پنٹو کا غصہ آیا کہاں سے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
البرٹ پِنٹو کا غصہ تو بڑا مشہور ہے لیکن یہ صاحب تھے کون؟ اگر آپ کے خیال میں یہ صدیوں پرانا کوئی برطانوی یا امریکی کردار ہے تو اپنی تصحیح کر لیجئے کیونکہ کردار مقامی ہے اور قصہ بھی صرف 25 سال پرانا ہے۔ البرٹ پِنٹو ساحلِ گوا کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جہاں بڑی تعداد میں مسیحی آباد ہیں۔ بمبئی میں وہ ایک موٹر مکینک کے طور پر زندگی گزاررہا ہے۔ بڑے بڑے امیر سیٹھوں کی بڑی بڑی گاڑیاں اسکے پاس مرمت یا صفائی کے لئے آتی ہیں جنہیں درست کرنے کے بعد وہ کھُلی سڑک پر اُن کی ٹرائی لیتا ہے اور جب یہ کاریں سڑک پرفراٹے بھرتی ہیں تو ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ہوا پِنٹو چند لمحوں کے لئے خود کو کار کا مالک تصّور کر لیتا ہے۔۔۔ لیکن جونہی اسے خیال آتا ہے کہ وہ کار کی آزمائش کرتا ہوا ورکشاپ سے بہت دور آگیا ہے، اسکے حسین تصورات کا محل مسمار ہونے لگتا ہےاور وہ کار کی رفتار دھیمی کر کے اسے ورکشاپ کی طرف موڑ لیتا ہے۔ کار کا مالک آتا ہے اور ورکشاپ کے مالک کو ادائیگی کر کے چلا جاتا ہے۔۔۔۔ اور کار مکینک کھڑا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ البرٹ پِنٹو کو اس موقعے پر بہت غصّّہ آتا ہے اور اسکا غصّہ محض کار والے سیٹھ یا ورکشاپ کے مالک تک محدود نہیں بلکہ خود اپنی محبوبہ سٹیلا پر بھی اسے غصّہ آتا ہے کیونکہ وہ بے دھڑک ورکشاپ میں آ گھُستی ہے اور سارے کاریگروں سے ہنس ہنس کے باتیں کرتی ہے۔ لیکن جب سٹیلا ورکشاپ کے مالک سے خوش گپیاں شروع کر دیتی ہے تو البرٹ پِنٹو کا غصّہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ایک روز البرٹ کلاسیکی ماڈل کی ایک انتہائی نایاب کار کو مرمت کر نے کے بعد چلاتا ہوا مالک کے گھر تک لے جاتا ہے ۔ وہاں اسکی ملاقات گھر کی مالکن سے ہوتی ہے۔ البرٹ یوں ظاہر کرتا ہے کہ جیسے وہ اِن کا ہم پلّہ آدمی ہے اور کار کی آزمائش کے بعد گویا اپنے دوست کو کار لوٹانے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن بیوی کا رویہ بالکُل وہی ہے جو ایک امیر کبیر خاتون کا ایک موٹر مکینک کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ البرٹ کو خاتون کی یہ رعونت پریشان کر دیتی ہے اور وہ اپنی خِفّت مٹانے کے لئے جیب سے کار کی چابی نکال کر خاتون کے حوالے کرنے کے لئے اسکی طرف بڑھتا ہے لیکن وہ عورت چابی لینے کی بجائے اپنے پرس میں سے کچھ پیسے نکال کر مکینک کو دیتی ہے اور کہتی ہے ’ چابی ڈرائیور کو دے دو‘ وہ عورت پیسے دے کر اندر چلی جاتی ہے اور امیر لوگوں میں گھُل مِل کر اُن جیسا بن جانے کا خواہش مند مکینک دل مسوس کے رہ جاتا ہے۔ اس موقعے پر البرٹ پنِٹو کو خود اپنے آپ پر بہت غصّہ آتا ہے۔ یوں تو وہ دِن رات غصّے میں رہتا ہے کیونکہ زندگی کی کوئی بھی کل، اس کے حساب سے سیدھی نہیں ہے لیکن پھر ایک ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جو ہمیں البرٹ پنِٹو کے غصّے کی جڑوں تک لے جاتا ہے۔ بمبئی میں کپڑے کی مِلوں کے مزدور ہڑتال کر دیتے ہیں۔ البرٹ کا باپ بھی ہڑتال میں شامل ہے ۔
البرٹ کے لئےیہ ساری صورتِ حال بڑی پریشان کُن ہے لیکن اس کا غصّہ کسی ایک فرد یا کسی ایک صورتِ حال تک محدود نہیں بلکہ وہ خود کو ایک ایسے معاشی اور معاشرتی نظام میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے جو عام خوشیوں اور راحتوں سے محروم ایک نوجوان کے دِل میں غصّے کے سوا کوئی جذبہ پیدا ہی نہیں کر سکتا۔ 1980 میں بننے والی فلم ’ البرٹ پنِٹو کو غصّہ کیوں آتا ہے ‘ مصنف و ہدایت کار سعید مرزا کی دوسری فلم تھی۔ اگرچہ ادب و فن کی دُنیا میں اُس وقت تک سوشلسٹ حقیقت پسندی کا طوطی بول رہا تھا لیکن سعید مرزا نے ایک لمحے کے لئے بھی فلم کو پروپیگینڈا نہ بننے دیا اور انتہائی خوبصورت انداز میں اپنا پیغام ناظرین تک پہنچادیا۔ اس فلم میں مرکزی کردار کا نام پِنٹو ہی کیوں رکھا گیا، اسکی کوئی تاریخی سیاسی یا سماجی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجئے، ہاں کسی حد تک ہم اسے ایک ’معاشی‘ وجہ قرار دے سکتے ہیں۔ بات اتنی سی تھی کہ چھوٹے بجٹ کی فلم ہونے کے باعث اسکی زیادہ تر شوٹنگ ایک ہی گھر میں کر لی گئی تھی اور وہ گھر تھا مزاحیہ اداکار پِنٹو کا۔ چونکہ نقد معاوضہ دینا ممکن نہ تھا اس لئے خراجِ تحسین کے طور پر پِنٹو کے نام کو فلم کے ٹائٹل کا حصہ بنا دیا گیا اور مزاحیہ اداکار نے یہ انعام خوشی سے قبول کر لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||