ایڈز، غیرمعمولی اقدامات کی ضروت: یو این | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز کے عالمی دن پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایڈز انسانیت کے لیے ایک غیرمعمولی عالمی خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا میں چالیس ملین افراد ایچ آئی وی نامی وائرس کے شکار ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے ایڈز کی مہلک بیماری پھیلتی ہے۔ ایڈز کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کے سربراہ پیٹر پیوٹ نے کہا ہے کہ اگر مناسب وسائل مہیا کیے جائیں تو اس مہلک بیماری کو مزید پھیلنے سے روک کر اسے رول بیک کیا جاسکتا ہے۔ ایڈز کی بیماری کے انکشاف سے اب تک بیس ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پیٹر پیوٹ کا کہنا تھا: ’لگ بھگ بیس برسوں کے دوران ایڈز کی بیماری سے بہت کچھ سیکھا گیا ہے۔ اگر ایچ آئی وی کی روک تھام میں مناسب وسائل لگائے جائیں مزید لوگوں کو اس کا شکار بننے سے روکا جاسکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ اس بات کا اعتراف ہوگا کہ ایچ آئی وی کے شکار افراد اور ایڈز سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کو عالمی کوششیں نہیں روک سکتیں۔ پہلی دسمبر کو پوری دنیا میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے لئے پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں تاکہ لوگوں میں اس کے بارے میں آگاہی کو فروغ دیا جاسکے۔ بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکاون لاکھ کے قریب افراد یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں یا پھر ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے وہ اعداد و شمار درست ہیں جن کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ سات اعشاریہ چار ملین ڈالر بھارت میں ایڈز کی روک تھام کے لئے مہیا کرے گا۔ کینیا میں امدادی ادارے میڈیسینز سینس فرنٹیئر کا کہنا ہے کہ وہ بچوں میں ایچ آئی وی کی روک تھام اس لئے نہیں کرپارہا ہے کیوں کہ دوائی بنانے والی کمپنیاں بچوں کے لئے مناسب ادویات نہیں بنارہی ہیں۔ اس ادارے نے کہا: ’ایچ آئی وی / ایڈز سے متاثر بچوں کی آدھی تعداد دو سال کی عمر سے قبل ہی مرجاتی ہے۔‘ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار انڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دستاویزی طور پر کم سے کم ایڈز ایک بڑا مسئلہ نہیں ہے تاہم دارالحکومت کابل میں اس طرح کے پینتیس کیس سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لگ بھگ ایک ملین افغان جو انجیکشن کے ذریعے نشہ کرتے ہیں ایڈز کا شکار ہوسکتے ہیں۔ امریکہ نے دوسرے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایڈز سے نمٹنے کے لیے مناسب سطح پر فنڈز مہیا کریں۔ ایڈز سے متعلق وائٹ ہاؤس کے نائب عالمی کوآرڈنیٹر مارک ڈیبل نے کہا: ’ایچ آئی وی / ایڈز کے لئے دنیا میں تمام وسائل کا پچاس فیصد صرف امریکہ برداشت کرتا ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘ |
اسی بارے میں ایڈز پر بالی وڈ کی پہلی فلم24 August, 2004 | فن فنکار اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج19 November, 2004 | نیٹ سائنس پاکستان: ایڈز سنٹرز کا قیام30 November, 2004 | پاکستان پاکستان: ایڈز میں اضافہ27 November, 2004 | پاکستان ایشیا ایڈز کا مقابلے کرے: کوفی عنان11 July, 2004 | آس پاس ایڈز: ایشیا خطرے کے نشان پر07 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||