BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 December, 2005, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز، غیرمعمولی اقدامات کی ضروت: یو این
اداکارہ شِلپا شیٹی ایڈز کی روک تھام کے لیے ایک پروگرام میں شریک
ایڈز کے عالمی دن پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایڈز انسانیت کے لیے ایک غیرمعمولی عالمی خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس وقت دنیا میں چالیس ملین افراد ایچ آئی وی نامی وائرس کے شکار ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے ایڈز کی مہلک بیماری پھیلتی ہے۔

ایڈز کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کے سربراہ پیٹر پیوٹ نے کہا ہے کہ اگر مناسب وسائل مہیا کیے جائیں تو اس مہلک بیماری کو مزید پھیلنے سے روک کر اسے رول بیک کیا جاسکتا ہے۔

ایڈز کی بیماری کے انکشاف سے اب تک بیس ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پیٹر پیوٹ کا کہنا تھا: ’لگ بھگ بیس برسوں کے دوران ایڈز کی بیماری سے بہت کچھ سیکھا گیا ہے۔ اگر ایچ آئی وی کی روک تھام میں مناسب وسائل لگائے جائیں مزید لوگوں کو اس کا شکار بننے سے روکا جاسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ اس بات کا اعتراف ہوگا کہ ایچ آئی وی کے شکار افراد اور ایڈز سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کو عالمی کوششیں نہیں روک سکتیں۔

پہلی دسمبر کو پوری دنیا میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے لئے پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں تاکہ لوگوں میں اس کے بارے میں آگاہی کو فروغ دیا جاسکے۔
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ طلباء، رضاکاروں اور بیلے ڈانسروں کے ساتھ ایک پروگرام میں شرکت کریں گے تاکہ اس بیماری کے بارے میں لوگوں میں آگاہی کو فروغ دیا جاسکے۔

بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکاون لاکھ کے قریب افراد یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں یا پھر ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے وہ اعداد و شمار درست ہیں جن کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ سات اعشاریہ چار ملین ڈالر بھارت میں ایڈز کی روک تھام کے لئے مہیا کرے گا۔

کینیا میں امدادی ادارے میڈیسینز سینس فرنٹیئر کا کہنا ہے کہ وہ بچوں میں ایچ آئی وی کی روک تھام اس لئے نہیں کرپارہا ہے کیوں کہ دوائی بنانے والی کمپنیاں بچوں کے لئے مناسب ادویات نہیں بنارہی ہیں۔ اس ادارے نے کہا: ’ایچ آئی وی / ایڈز سے متاثر بچوں کی آدھی تعداد دو سال کی عمر سے قبل ہی مرجاتی ہے۔‘

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار انڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دستاویزی طور پر کم سے کم ایڈز ایک بڑا مسئلہ نہیں ہے تاہم دارالحکومت کابل میں اس طرح کے پینتیس کیس سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لگ بھگ ایک ملین افغان جو انجیکشن کے ذریعے نشہ کرتے ہیں ایڈز کا شکار ہوسکتے ہیں۔

امریکہ نے دوسرے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایڈز سے نمٹنے کے لیے مناسب سطح پر فنڈز مہیا کریں۔ ایڈز سے متعلق وائٹ ہاؤس کے نائب عالمی کوآرڈنیٹر مارک ڈیبل نے کہا: ’ایچ آئی وی / ایڈز کے لئے دنیا میں تمام وسائل کا پچاس فیصد صرف امریکہ برداشت کرتا ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

66علاج بھارتی مدد سے
پاکستانی ہیلتھ ورکرز تربیت کے لیے بھارت میں
66ایڈز کے یتیم بچے
ایڈز نے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم کردیئے
66ایڈز:علاج میں معاون
اینٹی بایوٹک سے شرحِ اموات نصف
66بھارت میں ایڈز
بیماری کے اصل مسائل سے توجہ ہٹ رہی ہے
فاٹا میں ایڈز
فاٹا میں ایڈز کے مریضوں کو ادویات میسر نہیں
اسی بارے میں
ایڈز پر بالی وڈ کی پہلی فلم
24 August, 2004 | فن فنکار
اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج
19 November, 2004 | نیٹ سائنس
پاکستان: ایڈز سنٹرز کا قیام
30 November, 2004 | پاکستان
پاکستان: ایڈز میں اضافہ
27 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد