ایشیا میں 8.6 ملین ایڈز کے مریض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایشیا میں آٹھ اعشاریہ چھ ملین افراد ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ ہیں۔ پچھلے سال خطے میں تقریباً ایک ملین افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ چھ لاکھ تیس ہزار افراد ایڈز سے منسلک بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوگئے۔ ایڈز کے وائرس سے متاثرہ افراد میں سے دو تہائی ایشیائی باشندے انڈیا میں رہتے ہیں جہاں ملک کے چند حصوں میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ دیگر حصوں میں یہ تعداد یا تو مستحکم ہے یا پھر کم ہورہی ہے۔ ایڈز میں مبتلا افراد کی سب سے بڑی تعداد جنوب مشرقی ایشیا میں بستی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تین گروپ ایسے ہیں جن کے ایڈز سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ان گروپوں میں سیکس ورکرز اور ان کے گاہک (جو محفوظ جنسی روابط پر عمل پیرا نہیں ہوتے)، مرد ہم جنس پرست اور منشیات کے عادی وہ افراد شامل ہیں جو جسم میں منشیات داخل کرنے کے لیئے مشترکہ سرنج یا سوئی استعمال کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق مختلف علاقوں میں ایڈز کی صورتحال مختلف ہے۔ ویت نام میں نئی صدی کے آغاز سے اب تک ایڈز میں مبتلا افراد کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے۔ جبکہ تھائی لینڈ میں ایسے افراد کی تعداد میں ایک سال میں دس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایشیا میں ایڈز کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب لاعلمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں ایڈز میں ایک اعشاریہ سات ملین افراد ایڈز میں مبتلا ہیں۔ ان علاقوں میں ایڈز کے پھیلنے کی تعداد باقی دنیا کی نسبت سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے بدترین علاقہ روسی فیڈریشن میں شامل یوکرین ہے۔ یوکرین میں ایڈز کے دوتہائی نئے کیس منشیات کے عادی افراد کے مشترکہ سرنج استعمال کرنے سے پھیلے ہیں جبکہ ایک تہائی تعداد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ غیر محفوظ جنسی روابط ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین میں ایڈز سے متاثر ہونے کا رجحان زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں ایڈز کے سدباب کا زیادہ تر کام غیر سرکاری تنظیمیں کررہی ہیں۔ مشرقی یورپ میں ایڈز کے تیزی سے پھیلتے رجحان کے باعث ماہرین صحت نے مشرقی یورپ سے مغربی یورپ جانے والے افراد کی بڑی تعداد کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ |
اسی بارے میں اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج19 November, 2004 | نیٹ سائنس پاکستان: ایڈز سنٹرز کا قیام30 November, 2004 | پاکستان پاکستان: ایڈز میں اضافہ27 November, 2004 | پاکستان ایشیا ایڈز کا مقابلے کرے: کوفی عنان11 July, 2004 | آس پاس ایڈز: ایشیا خطرے کے نشان پر07 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||