لڑکیوں میں ایڈز کا تناسب زیادہ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ ایک نوجوان لڑکی ہے۔ عمر یہی کوئی سترہ، اٹھارہ کے قریب۔ شادی شدہ ہے۔ آج کل امید سے ہے۔ مگر وہ کچھ پریشان ہے۔ وہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئی ہے۔ یہ بیماری اسے اس کے شوہر سے لگی ہے، اور اس کے شوہر کو کس سے لگی ہے، وہ بتانے کو تیار نہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر اس نے صحیح وقت پر دوائی نہ لی تو یہ بیماری اس کے بچے کو بھی لگ جائے گی۔ وہ غریب ہے۔ دوائی نہیں لے سکتی۔ اس کا بچہ بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی ’لاکھوں لڑکیاں‘ ہے۔ وہ لاکھوں لڑکیاں جو ایڈز کے مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ آج کی دنیا میں ایڈز کا چہرہ، بہت تیزی سے ایک نوجوان، غریب لڑکی کا چہرہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اس وقت ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد خواتین اس مہلک مرض کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایڈز پر اکتیس مئی سے دو جون تک تین روزہ کانفرنس کے دوران جو بات سب سے زیادہ واضح طور پر سامنے آئی وہ یہ ہے کہ غریب ممالک میں رہنے والی پندرہ سے چوبیس سال کی لڑکیاں اس مرض میں سب سے زیادہ مبتلا ہیں اور ان کے ایڈز کا شکار ہونے کی شرح نوجوان لڑکوں یا کسی بھی اور طبقے سے کہیں زیادہ ہے۔ خصوصًا افریقہ میں ایڈز کے مریضوں میں ساٹھ فیصد خواتین ہیں اور نوجوانوں میں اگر دیکھا جائے تو ہر ایک لڑکے کے مقابلے میں دس لڑکیاں اس مرض کا شکار ہیں۔
اس لیے نہیں کہ یہ لڑکیاں بے راہ رو ہیں، اس لیے بھی نہیں کہ یہ لڑکیاں منشیات استعمال کرتی ہیں اور ایک بیمار جسم میں لگی گندی سوئی دوسرے صحت مند جسم کو خراب کرتی ہے۔ بلکہ اس لیے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یہ لڑکیاں غریب ہیں، جاہل ہیں، کمزور ہیں، مجبور ہیں، اور اپنے فیصلے خود کرنے کی مجاز نہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے معاشروں میں رہتی ہیں جہاں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری اور ان کے حقوق کو پامال کرنا ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایکشن ایڈ کینیا کی لڈفین انینگو کے مطابق ایڈز کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک خواتین کے خلاف تشدد کے مسئلے کو حل نہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں یہ مہلک بیماری ان کے شوہر سے لگی کیونکہ ان کے شوہر کونڈوم استعمال نہیں کرتے تھے اور وہ کچھ کہنے سے ڈرتی تھیں۔ ’مجھے پتہ تھا کہ میرے شوہر کے کسی اور سے جنسی تعلقات ہیں۔ مگر میں اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے ماریں گے۔ پھر جب ایڈز ہمارے گھر میں داخل ہو گئی اور ان کا بیماری سے انتقال ہو گیا، تب کہیں جا کر میں اس قابل ہوئی کہ اس بارے میں بات بھی کر سکوں۔” تشدد، چاہے وہ جسمانی ہو، جنسی ہو یا ذہنی، محترمہ ینگو کے مطابق اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے جس کے بعد عورتیں اپنے لیے محفوظ جنسی تعلقات کا مطالبہ نہیں کر سکتیں۔ اور اگر ان کے علاقے میں صحت کی ضروری سہولیات میسر بھی ہیں تو اگر انہیں یہ ڈر ہے کہ گھر واپس جا کر انہیں مار پیٹ کا سامنا ہوگا تو اکثریت ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔ پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک میں اکثر لڑکیوں کو یہ بیماری جنسی زیادتی کے واقعات یا غربت کی وجہ سے جسم فروخت کرنے کی وجہ سے بھی لگتی ہے۔ ایڈز کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ادارے جن اقدامات پر زور دیتے ہیں ان میں سے اکثر ابھی تک تنازعات کا شکار ہیں۔ مثلاً جنسی تعلقات کے دوران کونڈوم استعمال کرنے سے ایڈز لگنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ کونڈم پسماندہ ممالک میں بھی کم قیمت میں اور با آسانی دستیاب ہونے چاہئیں۔ لیکن کئی عالمی رہنماؤں کے مطابق چونکہ کونڈوم حمل کو روکنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کی فراہمی آسان بنانا جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے کے برابر ہے۔ یو این ایڈ کے ڈاکٹر پیٹر پیاٹ کے مطابق افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ معاملات جو متنازعہ نہیں ہیں ان کے حل میں بھی خواتین کا معاشی اور معاشرتی مقام آڑے آتا ہے۔ اس کی ایک مثال ماں سے بچے کو بیماری کا لگنا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے خیال میں ایڈز کی بیماری کسی کو لگنے کا ’سب سے ظالمانہ طریقہ” یہ ہے کہ ماں کےپیٹ ہی میں بچے کو بیماری لگ جائے۔ اور اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں صرف نو فیصد خواتین کو وقت پر وہ ضروری دوائی میسر آتی ہے جو آگے جا کر ان کے بچے کی جان بچا سکتی ہے۔ خواتین اور ایڈز پر عالمی اتحاد یا گلوبل کوایلیشن آن وویمن اینڈ ایڈز کے جمعرات کو جاری کیے گئے ایجنڈے میں خواتین میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تین اہم نکات پر زور دیا گیا۔ پہلا یہ کہ خواتین کے حقوق کو قوانین اور سرکاری پالیسیوں کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ایڈز کے بچاؤ کی موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی کر کے انہیں خواتین کے لیے زیادہ موثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں خواتین کے لیے بنیادی اور جنسی، دونوں طرح کی تعلیم پر زور دیا گیا۔ اور تیسرا یہ کہ ایڈز سے متعلق پالیسی بناتے وقت خواتین کو شریک رکھا جائے۔ ڈاکٹر پیاٹ نے خواتین کے حقوق اور ان کی زندگی کی اس جنگ میں مردوں کی تعلیم کو بھی ضروری قرار دیا ۔ کیونکہ جب تک مردوں کے رویوں میں تبدیلی نہیں آئے گی، خواتین کو اسی طرح مشکلات کا سامنا رہے گا۔ | اسی بارے میں پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ21 November, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس ختنے ایڈز سے بچاتے ہیں: رپورٹ26 July, 2005 | نیٹ سائنس برازیل کی دوا ساز کمپنی کو دھمکی26 June, 2005 | نیٹ سائنس مچھیروں میں ایڈز کے امکانات زیادہ 27 March, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز: مزاحمتی جینز کی شناخت09 December, 2004 | نیٹ سائنس اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج19 November, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||