے کا ہے جو ایڈز کی تاریک گلیوں میں مارے گئے۔ سان فرانسسکو سے لیکر سونا گاچي (کلکتہ) اور میکسیکو سے مبمئی تک ایسے انسانوں کی یاد میں شمعیں جلی ہیں۔ اور میں نے دیکھی ہے وہ کئي ہزار فٹ لبمی رنگ برنگي ’کوئلٹز‘ جو ایڈز میں مرجانے والوں کی یاد میں سان فرانسسکو اور امریکہ کے کئي شہروں میں بچھائي جاتی ہیں جن پر ایڈز جیسے مہلک مرض میں مرجانیوالوں کے نام لکھے ہوتے ہیں- مجھے اسوقت وہ شخص بھی یاد آرہا ہے جو مجھے شکاگو کی ہالسٹیڈ اسٹریٹ پر ملا تھا۔ یہی رات اور یہی زمانہ تھا ( کرسمس کے قریب کا) اور ہم ایک ایسےچرچ میں کیرول سننے گئے تھے جہاں کئي ہم جنس جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈال کر گیت گا رہے تھے۔ شام ہونے لگی تھی اور وہ یہ کہہ کر ’تمہیں شاید معلوم نہیں مجھے ایڈز ہے‘ اندھیری گلی میں مڑ گیا تھا۔ لیکن ایسے کروڑہا لوگ اب بھی ہونگے جو اس مہلک بیماری میں افریقہ اور ایشیا میں ہر روز وشب خاموشی سے درد سہہ کر مر رہے ہیں یا مرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بڑی چھوٹی این جی اوز، سرکاری ادارے اور افسر، محقق اور اسکالر ایڈز کے نام پر کروڑہا ڈالر ہضم کر کے رسید بھی نہیں چھوڑتے لیکن ایڈز کے متعلق بیماری کا علاج تو درکنار اسکے بارے میں آگہی اور صحیح اعداد شمار بھی ہمارے جیسے ملکوں میں آج بھی گناہ کبیرہ ٹھہرا ہے۔ ہمارے جیسے ملکوں کی حکومتیں اور غیر سرکاری ادارے بس صرف ایڈز سے اتنے ہی آشنا ہیں کہ یہ مہلک مرض اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کے ڈونر ایجنڈا پر ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں آج بھی کنڈوم کو اکثر صرف ’خاندانی منصوبہ بندی‘ والا ’غبارہ‘ سمجھا جاتا ہے اور ایڈز کو محض ’گوروں کی بیماری‘۔ ’بھائی صاحب! خدا کے فضل سے ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی‘، مجھے مرد جنسی کارکنوں پر ایک سٹوری پر کام کے دوران ایک مرد جنسی کارکن نے کراچي میں کہا تھا۔
اقوام متحدہ کے ایڈز پر ادارے یواین ایڈز کےمطابق، دنیا میں پانچ سے دس فیصد تک ایچ آئي وی کیسز مردوں کے مابین جنسی فعل کے تبادلے کے نتیجے میں پائے گئے ہیں۔ لیکن ہندوستان و پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں ایسے مردوں کی تعداد کتنی ہے، اسپر کوئی بھی قابلِ اعتبار اعداد و شمار موجود نہیں۔ اور تو اور فوج جیسے منظم اور نظم و ضبط والے ادارے میں بھی اسطرح کے کوئی اعداد شمار نہیں اور نہ ہی بار بار غیر ملکی ہیوی ڈیوٹی دینے والی افواج میں ایڈز کے متعلق آگہی اور اسکے انسداد کےمتعلق کوئی تعلیم اور تفصیل موجود ہے، اور نہ ہی پاکستان کے دینی مدارس ہوں کہ اسکول یا نام نہاد ریڈ لائیٹ برادری کہیں بھی اس پر کوئی کام موجود ہے۔ مجھے کراچی کا وہ پڑھا لکھا پارسی نوجوان یاد ہے جو اپنی ہم جنس برادری کے لوگوں میں ایڈز اور سیفر سیکس کے متعلق معلومات اور کنڈوم تقسیم کیا کرتا تھا۔ وہ شاید مسلمانوں کے پاکستان میں ایڈز کے خلاف واحد اور تنہا رینجر تھا۔ کراچي کے متمول اور متوسط گھروں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ شام ہوتے ہی ایک پبلک پارک میں ملا کرتے جس پبلک پارک کو میں اور میرے ایک دوست نے ’آسکروائلڈ پارک‘ کا نام دیا تھا۔ میں نے انڈیا کا مشہور گے میگزین ’بامبے دوست‘ بھی پہلی بار ان نوجوانوں کی توسط سے دیکھا۔
لیکن نہ ہم جنس پرستی یا مرد سے مرد کا جنسی تعلق ہونا کوئی سگریٹ پینے کی عادت ہونے جیسا ہے اور نہ ہی ضروری ہے کہ ہر ہم جنس تعلق ’مضر صحت‘ بنتا یا ایڈز کا شکار کردیتا ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ گے یا ہم جنس پرست لوگ انتہائی جوکھم یا ’ہائی رسک‘ گروپ میں آ جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایڈز کے شکار ہم جنس بھی ہیں تو اسٹرئٹ لوگ یا جنس مخالف سے جنسی تعلقات والے بھی، خون کی بغیر اسکریننگ ٹرانسفیوزن، انجیکشن کی ایک ہی سوئی یا سرنج کے استعمال کرنے والے بھی۔ دادو ضلع میں میں کوئلے کی کانوں کے مزدور جن میں اکثریت سرحد صوبہ سے تعلق رکھتی تھی ایک ہی کوارٹر میں رہتے تھے۔ ان کے بیمار ہونے پر وہاں کی ایک نام نہاد ڈسپنسری میں ایک ہی سرنج مختلف مریضوں کو لگائي جاتی تھی۔ ’میں آج تک ساٹھ عورتوں کیساتھ سو چکا ہوں؟‘ ایک صحافی دوست نے مجھے گنتی کرتے ہوئے بتایا۔ ’کیا تم نے غبارہ استعمال کیا؟‘ میں نے اس صحافی دوست سے پوچھا- ’نہیں ۔ میں بھی صحتمند ہوں اور وہ بھی ماشا اللہ صحتمند اور خوبصورت تھیں‘، میرے صحافی دوست نے کہا۔ ’میں نے اپنے پارٹنر کو استعمال کرنے کیلیے کنڈوم دیا۔ اس نے اسے منہ سے پھونک کر غبارہ بنایا اور پھر مکہ مار کر اسے پھاڑ دیا‘، کراچی میں مجھے ایک جنسی کارکن نے بتایا تھا۔ ’میں جنسی فعل کے دوران تین غبارے پہنتا ہوں‘، میرے ایک اور دوست نے مجھ سے کہا تھا۔ جیسے وہ جسم پر زرہ پہننے کی بات کررہا ہو۔ غبارہ پہننا شاید ’مرد‘ کی نشانی نہیں سمجھی جاتی اور حال ہی میں لاہور کی جنسی کارکنوں کے بیچ وقفوں سے پانچ سال رہ کر کام کرنیوالی برطانوی اینتھروپولوجسٹ لوسی براؤن نے اپنی کتاب
اب کا مجھے نہیں معلوم لیکن کچھ سال قبل اسلام آباد میں جنسی کارکنوں کے کام کا کہتے ہیں ریٹ بڑھ جاتا تھا یا پھر جنسی کارکنوں کی قلت ہوجاتی تھی جن دنوں میں پارلیمان کا اجلاس ہو رہا ہوتا تھا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایڈز اور سیف سیکس کے متعلق امیر ہوں کہ غریب، پیر ہوں کہ فقیر سب زیرو کا علم رکھتے ہیں- برصغیر ہو کہ براعظم افریقہ یا بہت سے کیسوں میں یورپ اور امریکہ میں بھی ایڈز کے مریضوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسا بدقسمتی سے کبھی لیپرس سے کیا جاتا تھا کہ جیسے ایڈز کوئی نام نہاد چھوت کی بیماری ہو اورجو اسکے مریضوں سے ملنے اور ہاتھ ملانے یا ان سے گلے ملنے سے لگ جائے گي۔ پاکستان میں تو ایڈز کے مریضوں کو ہسپتالوں کی آئسولیشن وارڈز میں رکھا جاتا تھا جیسے وہ کسی پاگل کتے کے کاٹے ہوئے ہوں۔ جیلوں میں قیدی مریضوں کی حالت اور بھی بدتر بتائی جاتی ہے- دنیا میں جنگوں پر جتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے اگر اسکی آدھی بھی انڈیا اور پاکستان سمیت ایشیا اور افریقہ میں ایڈز پرخرچ کی جائے تو ایڈز کے کئي دفعہ تمام مریض ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ یہ جو مولوی اپنے خطبوں میں مخالف فرقوں اور دوسرے مذاہب والوں سے ’جہاد‘ کا وعظ فرماتے رہتے ہیں اگر یہ جہاد ایڈز کیخلاف کریں تو کیا بات ہے۔ شاعر حضرات کو بھی آجتک ’وصل کی راحت کے سوا‘ کچھ نظر نہیں آتا- افتی نسیم شاید اردو کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ایڈز کے شکار لوگوں اور ایڈز پر شاعری کی ہے۔ ہندستان کے اشوک رائے کوی اور شیوانندا خان اور انکی ناز فاؤنڈیشن شاید ايڈز پر آگہی اور اسکے خلاف جنگ کے بڑے نام ہیں۔ امریکہ صرف ڈونالڈ رمسفیلڈ کا نام نہیں لیکن بل گیٹس انکی اہلیہ میلنڈا اور بل کلنٹن بھی ہیں جو انڈیا میں ایڈز کے سستے علاج اور ادویات اور افریقہ میں اسکے انسداد کیلیے نہایت ہی سرگرم ہیں۔ اور کسی نے کہا امریکہ انجلینا جولی بھی تو ہے۔ |
اسی بارے میں ایڈز اب بھارت کے دیہاتوں میں بھی01 December, 2006 | انڈیا کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا ایڈز پر کلنٹن کی پہل 01 December, 2006 | انڈیا ایشیا میں 8.6 ملین ایڈز کے مریض21 November, 2006 | آس پاس ایڈز تحقیق کے لیئے500 ملین ڈالر16 August, 2006 | آس پاس پاک و ہند کے ہم جنس پرست آزاد ہوئے 26 June, 2006 | آس پاس لڑکیوں میں ایڈز کا تناسب زیادہ ہے02 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||