سعودی عرب: انسدادِ ایڈز مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب جہاں اب تک مسائل کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان سے نظریں چرانے کا رواج رہا ہے، اب لوگ کسی حد تک مسائل کا مقابلہ کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ جمعرات سے سعودی عرب میں وزارتِ صحت کچھ نجی اور سرکار ی اداروں اور اقوام متحدہ سےمل کر ایڈز جیسے مہلک مرض کے خلاف ایک مہم کا آغاز کر رہا ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کی کسی عوامی مہم کا تصور بھی محال تھا ۔ اس طرح کی کسی مہم کو معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دے کر اس کے خلاف طوفان کھڑا ہو سکتا تھا۔ شاہ عبداللہ کی حکومت اصلاًحات کے پروگرام پرگامزن ہے۔ اگرچہ رفتار قدرے سست خیال کی جاتی ہے۔ ایڈز سعود یمعاشرہ کے لیے ایک عفریت کا روپ دہار چکا ہے1984 سے اب تک دس ہزار نو سو چوبیس لوگ اس مرض میں مبتلاً پاِِئے گیے ہیں۔ – ان میں ایک بڑی تعداد غیر ملکیوں کی تھی۔ سعودیوں کی تعداد دو ہزار پانچ تھی۔اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ بہت سے مریض اپنے اپ کو رجسٹر نہیں کراتے اور چپ چاپ رہنے میں اپنی بہتری جانتے ہیں۔ گذشتہ سال ایڈز کا نشانہ بننے والوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو گیارہ تک پہنچ چکی تھی۔ مریضوں میں ایک تہائی خواتین تھیں جنہیں یہ موذی مرض اکثر ان کے شوہروں سے منتقل ہوتا ہے جو انہیں دسروں سے جنسی اختلاط کی وجہ سے لگا۔ سعودی معاشرہ اب تک ان مسائل پر کھلے عام بحث سے اجتناب کرتا رہا ہے لیکن بڑھتے ہوئے مسائل نے انہیں اب کھلے عام بحث پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ اب یہ مسائل معاشرہ کے لیے بڑے مسائل کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ یکم دسمبر سے جدہ میں جہاں مملکت میں موجود ساٹھ فیصد سے زیادہ مریض پاِئے جاتے ہیں اور سعودی عرب کے دوسرے بڑے شہروں میں عوام میں ایڈز کے خلاف ایک ایسی مہم کا آغاز ہو رہا ہے جس میں لوگوں کو اس بیماری سے بچنے کی ترغیب دی جائیگی اور اس سے بچنے کے طریقے بتائے جائیں گے۔ یہ مہم اسکولوں، درسگاہوں، کام کرنے کی جگہوں، فیکٹریوں، ملک سے باہر آنے جانے کے مقامات غرض کہ ہر جگہ چلائی جائے گی۔ اس دوران اس بیماری پر کھلے عام بحث بھی ہوگی اور معاشرے کو باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ مریضوں سے برا رویہ اپنانا ٹھیک نہیں ہے۔ مہم ایڈز کے عالمی دن پر شروع کی جا رہی ہے اور اور پورے سال جاری رہے گی۔ مہم کو اس پورے خطے کے لیے ایک خوش آئند امر قرار دیا جا رہا ہے کہ اگر سعودی عرب جیسے ملک میں اس طرح کی مہم چل سکتی ہے تو کہیں اور کیوں نہیں۔ ایڈز کے خلاف سعودی عرب کی یہ مہم یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ مذہبی، معاشرتی اور سماجی اقداروں کا سہارا لے کر معاشرہ میں موجود حقیقی مسائل سے لمبے عرصے تک منہ نہیں موڑا جاسکتا اور آخر ِ کار ان کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں ایڈز : سیکس کے بارے میں کھل کر بات کریں؟01 December, 2005 | Debate ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے01 December, 2005 | انڈیا فاٹا کے لوگ ایڈز کے علاج سے محروم01 December, 2005 | پاکستان ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم 25 October, 2005 | آس پاس ختنے ایڈز سے بچاتے ہیں: رپورٹ26 July, 2005 | نیٹ سائنس وسط ایشیا میں ایڈز کا خطرہ25 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||