لاہور میں آسمان اُداس ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے لیکن لاہور کا آسمان سُونا سُونا ہے کیونکہ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں نظر نہیں آرہیں اور نہ ہی گلی محلّوں سے ’بو کاٹا‘ کا شور بلند ہو رہا ہے۔ لاہور میں بالائی مال روڈ کے خوشحال رہائشی علاقے اور گندے نالے کے ساتھ ساتھ آباد، بستی سیدن شاہ کے درمیان ایک کھُلا میدان ہے جو محکمہء اوقاف کی تحویل میں ہے اور آس پاس کے محلّوں سے لڑکے بالے اس میدان میں جمع ہو کر پتنگ اُڑایا کرتے تھے۔ کچھ پارٹیاں دُور دراز سے کاروں اور ویگنوں میں پتنگ بازی کا سامان لیکر یہاں آتی تھیں اور چھُٹی کے دِن تو یہاں پِک نِک کا منظر ہوا کرتا تھا۔ پتنگ بازی پر پابندی لگنے کے بعد یہاں ہر اتوار کو بچّوں اور نوجوانوں کا ہجوم توپہلے ہی کی طرح ہوتا ہے لیکن اُن کے مشاغل میں تبدیلی آگئی ہے۔ اب ڈور اور پتنگ کی بجائے اُن کی ہاتھوں میں گُلّی ڈنڈا یا گیند بلاّ دِکھائی دیتا ہے اور کچھ منچلوں نے تو میدان کے ایک کونے میں چھوٹا سا ’ گالف کلب‘ بھی بنالیا ہے۔
بچّے مختلف ٹولیوں میں بٹے اپنے اپنے کھیل میں مشغول دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ پتنگ بازی پر لگنے والی پابندی کی بدولت پنجاب میں بچّوں اور نوجوانوں کو کرکٹ اور گالف میں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے تو اتنی جلدی اس نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں کیونکہ آپ کرکٹ میں مگن کسی بھی بچّّے سے پوچھیئے تو وہ یہی کہے گا کہ ہم تومجبوراً کرکٹ کھیل رہے ہیں، اگر پابندی نہ ہوتی تو اِس وقت ہم پتنگوں کے پیچ لڑا رہے ہوتے۔ میدان کا بھرپور جائزہ لینے اور درجنوں بچّوں سے بات چیت کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ پتنگ باز بچّوں کی اکثریت، پابندی کے بعد گُلّی ڈنڈے کی جانب راغب ہوئی ہے۔ ایک بچُے کا کہنا تھا کہ گُلّی ڈنڈا اگرچہ خطرناک کھیل ہے اور گُلّی کی نوک سے جسم زخمی ہو سکتا ہے لیکن پتنگ بازی کی یاد بھُلانے کے لئے ایسے کھیل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں بسنت: پتنگیں، موسیقی اور دعوتیں05 February, 2005 | پاکستان پھر پتنگ، پھر موت پھر پابندی 22 February, 2004 | پاکستان فوجی حکمت سے پتنگ بازی کا جنم13 February, 2004 | پاکستان لاہورمیں آسمان پتنگوں سے سجےگا12 February, 2004 | پاکستان پتنگ بازی کے کاروبار پر پابندی کالعدم21 January, 2004 | پاکستان پتنگ بازی پر عائد پابندی ختم 12 December, 2003 | پاکستان پتنگ بازی: سپریم کورٹ سے پانچ رہا08 December, 2005 | پاکستان چھ سالہ پتنگ باز کی رہائی کا حکم26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||