ایڈز سے متعلق پشتو ویڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے فنکاروں نے بین لاالقوامی تنظیم یونیسف کے تعاون سے ایڈز سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیئے ایک ویڈیوگانا تیار کیا ہے۔ اس گیت میں اس لاعلاج مرض سے بچاؤ کے بارے میں موثر عکاسی کے ذریعے اہم پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ چھ منٹ دورانیے کی یہ ویڈیو جمعرات کو پشاور پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب میں دکھائی گئی۔ تقریب میں پشاور سے تعلق رکھنے والے ٹی وی، سٹیج اور فلم کے فنکاروں کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے حکام نے بھی شرکت کی۔ گانے کی عکس بندی کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں کی گئی ہے۔گانے میں ایک گاؤں کے دوبئی سے لوٹے ہوئے ایک نوجوان کو دکھایا گیا ہے۔ بعد میں اس پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہے۔ گاؤں کے لوگ اس مریض سے ملنا، بات کرنا ترک کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد ہمت کرکے وہ خود ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے اور پھر اس مرض کے خلاف آگاہی پھیلاتا ہے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گانے کے پروڈیوسراور نوجوان اداکار ارشد حسین نے بتایا کہ دنیا میں ایڈز سے آگاہی پھیلانے سے متعلق مہم تو جاری ہے لیکن انہوں نے یہ کوشش دوستوں کے ساتھ مل کر کی ہے تاکہ اس خطرناک مرض کے خلاف اس انداز میں پیغام لے کر وہ دور دراز علاقوں میں پہنچیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے متاثرہ اور محفوظ دونوں طرح کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ ارشد حسین نے کہا کہ جو پیغام آواز اور تصویر کو ملا کر بنایا جاتا ہے اس کا بہت اثر ہوتا ہے اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ویڈیو ترتیب دیا گیا ہے۔ پشتو زبان میں گائے گئے اس گانے کو ممتاز پشتو گلوکار فضا فیاض نے گایا ہے جبکہ گانے کے دوران ایڈز کے مریض کا کردار بھی ارشد حسین نے ہی ادا کیا ہے۔اس کے علاوہ وڈیو میں پشاور ٹی وی کے دیگر فنکاروں نے بھی حصہ لیا ہے۔
گانے لکھنے والے ممتاز پشتو ادیب و پروفیسر اباسین یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس انداز سے یہ گانا لکھا ہے کہ لوگ ایڈز سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی بھی کریں اور اس مرض کے خلاف ان میں نفرت کے جذبات بھی پیدا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گانے کو لکھتے وقت انہوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ شاعری بھی متاثر نہ ہو اور پروپیگنڈہ بھی ہو۔ ’میں نے کوشش کی ہے کہ پروپیگنڈے کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا جائے‘۔ یونسیف پشاور کے ایک اہلکار ڈاکٹر عبدالجمیل نے اس موقع پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس گانے سے لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز سے متعلق شعور اجاگر ہوگا اور اس لاعلاج بیماری کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس گانے کی ڈبنگ اردو میں بھی کی جائے گی تاکہ اردو بولنے والے لوگوں کوبھی اس کا فائدہ ہو۔ | اسی بارے میں ایڈز کی دوائیں بے اثر؟16.07.2003 | صفحۂ اول امریکہ، یورپ مدد نہیں کررہے: عنان13 July, 2004 | صفحۂ اول پاکستان: ایڈز سے بچاؤ کا نیا منصوبہ18 November, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||