BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کے ’شاعر و صُورت گر و افسانہ نویس‘

نیرنگ گیلری
شیشے کا داخلی دروازہ کُھلنے سے پہلے ہی اندرونی دیواروں پہ آویزاں مصّوری کے شاہکار اپنی جھلک دکھاتے ہیں
لاہور کا کافی ہاؤس تو مُدت ہوئی بند ہو چکا ہے، ٹی ہاؤس پر بھی آج کل نزع کا عالم ہے۔ مالک نے کئی بار اعلان کیا ہے کہ وہ چائے خانہ بند کر کے کاروں کے فاضِل پرزوں اور ٹائروں کی دُکان کھولنا چاہتا ہے۔ ٹی ہاوس کے ارد گرد ٹائروں اور پُرزوں کا کاروبار زوروں پر ہے اور مارکیٹ کی قوتّیں کسی بھی دِن ٹی ہاؤس کو اپنے تیز و تند ریلے میں بہا لے جائیں گی۔

مال روڈ پر ادیبوں، شاعروں، مفکروں، یونیورسٹی کے طالبعلموں اور معلموں کے مِل بیٹھنے کا یہ آخری ٹھکانہ تھا اور اس کے اِنحطاط نے لاہور کے ہر شاعر اور ادیب کو ایک یوسفِ بے کارواں بنا کے رکھ دیا ہے۔

نیر علی دادا
نیّر علی دادا شاعروں، ادیبوں، مصوّروں اور موسیقاروں کو ایک چھت تلے جمع کرنا چاہتے ہیں

مایوسی کے اِس گھُپ اندھیرے میں معروف آرکیٹیکٹ نیّر علی دادا روشنی کی ایک کرن لے کر نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنی نیرنگ آرٹ گیلری کے دروازے شاعروں اور ادیبوں پہ کھول دیئے ہیں۔

نیّر دادا کی خواہش ہے کہ مصّوروں اور موسیقاروں کی طرح قلم کار بھی اس گیلری میں آ کر بیٹھا کریں تا کہ فن اور ادب پہ اُن مباحث کا احیاء ہو سکے جو ایک زمانے میں حلقہء اربابِ ذوق کا محبوب موضوع ہوا کرتے تھے۔

انتظار حسین
نیّر دادا کی دعوت پر سب سے پہلے انتظار حسین نے اس گیلری میں آ کر گرم گرم چائے کا ایک کپ پیا

اس گیلری کو ادیبوں کا مستقل ٹھکانہ بنانے کے لئے نیّر دادا نے فرداً فرداً لاہور کے دانشوروں اور قلم کاروں سے ملاقاتیں کیں اور انھیں قائل کیا کہ مصوّروں، موسیقاروں، سنگ تراشوں اور گلوکاروں کی معیت میں اُن کا فن مزید نِکھر کر سامنے آئے گا۔

نیّر دادا کی دعوت قبول کرتے ہوئے سب سے پہلے اُردو کے بزرگ افسانہ نویس اور کالم نگار انتظار حسین نے اس گیلری میں آ کر گرم گرم چائے کا ایک کپ پیا اور گردوپیش کے فنکارانہ ماحول سے اِتنے مسرور مطمئن ہوئے کہ اگلے ہفتے مسعود اشعر، مُنو بھائی اور جاوید شاہین بھی اُن کے ساتھ دیکھے گئے۔

پرانے موسیقار
امیر علی خان اور اختری بائی فیض آبادی

انتظار حسین کا کہنا ہے کہ لاہور کے نئے کلچر میں چائے کی پیالی پر ہونے والی علمی ادبی گفتگو کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ چائے کی جگہ اب کڑہائی گوشت، سالم ران، بلوچی سجّی سندھی بریانی اور تکّے کباب نے لے لی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے کھانوں پر دانش ورانہ گفتگو نہیں ہو سکتی۔

انتظار حسین سن پچاس اور ساٹھ کے عشروں کو یاد کرتے ہیں جب مال روڈ پر کافی ہاؤس، ٹی ہاؤس اور شیزان، ادیبوں اور شاعروں کے مستقل ٹھکانے ہوا کرتے تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ نیرنگ آرٹ گیلری لق و دق صحرا میں ایک نخلستان کی طرح نمودار ہوئی ہے اور ادب و فن کی پیاس بجھانے والے یہاں جوق در جوق آیا کریں گے۔

منو بھائی
فنکاروں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے: منو بھائی

کہنہ مشق صحافی منوبھائی پچاس برس سے کالم نگاری کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نصف صدی پہلے ادیبوں شاعروں اور دیگر فنکاروں میں رواداری اور برداشت کا مادہ کہیں زیادہ تھا اور وہ ایک دوسرے کو نہ صرف قبول کرتے تھے بلکہ اچھے کام کی داد بھی دیتے تھے لیکن اب کمرشلزم کے باعث فنکاروں نے ایک دوسرے کو داد دینے کا سلسلہ بند کر دیا ہے تاکہ کاروباری حلقوں میں ان کا ریٹ نہ بڑھ جائے اور پھر یہ خطرہ بھی ہمہ وقت لاحق رہتا ہے کہ کوئی ادیب بھائی ہمارے ہی چھابے میں ہاتھ نہ مار دے۔

مُنّو بھائی کہ کہنا ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد جس طرح فنکار لوگ کھُلے بندوں سڑکوں پر پھرا کرتے تھے، اب سکیورٹی کی خراب ہوتی صورتِ حال میں وہ ممکن نہیں رہا اور لوگ سرِشام ہی گھروں میں دبک جاتے ہیں چنانچہ مِل بیٹھنے اور گپ شپ کرنے کا کلچر رُوبہ زوال ہے۔

تابش
تمام فنون کے دھارے ایک ہی مرکز سے پھوٹتے ہیں: تابش

شاعر نقّاد اور مصّور ذوالفقار تابش کا کہنا ہے کہ مختلف فنون کے نمائندوں کا باہمی رابطہ اور مکالمہ اشد ضروری ہے۔ ہر آرٹ کے دامن میں کچھ ایسی گتھیاں ہوتی ہیں جو کسی اور آرٹ کے توسط سے سلجھ سکتی ہیں، کیونکہ شاعری، مصوّری، سنگ تراشی، موسیقی اور افسانہ نگاری کے تخلیقی دھارے ایک ہی مرکز سے پھوٹتے ہیں۔

نیرنگ گیلری میں جمع ہونے والے سبھی بزرگ ادیب کہتے ہیں کہ جب ہم ادھیڑ عمر کو پہنچے تو فوراً ایک نوجوان نسل ہمیں چیلنج کرنے کے لئے سامنے آگئی تھی۔ اب ہمارے بال سفید ہو چکے ہیں لیکن آج کی نسل ہمیں چیلنج نہیں کر رہی کیونکہ ادب و فن نئی نسل کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔

موسیقی کی کتاب
گیلری میں نئی اور پرانی موسیقی کے متعلق دلچسپ کتابوں کا خزانہ موجود ہے

نیّر علی دادا کا خیال ہے کہ اس گیلری میں باقاعدگی سے آنے والے نوجوان اپنی بزرگ نسل کو ضرور چیلنج کریں گے اور اسی مباحثے اور مکالمے سے ہمارے فن اور ادب کو فروغ کی نئی راہیں ملیں گی۔

اسی بارے میں
جرمن، فرنچ ثقافتی مرکز ایک ساتھ
18 April, 2005 | قلم اور کالم
پنٹو کا غصہ آیا کہاں سے؟
23 September, 2005 | قلم اور کالم
لاہور میں عالمی تعلیمی نمائش
07 February, 2006 | قلم اور کالم
لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط
23 August, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد