BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جتندر بلو کی نئی کہانیاں

جتندر دیو لانبہ
اُردو محض مسلمانوں کے زبان نہیں: افسانہ نگار جتندر بلو
سنہ انیس سو سینتیس میں پشاور میں پیدا ہونے والے جتندر دیو لانبہ ابھی سکول کی چوتھی جماعت میں پہنچے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہوگیا اور وہ ایک شرنارتھی بالک کے طور پر دہلی منتقل ہو گئے۔

الف بے کے اُردو قاعدے سے تعلیم کا آغاز کرنے والے جتندر کے لیے ہندی ایک اجنبی زبان تھی اور روزمرہ زندگی کے کام چلانے کے لیے اگرچہ انھیں بعد میں ہندی کی کچھ ُشد بُد ہوگئی لیکن اظہارِ ذات کے لیے انھیں ہمیشہ اردو ہی کا سہارا لینا پڑا۔

دہلی یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد وہ فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کے لیے عازمِ بمبئی ہوئے اور برسوں تک سکرین پلے اور ڈائریکشن کی دنیا میں نوع بہ نوع تجربات حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ فلموں کی ’یہ دنیا، یہ محفل میرے کام کی نہیں۔‘ انیس سو چھہترمیں انھوں نے انگلستان کا سفر اختیار کیا اور پھر یہیں کے ہو کے رہ گئے۔

اردو سے جو تعلق پشاور میں سنہ چالیس کے عشرے میں شروع ہوا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ انگلستان منتقل ہونے کے ایک ہی برس بعد ان کا پہلا ناول’پرائی دھرتی، اپنے لوگ‘ منظرِعام پر آیا۔

ان کا دوسرا ناول مہانگر انیس سو نوے میں شائع ہوا اور تیسرا ناول وشواش گھات سن دو ہزار تین میں سامنے آیا۔ بیچ کے طویل وقفوں میں بھی اُن کا قلم بے کار نہیں رہا اور وہ مختصر افسانے لکھتے رہے۔ افسانوں کا اوّلین مجموعہ انیس سو چھیاسی میں، دوسرا مجموعہ انیس سو چورانوے میں، تیسرا انیس سو اٹھانوے اور چوتھا افسانوی مجموعہ دو ہزار ایک میں شائع ہوا۔

زیرِنظر کتاب ’چکّر‘ ان کی کہانیوں کا پانچواں مجموعہ ہے۔

نئی صدی کے سات برس بیت جانے کے بعد مصنف اس سوچ میں غلطاں نظر آتا ہے کہ اُردو کی ڈگر پر اسکا یہ عمر بھر کا سفر کہیں رائیگاں تو نہیں گیا؟ اپنی کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

’میں چونکہ پچھلے چالیس برسوں سے کچھ زائد اردو زبان میں متواتر لکھتا چلا آرہا ہوں۔ مجھے یقین سا ہو چلا ہے کہ میری نسل کے بعد اردو ادب میں کوئی ہندو سِکھ ادیب یاشاعر خال خال ہی دکھائی دے گا۔۔۔ رہی سہی کسر مولوی عبدالحق نے پوری کردی، جب انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو نہ جناح نے بنایا نہ اقبال نے۔ بلکہ اردو نے پاکستان کو بنایا۔ ہندووں اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصل وجہ اردو زبان تھی۔ سارا دو قومی نظریہ اور سارے اختلاف صرف اردو کی وجہ سے تھے۔ اس لیے پاکستان پر اردو کا بڑا احسان ہے۔‘

پریم چند، کرشن چندر اور کنہیا لال کپور جیسے مشاق غیر مسلم اردو ادیبوں کی زندگی میں بھی ایک لمحہ ایسا ضرور آیا تھا جب وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ اردو ادب کے ’آڈ مین آؤٹ‘ بن چکے ہیں۔۔۔ لیکن اِن مشاہیرِ ادب کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہ تھا۔ صرف پریم چند نے آخری دِنوں میں ہندی کا دامن تھاما اور پھر مرتے دم تک ہندی کا ساتھ نبھایا، لیکن ادب کی دنیا میں اُن پر اوّلین حق آج بھی اردو والے ہی جتاتے ہیں۔

 میں چونکہ پچھلے چالیس برسوں سے کچھ زائد اردو زبان میں متواتر لکھتا چلا آرہا ہوں۔ مجھے یقین سا ہو چلا ہے کہ میری نسل کے بعد اردو ادب میں کوئی ہندو سِکھ ادیب یاشاعر خال خال ہی دکھائی دے گا۔۔۔ رہی سہی کسر مولوی عبدالحق نے پوری کردی، جب انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو نہ جناح نے بنایا نہ اقبال نے۔ بلکہ اردو نے پاکستان کو بنایا۔ ہندووں اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصل وجہ اردو زبان تھی۔ سارا دوقومی نظریہ اور سارے اختلاف صرف اردو کی وجہ سے تھے۔ اس لیے پاکستان پر اردو کا بڑا احسان ہے‘۔

جتندر بلو کے سامنے ایک زیادہ ہم عصر مثال جوگندر پال کی موجود ہے جو ’دھرتی کا کال‘ اور ’میں کیوں سوچوں‘ کی افریقی کہانیوں سے لیکر ’نادید‘ جیسے تجرباتی ناول تک، ہر طرح کی مشکلات کے باوجود اردو سے اپنی وفاداری نباہتے رہے۔

70 برس کی پختہ عمر کو پہنچنے پر جتندر بلو نے اپنا جو پانچواں مجموعہ پیش کیا ہے اُس میں چار طویل افسانے اور چار نسبتاً محتصر کہانیاں موجود ہیں۔

مجموعے کی کلیدی کہانی چکّر چار کرداروں پر مبنی ہے۔ یہ دونوں جوڑے اپنی اپنی صوتِ حال سے غیر مطمئن ہیں اور پھر حالات کا چکر ایک جوڑے کے مرد کو دوسرے جوڑے کی عورت سے ملا دیتا ہے اور یوں چار میں سے کم از کم دو کرداروں کا جیون سپھل ہو جاتا ہے۔

یہ تمام واقعات لندن، کمپالا، دارفور، بمبئی، دہلی اور پیرس کے بین الاقوامی منظر نامے میں پیش آتے ہیں جس سے کہانی کا جغرافیائی کینوس بظاہر بہت پھیل جاتا ہے لیکن مرکزی خیال کی مضبوط ڈوری نے تمام کرداروں اور مقامات کو کامیابی سے باندھ رکھا ہے۔

باقی کہانیوں کے واقعات جاننے کے لیے تو براہِ راست کتاب کا مطالعہ ہی مناسب ہوگا لیکن اس خیال سے کہ دیباچے کو بھرتی کی ایک روایتی تحریر سمجھ کر نظر انداز نہ کر دیا جائے، ذیل میں ایک اہم اقتباس درج کیا جا رہا ہے۔

’جب سے ہند سرکار نے اُردو زبان کے فروغ کی خاطر دیش کے ہر صوبے میں اردو اکادمی رائج کی ہے اور وافر فنڈ بھی دیے ہیں، تب سے بندر بانٹ متواتر جاری ہے۔ اُردو کے شاعروں اور ادیبوں کو مالی فائدہ پہنچا ہے۔ وہ انعامات کی رقم پا کر، پھر سیمناروں اور مشاعروں میں شرکت کر کے اپنی جیبیں موٹی کر لیتے ہیں۔ نیز وہ اپنا مجموعہ شائع کراتے وقت اکادمیوں سے جزوی مالی تعاون بھی طلب کرتے ہیں، جو اُن کو بہ آسانی دستیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف بادلوں میں چھُپی ہوئی منظّم سازش بھی جاری ہے۔ اس سازش نے بی جے پی کی شکست کے بعد خاص طور پر زور پکڑا اور روز بروز اسکی شدت بڑھتی رہی ہے کہ کن خطوط پر اُردو زبان کو مکمل اسلامی رنگ دے کر اُسے محض مسلمانوں کی زبان بنا دیا جائے۔‘

اس بظاہر مایوس کُن صورتِ حال کے باوجود جتندر بلو مسلسل اُردو میں لکھ رہے ہیں اور کہانیوں کی یہ پانچویں کتاب ثابت کرتی ہے کہ نہ تو اُن کا زورِ قلم ابھی کم ہوا ہے اور نہ ہی اُردو سے متعلق اُن کے حُسنِ ظن میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔

جتندر بلو کے اس نئے افسانوی مجموعے کو قلم پبلیکیشنز بمبئی نے شائع کیا ہے۔ سفید کاغذ عمدہ طباعت اور مضبوط جلد بندی والی اس کتاب کی قیمت مغربی ممالک میں دس پاؤنڈ رکھی گئی ہے جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں عوامی قوتِ خرید کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صرف دو سو روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
اُردو کا فراموش کردہ محسن: گیان چند
07 December, 2007 | قلم اور کالم
سندھ کے اچھے اور برے آڈوانی
11 November, 2007 | قلم اور کالم
کراچی یونیورسٹی کیا چاہتی ہے؟
24 October, 2007 | قلم اور کالم
گوہر ایوب خان کا جھلک نامہ
05 August, 2007 | قلم اور کالم
’بے دین‘ ہرسی علی کی خودنوشت
07 February, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد