BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 June, 2007, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اورتدفین کی جگہ نہیں‘ فریال گوہر

فریال گوہر کا نیا ناول
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ فریال گوہر کا دوسرا ناول بھی بھارت ہی سے شائع ہوا ہے
جنوبی ایشیا میں انگریزی فکشن کے منظر پر ہمیشہ سے بھارتی لکھاری چھائے رہے ہیں۔ بہت کم عرصہ ہوا ہے کہ انگریزی زبان کے ادیبوں کی اس فہرست میں کچھ پاکستانی نام بھی دکھائی دینے لگے جن میں ایک تاباں و رخشاں نام فریال علی گوہر کا ہے۔

پاکستان کے لوگ فریال کو اولاً ایک اداکارہ کے طور پر جانتے ہیں اور ثانیاً سِول سوسائٹی کی ایک سرگرم کارکن کے طور پر جو مختلف سماجی ناانصافیوں کے خلاف ہمیشہ علمِ بغاوت بلند کیے دکھائی دیتی ہے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے فریال گوہر کی انگریزی فکشن اسکے تعارف کی آخری اور سب سے غیر معروف کڑی ہے، لیکن جنوبی ایشیا کے انگریزی خواں طبقے میں فریال کی حیثیت پچھلے پانچ برس کے دوران خاصی مستحکم ہوچکی ہے۔

فریال کا پہلا ناول:
The Scent of Wet Eart

2002 میں شائع ہوا تھا جوکہ فریال ہی کے ایک دستاویزی ڈرامے ٹبّی گلی پر مبنی تھا۔ یہ ناول پنگوئن انڈیا نے شائع کیا تھا اور اسے نیویارک ٹائمز نے مقبول ترین کتابوں کی فہرست میں جگہ دی تھی۔

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اب سن 2007 میں فریال گوہر کا دوسرا ناول بھی بھارت ہی سے شائع ہوا ہے۔

No Space for Further Burials
اپنے نام کی طرح گمبھیر اور اُداس کُن ہے۔

یہ ناول ایک ڈائری کی شکل میں ہے۔ امریکی طبّی عملے کا ایک کارکن جو افغان جنگجووں کی گرفت میں آچُکا ہے، اپنا روزنامچہ تحریر کرتا ہے۔

’۔۔۔ہم رات گہری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ سردی بڑھتی جارہی ہے۔ آج صبح میں نے اردگرد کی پہاڑیوں اور چوٹیوں پر برف پڑی دیکھی تھی۔ وارث نے مجھے اپنی پھٹی پرانی شال دے دی ہے اور سردی سے بچنے کےلئے میں نے اسی کی بُکّل مار رکھی ہے۔ جسم کو گرم رکھنے کی خاطر میں نے کچن میں پناہ لے لی ہے، جہاں بُلبل، صابر اور نور جہاں بیمار بچّے کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔۔۔آج صبح ہمیں ایک نئی قبر کھودنی ہے۔ طلوعِ آفتاب کے وقت جب پہاڑی چوٹیوں پرقرمزی روشنی میں برف کسی نوخیز دوشیزہ کے رخساروں کی طرح دمک رہی ہوگی تو ہم ایک چھوٹی سی لیکن خاصی گہری قبر کھودنے میں مصروف ہوں گے جس میں معذور بچے کی لاش سما سکے‘۔

ناول سے ایک اقتباس
 ۔۔۔ آج صبح ہمیں ایک نئی قبر کھودنی ہے۔ طلوعِ آفتاب کے وقت جب پہاڑی چوٹیوں پرقرمزی روشنی میں برف کسی نوخیز دوشیزہ کے رخساروں کی طرح دمک رہی ہوگی تو ہم ایک چھوٹی سی لیکن خاصی گہری قبر کھودنے میں مصروف ہوں گے جس میں معذور بچے کی لاش سما سکے

لیکن بیانیئے کی گمبھیرتا یہیں ختم نہیں ہو جاتی، اس میں انسانی خون کے لوتھڑے، بکھرے ہوئے جسمانی اعضاء اور – پِیپ بہتی ہوئی رِستے ہوئے ناسوروں سے – یہ سب کچھ اتنی وافر مقدار میں ہے کہ بقول مصنفہ امریکہ میں ان کے ادبی ایجنٹ نے اس ناول کو کچھ زیادہ ہی پُرتشدد قرار دیا تھا۔ ایک عام قاری بھی ظلم و سفاکی اور انسانی بے حرمتی کے پے در پے مناظر سے اُوبھ جاتا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ یہ سارا قصّہ ہی تشدد کرنے والوں اور تشدد سہنے والوں کے بارے میں ہے۔

بندی خانے کے جس حبس میں ڈائری لکھنے والا مرکزی کردار مُقیّد ہے وہ زندگی کے ٹھکرائے اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے دیوانے لوگوں کا مسکن ہے۔ جوں جوں اس پاگل خانے کا منظر کھُلتا ہے یہ بات واضح تر ہوتی چلی جاتی ہے کہ علامتی سطح پر یہ خود افغانستان کا منظر ہے۔

دیوانے پن کے یہ مناظر دیکھ کر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا پاگل خانہ تو ایک تفریح گاہ معلوم ہوتا ہے۔ البتہ منٹو کی کسی تحریر سے اگر صورتِ حال کا موازنہ کیا جاسکتا ہے تو وہ سیاہ حاشیئے کے خاکے ہیں جن میں دیوانگی اور فرزانگی کی حدیں معدوم ہو جاتی ہیں، لیکن اُردو فکشن میں مماثلت کی ایک بہتر مثال جوگندر پال کی وہ کہانی ہے جسکا کوئی نام نہیں بلکہ عنوان کی جگہ ایک دائرہ بنا دیا گیا ہے جسکے بیچ میں ایک اور دائرہ اور پھر ایک اور دائرہ۔۔۔ اور عین مرکز میں ایک سیاہ نقطہ ہے جو کہ شہر کا پاگل خانہ ہے، لیکن ُاسکے گِرد آباد سارا شہر خود بھی ایک پاگل خانہ ہے جبکہ اُس سے بھی بڑاا ایک دائرہ جو کہ سارے ملک کی نمائندگی کرتا ہے اُسے اپنے حصار میں لیئے ہوئے ہے۔۔۔پھر یہ پاگل پن دائرہ در دائرہ پھیلتا ہوا سارے عالم کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

تاہم جوگندر پال کی کہانی ایک تصواراتی اور تخیلاتی تحریر ہے جو عالمی سیاست کے موجودہ منظر نامے سے بہت پہلے لکھی گئی تھی لیکن فریال کا ناول

فریال گوہر
ایک عام پاکستانی کے لیے فریال گوہر کی انگریزی فکشن اسکے تعارف کی آخری اور سب سے غیر معروف کڑی ہے
آج کے افغانستان کی جیتی جاگتی شبیہ پیش کرتا ہے۔ یہ تصویر گھناؤنی ضرور ہے لیکن حقیقی ہے اور اس کی ہیبت ناک تفصیلات کو زیرِ قلم لانے کی مہارت میں کسی حد تک مصنفہ کا فِلم اور ٹی وی کا پس منظر کار فرما ہے جہاں امیج ہی ترسیلِ خیال کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ فریال کا پہلا ناول اُنکی فلم سے اخذ کیا گیا تھا جبکہ اپنے دوسرے ناول پر اب وہ خود فلم بنا رہی ہیں۔

اشاعتی ادارے ویمن ان لِمیٹڈ کی طرف سے شائع شُدہ تقریباً دو سو صفحات کے اس ناول کی قیمت پاکستان میں ڈھائی سو روپے رکھی گئی ہے جو کہ یہاں کی اوسط قوتِ خرید کے عین مطابق ہے۔

یہ ناول کئی زبانوں میں ترجمہ ہو رہا ہے: فرانسیسی، ہسپانوی، پشتو اور دری کے حقوقِ ترجمہ پہلے ہی حاصل کئے جا چُکے ہیں۔

منٹومنٹو کی سالگرہ
’آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے‘
حجابآزاد آوازیں کیا ہوئیں؟
آپ کی عورت، آپ کی مرضی: عارف شمیم کا کالم
روسی خاندانخدا کے نام پر۔۔۔
ہر طرف جنگ ہے اور موت۔ عارف شمیم کا کالم
دماعسوچوں کا بیگل ٹو
لاشعور کی فوج کے حملے۔ عارف شمیم کا کالم
اسی بارے میں
لاہور میں عالمی تعلیمی نمائش
07 February, 2006 | قلم اور کالم
لاہور میں آسمان اُداس ہے
01 February, 2006 | قلم اور کالم
دوستوئیفسکی کی سالگرہ لاہور میں
24 December, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد