ایڈز کی دوا سستی ہو جائے گی: کلنٹن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے رفاہی ادارے ’کلنٹن فاؤنڈیشن‘نے دواساز کمپنیوں کے ساتھ ایک سودا طے کیا ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک میں ایڈز کی ادویات کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ بل کلنٹن نے کہا ہے کہ اس سے لاکھوں زندگیاں بچ سکیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تو ابھی ان کی کوششوں کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔ اس سودے کے تحت ٹیسٹ کے اخراجات آدھے رہ جائیں گے جبکہ دوائیوں کی قیمتوں میں ایک تہائی کمی ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایڈز کے مرض میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ مبتلا ہیں۔ کلنٹن فاؤنڈیشن اور چند چھوٹی دواساز کمپنیوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے سے اس سال کے آخر تک دس لاکھ مریضوں کو سستی دوائیں ملنا شروع ہو جائیں گی۔ ایڈز کے مریضوں کے جسم بعض اوقات روایتی ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں اور اس صورت حال میں انہیں متبادل غیر روایتی ادویات دی جاتی ہیں جو بہت مہنگی ہیں۔ اس سودے میں دوسری قسم کی ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ بل کلنٹن نے کہا ہے کہ یہ سودا ’صحیح سمت میں ایک قدم ہے‘۔ تاہم ان کی خواہش ہے کہ دنیا کے بڑے دواساز ادارے بھی اس معاہدے میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سال قیمتوں میں مزید کمی کے لیے مذاکرات کریں گے۔ اس سودے کا سب سے زیادہ فائدہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ کے غریب ممالک کو ہو گا۔ سابق صدر نے کہا ہے کہ وہ ٹیسٹوں کو بھی مزید سستا کروانے، ان سہولتوں کا دائرہ کار وسیع کرنے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ایڈز کے ساتھ کسی قسم کی بدنامی ہونے کی بات بہت پرانی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اب یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم اس سے منہ موڑے رکھیں اور وہ بھی یہ جانتے ہوئے کہ ایڈز کے نوے فیصد مریضوں کو معلوم ہی نہیں کہ انہیں ایڈز ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اب اس مرض کے متعلق آگہی میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے افریقی ملک لیسوتھو کی مثال دی جہاں بارہ سال سے کم عمر کے ہر بچے کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کلنلٹن فاؤنڈیشن 2002 میں بنائی گئی تھی اور اس کا مقصد ایڈز کے مسئلے سے دوچار غریب ممالک کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں سونامی: تین صدور کی مشترکہ اپیل03 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||