ایڈز تحقیق کے لیئے500 ملین ڈالر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں جاری سولہویں انٹرنیشنل ایڈز کانفرنس کے موقع پر بِل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ایچ آئی وی ایڈز پر تحقیق کے لیئے پانچ سو ملین ڈالر کا عطیہ دینے کا عہد کیا ہے۔ یہ ایڈز کے مرض پر روک تھام کے لیئے دیا جانے والا سب سے بڑا عطیہ ہے۔ یہ رقم بھارت، افریقہ اور دیگر ایڈز سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک میں ایڈز اور دیگر خطرناک امراض پر قابو پانے کے لیئے خرچ کی جائےگی۔ اس رقم کو اگلے پانچ سال میں اقوام متحدہ کے گلوبل فنڈ کے ذریعے ایڈز، ٹی بی، اور ملیریا کی روک تھام کے لیئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ رقم دنیا بھر میں ایڈز پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کومختلف قسطوں میں دی جائے گی اور اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایڈز کے وائرس سے لڑنے کے لیئے موثر ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔عطیہ وصول کرنے والے تمام محققین کو اپنی تحقیق شیئر کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا تاکہ اس سلسلے میں تیز پیش رفت ممکن ہوسکے۔ وہ علاقے جہاں ان امراض سے سالانہ چھ ملین سے زائد انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ان میں افریقہ اور بھارت سرفہرست ہیں۔ اقوام متحدہ کے گلوبل فنڈ کے ڈائریکٹر رچرڈ فیاشم کے مطابق بِل گیٹس کی طرف سے دی گئی اس خطیر رقم کے باوجودگلوبل فنڈ کو سنہ 2006 اور2007 کے لیئے مزید ڈیڑھ بلین امریکن ڈالر کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 40 ملین سے زائد افراد ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس کی شناخت کے بعد گزشتہ پچیس سال کے دوران کئی قسم کے ویکسین تیار کی گئی ہیں تاہم سائنسدان مزید موثر ویکسین تیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بل گیٹس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین کے لیئے ایڈز کی موثر ویکسین تیار کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے اور اس سلسلے میں زیادہ پیش رفت ممکن نہیں ہوسکی ہے لہذا ہمیں اس مرض کے خلاف جہاد جاری رکھنا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے پینل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سربراہوں کو چاہیئے کہ ایڈز کے مرض کے خلاف جہاد میں مل کر کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کے کچھ ممالک میں نوے فیصد ایچ آئی وی پازیٹو لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کو یہ مرض لاحق ہے۔ سستی ادویات کی فراہمی اس مرض کے علاج کے لیئے بہت مفید ثابت ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق صرف اس کانفرنس کے اختتام تک مزید 60 ہزار سے زائد لوگ اس مرض کا شکار ہوچکے ہوں گے۔ |
اسی بارے میں انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ20 July, 2006 | انڈیا ایڈز: سستے علاج میں کلنٹن کا ہاتھ24 October, 2003 | صفحۂ اول بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||