BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منٹو کی سالگرہ

منٹو
منٹو کو ہم سے رُخصت ہوئے 51 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے
11 مئی منٹو کا یومِ پیدائش ہے۔ گویا منٹو زندہ ہوتا تو آج پورے 94 برس کا ہو چکا ہوتا۔ لیکن اُس سے پوچھا جاتا تو وہ کبھی اتنی طویل عمر کے حق میں رائے نہ دیتا کیونکہ اُسے گیلی لکڑی کی طرح سُلگتے رہنا قطعاً پسند نہ تھا، وہ تو چوبِ خشک کی طرح دھڑ دھڑ جلنے اور چشم زدن میں راکھ ہوجانے کا قائل تھا۔ اس کے پسندیدہ شاعر اسد اللہ غالب نے شاید اُسی جیسے لوگوں کے لیئے کہا تھا:
پوچھو ہو کیا وجود و عدم اہلِ شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
منٹو کو ہم سے رُخصت ہوئے 51 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کی پچاسویں برسی پر لوگوں نے اس کی زندگی اور فن کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ ایک مداح کی حیثیت سے راقم الحروف نے بھی منٹو کی یادیں تازہ کرنے میں مقدور بھر حصّہ لیا۔

لاہور میں کئی نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جنھوں نے حال ہی میں منٹو سے تعارف حاصل کیا ہے اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔

پروفیسر سجاد شیخ سے بھی کئی ملاقاتیں ہوئیں جو انتہائی سنجیدہ سطح پر منٹو کے اہلِ خاندان سے مفصل بات چیت کر کے، مرحوم افسانہ نگار کی زندگی کے بارے میں ایک وقیع دستاویز شائع کرنا چاہتے ہیں۔

منٹو کی پچاسویں برسی کے بعد مجھے بھی کچھ ایسی دستاویزات کی تلاش ہے جنھیں میں نے نوجوانی میں دیکھا تھا لیکن اُس وقت اُن کی قدرو قیمت سے آگاہ نہ تھا۔ آج اُن کی تلاش میں در بدر پھرتا ہوں تو اپنی چالیس برس پرانی غفلت پر رہ رہ کے دانت پیستا ہوں۔

عادل جی کا شراب خانہ
اسی عمارت کے ایک کونے میں عادِل جی کا شراب خانہ تھا اور دین محمد کی توضیح کے مطابق منٹو کو جو چیز کشاں کشاں کمرشل بلڈنگ تک لائی تھی وہ فلمی رسالے کا دفتر نہیں بلکہ عادل جی کی وائِن شاپ تھی۔

بہت نوجوانی کے دِنوں میں فلمی جریدے ماہنامہ ’ڈائریکٹر‘ میں ملازمت کی تھی۔ جِس کرسی پہ میں بیٹھتا تھا، دس بارہ برس پہلے اُس پر شباب کیرانوی بیٹھا کرتے تھے جو اس فلمی جریدے کےمدیر تھے۔

شباب کیرانوی صاحب کے زمانے میں وہاں سعادت حسن منٹو کا بھی آنا جانا تھا اور وہ اس فلمی رسالے کے لئے کہانیاں بھی لکھتے تھے۔ ایک غیر معروف، محض میٹرک پاس نوجوان کے طور پر میرا وہاں ملازمت حاصل کر لینا ایک اہم کامیابی سے کم نہ تھا لیکن میں اکثر سوچتا تھا کہ منٹو جیسے مستند اور وقیع ادیب کو ایک پھٹیچر سے فلمی رسالے میں کہانیاں چھپوانے کا شوق کیوں تھا۔

اس کا جواب مجھے دین محمد چپراسی نے مُہیّا کیا جو کہ رسالے کا سب سے پرانا ملازم تھا اور منٹو صاحب کا زمانہ اسکے لیئے ابھی کل کی بات تھی۔

ماہنامہ ڈائریکٹر کا دفتر کمرشل بلڈنگ کی بالائی منزل میں تھا۔ اسی عمارت کے ایک کونے میں عادِل جی کا شراب خانہ تھا اور دین محمد کی توضیح کے مطابق منٹو کو جو چیز کشاں کشاں کمرشل بلڈنگ تک لائی تھی وہ فلمی رسالے کا دفتر نہیں بلکہ عادل جی کی وائِن شاپ تھی۔ وہ اپنا سالم ٹانگہ کمرشل بلڈنگ کے سائے میں کھڑا کرتے، سیڑھیاں چڑھ کر رسالے کے دفتر میں آتے، دین محمد سے کاغذ مانگتے اور شباب کیرانوی کی میز کرسی پر بیٹھ کر آدھ پون گھنٹے میں ایک کہانی گھسیٹ دیتے۔

ظاہر ہے کہانی کا پلاٹ وہ راستے میں سوچ کر آتے تھے۔ افسانہ، رسالے کے مالک چوہدری فضل حق کو تھما کر اُن سے 30 روپے کیش لیتے، تانگے کا کرایا الگ رکھ کر باقی رقم عادل جی کے کاؤنٹر پہ ادا کرتے اور وہسکی کی بوتل لے کر گھر چلے جاتے۔

دین محمد کے اس بیان کی تصدیق کےلیئے مجھے بہت دُور جانے کی ضرورت نہ تھی۔ دفتر کی آھنی الماری میں رسالے کی پرانی فائلیں مجلّد صورت میں موجود تھیں۔ 1953 کے بعد کی فائلوں میں منٹو کے کئی افسانے تھے جو راقم نے آج تک اُن کے کسی مجموعے میں نہیں دیکھے۔ یقیناً یہ کوئی شاہکار افسانے نہیں تھے، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ منٹو کے غالباً کمزور ترین افسانے تھے جو انھوں نے محض وہسکی کی بوتل خریدنے کےلئے ’فی البدیہہ‘ لکھے تھے۔ لیکن محقق کے لیئے اِن افسانوں کی خاصی اہمیت ہے کیونکہ یہ مصنف کی زندگی کے ایک خاص دور کی نشاندہی کرتے ہیں۔

1954 یا 55 کی فائل میں ’ایلس‘ نام کا ایک افسانہ تھا جو دراصل ’عجب خان‘ کی معروف کہانی تھی۔ اس روز رسالے کے دفتر آتے ہوئے شاید انھیں کوئی پلاٹ نہ مِل سکا چنانچہ انھوں نے مشہور سرحدی کہانی چوہدری فضلِ حق کو 30 روپے میں بیچ کر عادل جی سے اپنا پسندیدہ مشروب خرید لیا ہوگا۔

نئی نسل منٹو پہ اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے

فلمی رسالے ڈائریکٹر کے ایڈیٹر شباب کیرانوی تب تک ایک غیر معروف انسان تھے لیکن شہرتِ عام کے دربار میں داخلے کے لیئے پَر ضرور تول رہے تھے۔ انھوں نے چندے جمع کر کے، دوستوں سے اُدھار لے کر اور کچھ ذاتی اشیاء فروخت کر کے زندگی کی پہلی فلم ’جلن‘ مکمل کی تھی لیکن ریلیز سے پہلے ہی یہ حاسدوں کے لئے بہت بڑی جلن بن چکی تھی۔ چنانچہ وہ فلم کی اس کلی کو غنچہ بننے سے پہلے ہی مَسل دینا چاہتے تھے۔

بقول دین محمد، شباب کیرانوی کی پروڈکشن کمپنی کا واحد اثاثہ ایک پرانی سٹیشن ویگن تھی۔ اسی پر سارے فنکار گھروں سے اکٹھے کیئے جاتے، اسی پر شوٹنگ کا سامان ڈھویا جاتا، یہی ویگن آؤٹ ڈور شوٹنگ کےلیئے استعمال ہوتی اور اگر باہر رات پڑ جاتی تو فلمی عملہ اسی ویگن میں دوہرا چوہرا ہوکر سو جایا کرتا۔

ایک روز جب صبح سویرے سارا عملہ اپنا اپنا سامان لیئے ویگن کے پاس پہنچا تو انھیں یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ کسی سنگدِل نے ویگن کے ٹائر چیر پھاڑ دیئے ہیں۔ دین محمد کا کہنا ہے کہ یہ کام تیز دھار اُسترے کے بغیر ممکن نہیں تھا اور کرنے والا کوئی قریبی عزیز تھا۔

حاسدوں کے وار سہتے اور رقیبوں کے حملوں سے بچتے بچاتے بالآخر فلم ’جلن‘ مکمل ہوگئی اور سینسر کے لئے تاریخ بھی دے دی گئی۔

اس نازک مرحلے پر جبکہ لبِ بام محض دوچار ہاتھ رہ گیا تھا، حاسدوں نے شباب کیرانوی کی کمند توڑنے کےلئے ایک زبردست افواّہ چھوڑ دی۔

فلم جلن میں اداکار نذر پر ایک مزاحیہ گانا فلم بند کیا گیا تھا جس کے بول تھے:
’تو بھی ٹھرکی، میں بھی ٹھرکی
سارا زمانہ ٹھرکی ہے‘

حاسدوں نے مشہور کر دیا کہ اس گانے کی وجہ سے فلم بَین ہو جائے گی کیونکہ ’ٹھرکی‘ ایک فحش لفظ ہے اور سینسر بورڈ اس فحاشی کی قطعاً اجازت نہیں دےگا۔

رسالے کے پرانے چپراسی دین محمد کا کہنا ہے کہ یہ سُن کر شباب کیرانوی کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی کیونکہ انھوں نے ساری آس اُمید اپنی فلم جلن سے وابستہ کر رکھی تھی اور وہ عمر بھر کی کمائی اپنی اس فلم پہ لگا چُکے تھے۔

 شباب صاحب نے بغیر کسی تمہید کے فوراً اُن سے یہ سوال کردیا ’منٹو صاحب ’ٹھرکی ‘ کا کیا مطلب ہے‘؟ منٹو صاحب کو یہ سوال بڑا بے موقع اور انتہائی بے تُکا لگا۔ لیکن جب شباب صاحب نے اپنی مشکل بیان کی تو منٹو صاحب نے اُس پر ہمدردانہ غور شروع کردیا۔ منٹو صاحب کاکہنا تھا کہ ’ٹھرکی‘ کوئی فحش لفظ نہیں ہے اور اس کی بنیاد پر فلم کو بَین نہیں کیا جاسکتا۔

شباب صاحب پریشانی میں تیز تیز ٹہل رہے تھے کہ منٹو صاحب داخل ہوئے۔ حسبِ معمول جلدی میں تھے۔ مجھ سے بولے دین محمد! کاغذ لاؤ۔ میں نے کاغذ لاکر میز پر رکھے۔ انھوں نے اپنا قلم نکالا۔۔۔ شباب صاحب نے بغیر کسی تمہید کے فوراً اُن سے یہ سوال کردیا ’منٹو صاحب ’ٹھرکی ‘ کا کیا مطلب ہے‘؟ منٹو صاحب کو یہ سوال بڑا بے موقع اور انتہائی بے تُکا لگا۔ لیکن جب شباب صاحب نے اپنی مشکل بیان کی تو منٹو صاحب نے اُس پر ہمدردانہ غور شروع کردیا۔ منٹو صاحب کاکہنا تھا کہ ’ٹھرکی‘ کوئی فحش لفظ نہیں ہے اور اس کی بنیاد پر فلم کو بَین نہیں کیا جاسکتا۔

شباب صاحب نے فرمائش کی کہ اس مرتبہ منٹو صاحب افسانے کی بجائے ایک مضمون لکھ دیں جو کہ ’ٹھرک‘ کے موضوع پر ہو۔ شباب صاحب کا پروگرام یہ تھا کہ اگر اس لفظ کی بنیاد پر فلم بَین ہو گئی تو وہ اس معاملے کو عدالت تک لے کر جائیں گے اور اپنی صفائی میں سعادت حسن منٹو جیسے جیّد قلمکار کا مطبوعہ مضمون پیش کر سکیں گے۔

منٹو غالباً اس روز کہانی راستے میں سوچ کر آئے تھے۔ شباب کیرانوی کی فرمائش نے انھیں کچھ پریشان تو کیا لیکن انھوں نے انکار نہیں کیا اور دین محمد کے مہیّا کردہ کاغذ پر قلم چلانا شروع کردیا۔

دین محمد کا بیان ہے کہ آدھا صفحہ لکھنے کے بعد وہ بیزار سے ہو گئے اور بولے ’باقی فیر لِکھ دیاں گا، ہُن میں جاناں اے۔۔۔ ذرا پیسے دوا دے۔۔۔‘
شباب صاحب نے 30 روپے کی رسید پر دستخط کراکے چوہدری فضل حق کو دی اور وہاں سے دس دس روپے کے تین نوٹ لاکر منٹو صاحب کو دیئے۔ افسانہ نگار نے اگلے روز آنے کا وعدہ کر کے پیسے جیب میں ڈالے اور سیڑھیاں اتر کر عادل جی کی دُکان کا رخ کیا۔

اگلے روز منٹو صاحب نہیں آئے۔ اُس سے اگلے روز بھی نہیں۔ اصل میں اُس فلمی رسالے کی آخری یاترا وہ کر چکے تھے۔ چند روز بعد اُن کی موت کی خبر ہی آئی۔

’ٹھرک‘ کے موضوع پر اپنے اس نامکمل مضمون میں منٹو نے کِن خیالات کا اظہار کیا تھا اِس پر دین محمد کوئی روشنی نہ ڈال سکا۔

میں نے جب بہت زور دے کر پوچھا تو دین محمد نے صرف اتنا کہا:
’بڑی گہری باتیں تھیں جناب، میں تو اَن پڑھ آدمی ہوں‘۔

جس آہنی الماری میں پرانا ریکارڈ پڑا تھا میں نے اسکا چپّہ چپّہ چھان مارا کہ شاید منٹو کے ہاتھ کا لکھا ہوا وہ نایاب ٹکڑا ہاتھ آجائے۔ یہ تلاش بالکل رائیگاں تو نہیں گئی کیونکہ منٹو کے ہاتھ کی لکھی ہوئی دو پرچیاں اور 30 روپے کی ایک پرانی رسید میرے ہاتھ لگی لیکن گوہرِ مقصود میرے ہاتھ نہ آیا۔

منٹو
منٹو اپنی تینوں بیٹیوں نگہت، نزہت اور نصرت کے ساتھ

آخر تجسّس نے اِتنا مجبور کر دیا کہ میں رسالے کے مالک چوہدری فضل حق کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ ٹھرک کے موضوع پر اپنے نامکمل مضمون میں منٹو نے کیا لکھا تھا۔

چوہدری فضل حق نے اپنی یاداشت کے زور پر منٹو کی اُس گم گشتہ تحریر کے مندرجات کچھ یوں بیان کئے:

’ٹھرک‘ اصل میں عشق کی ایک نامکمل اور نا آسودہ شکل ہے۔ آتشِ عشق میں جل کر خاک ہو جانے والا شخص عاشق کہلاتا ہے لیکن شعلہء عشق اگر پوری طرح نہ بھڑک سکے اور جسم وجان ایک گیلی لکڑی کی طرح آہستہ آہستہ سلگتے رہیں تو یہ کیفیت ٹھرک کہلائے گی۔ عاشق کو منزلِ مقصود مِل جاتی ہے۔ خواہ ملاپ کی شکل میں ہو یا موت کی شکل میں، لیکن ایک ٹھرکی اس آسودگی سے محروم رہتا ہے۔۔۔‘

دین محمد چپراسی اور چوہدری فضل حق پروپرائٹر ماہنامہ ڈائریکٹر سے میری اس بات چیت کو آج چالیس برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران میرا بہت سا وقت بیرونِ ملک گزرا۔ عرصہ دراز کے بعد کمرشل بلڈنگ جا کر پرانے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ دین محمد تو مُدت ہوئی راہی ملک عدم ہو چکا ہے۔ دفتر کے دیگر دو ملازمین جمیل اور اقبال کا سراغ نہ مِل سکا۔ البتہ رسالے کے فوٹوگرافر عارف نجمی ماشااللہ حیات ہیں لیکن ماہنامہ ڈائریکٹر کی پرانی فائلوں اور دیگر دستاویزات کے بارے میں وہ بھی نہیں جانتے کہ رسالہ بند ہوجانے کے بعد اُن کا کیا حشر ہوا۔

گورنمنٹ کالج لاہور سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے دو طلبہ شمشیر حیدر اور نوید الحسن ماہنامہ ڈائریکٹر کی پرانی فائیلوں اور ادارے کے پرانے ملازمین کی کھوج میں ہیں۔ اُمید کرنی چاہیئے کہ منٹو کی آئندہ سالگرہ یا برسی تک اِن نوجوانوں کی تحقیق کچھ رنگ لائے گی اور منٹو کی کچھ گُم شدہ تحریریں منظرِ عام پر آسکیں گی۔

اسی بارے میں
منٹو: مزید خراجِ عقیدت
14 September, 2005 | فن فنکار
منٹو: نصف صدی کا قصہ 2
27 February, 2005 | فن فنکار
منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی
23 February, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد