BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیا میں 8.6 ملین ایڈز کے مریض
ایڈز کے سدباب کا زیادہ تر کام غیر سرکاری تنظیمیں کررہی ہیں
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایشیا میں آٹھ اعشاریہ چھ ملین افراد ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ ہیں۔

پچھلے سال خطے میں تقریباً ایک ملین افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ چھ لاکھ تیس ہزار افراد ایڈز سے منسلک بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوگئے۔

ایڈز کے وائرس سے متاثرہ افراد میں سے دو تہائی ایشیائی باشندے انڈیا میں رہتے ہیں جہاں ملک کے چند حصوں میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ دیگر حصوں میں یہ تعداد یا تو مستحکم ہے یا پھر کم ہورہی ہے۔

ایڈز میں مبتلا افراد کی سب سے بڑی تعداد جنوب مشرقی ایشیا میں بستی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تین گروپ ایسے ہیں جن کے ایڈز سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ان گروپوں میں سیکس ورکرز اور ان کے گاہک (جو محفوظ جنسی روابط پر عمل پیرا نہیں ہوتے)، مرد ہم جنس پرست اور منشیات کے عادی وہ افراد شامل ہیں جو جسم میں منشیات داخل کرنے کے لیئے مشترکہ سرنج یا سوئی استعمال کرتے ہیں۔

ادارے کے مطابق مختلف علاقوں میں ایڈز کی صورتحال مختلف ہے۔ ویت نام میں نئی صدی کے آغاز سے اب تک ایڈز میں مبتلا افراد کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے۔ جبکہ تھائی لینڈ میں ایسے افراد کی تعداد میں ایک سال میں دس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ایشیا میں ایڈز کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب لاعلمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں ایڈز میں ایک اعشاریہ سات ملین افراد ایڈز میں مبتلا ہیں۔ ان علاقوں میں ایڈز کے پھیلنے کی تعداد باقی دنیا کی نسبت سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے بدترین علاقہ روسی فیڈریشن میں شامل یوکرین ہے۔

یوکرین میں ایڈز کے دوتہائی نئے کیس منشیات کے عادی افراد کے مشترکہ سرنج استعمال کرنے سے پھیلے ہیں جبکہ ایک تہائی تعداد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ غیر محفوظ جنسی روابط ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین میں ایڈز سے متاثر ہونے کا رجحان زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں ایڈز کے سدباب کا زیادہ تر کام غیر سرکاری تنظیمیں کررہی ہیں۔

مشرقی یورپ میں ایڈز کے تیزی سے پھیلتے رجحان کے باعث ماہرین صحت نے مشرقی یورپ سے مغربی یورپ جانے والے افراد کی بڑی تعداد کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

ایڈزعلاج بھارتی مدد سے
پاکستانی ہیلتھ ورکرز تربیت کے لیے بھارت میں
ایڈز کے یتیم بچے
ایڈز نے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم کردیئے
ایڈز:علاج میں معاون
اینٹی بایوٹک سے شرحِ اموات نصف
ایڈز ربنبھارت میں ایڈز
بیماری کے اصل مسائل سے توجہ ہٹ رہی ہے
فاٹا میں ایڈز
فاٹا میں ایڈز کے مریضوں کو ادویات میسر نہیں
اسی بارے میں
اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج
19 November, 2004 | نیٹ سائنس
پاکستان: ایڈز سنٹرز کا قیام
30 November, 2004 | پاکستان
پاکستان: ایڈز میں اضافہ
27 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد