تھیسارس کیا ہوتا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگریزی ۔ اُردو لُغت نویسی کے سلسلے میں ہمارے جو دو مضامین آپ کی نظر سے گزرے ہیں اُن میں آپ نے تھیسارس کا ذکر بھی سُنا ہو گا۔ آج ہم ذرا تفصیل سے اس موضوع پر بات کریں گے۔ تھیسارس یونانی زبان سے انگریزی میں آیا ہے اور اسکا بنیادی مطلب تھا ذخیرہ یا خزینہ۔ بعد میں یہ لفظ ’خزینہء الفاظ‘ کے معنوں میں استعمال ہونے لگااور آج ہم تھیسارس سے مراد ایک ایسی ڈِکشنری لیتے ہیں جسکا بنیادی کام لفظ کا مطلب بتانے کی بجائے مطلب کا لفظ بتاناہے، یعنی عام ڈِکشنری کی طرح الفبائی ترتیب میں لفظوں کا مطلب بیان کرنے کی بجائے تھیسارس ہمیں مختلف موضوعات اور تصورات کے بارے میں مناسب لفظوں کی فہرستیں مہیا کرتا ہے۔ مثلاً ہم اگر ’سڑک‘ کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں تو تھیسارس ہمیں اس طرح کے لفظ مہیا کرے گا : ڈنڈی، پگ ڈنڈی، راہ، شاہرا، خیابان، ہائی وے، روڈ، ذیلی سڑک، سٹریٹ، گلی وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی انگریزی لُغات کا سراغ ہمیں سولہویں صدی عیسوی سے ملنا شروع ہوجاتا ہے لیکن لفظوں کی گروہ بندی کو ایک باقاعدہ ہُنر میں تبدیل کرنے کا سہرا ایک انگریز پیٹر مارک راجٹ کے سر ہے جس نے 1852میں زُمرہ بند لفظوں کی وہ فہرست پیش کی جو ’ راجٹ کا تھسارس‘ کہلاتی ہے اور آج دُنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہے۔ راجٹ نے تمام معلومہ موجودات کو منطقی بنیاد پر چھ حصّوں میں تقسیم کیا جِن کے عنوانات یہ تھے: Abstract Relations اُردو میں اس فہرست کو ہم یوں بیان کر سکتے ہیں: راجٹ کا تھیسارس دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصّے میں زُُمرہ بندی کے حساب سے لفظوں کی فہرستیں ہیں اور دوسرے حصّے میںABCD کے حساب سے یعنی الفبائی ترتیب میں ایک مفصّل اشاریہ دیا گیا ہے تا کہ کسی بھی لفظ کے متعلقات ڈھونڈنے کے لیے آسانی ہو جائے۔ انگریزی کے بعد فرانسیسی اور جرمن زبانوں کے تھیسارس بھی مرتب کیے گئے اور آج دنیا کی ہر ترقی یافتہ زبان میں اس کا تھیسارس موجود ہے۔ اُردو میں ایک تھیسارس تیار کرنے کا کام کوئی پچاس برس پہلے سید عابد علی عابد نے شروع کیا تھا لیکن اُن کی عمر نے وفا نہ کی اور یہ کام چند کارڈوں کے اندراج سے آگے نے بڑھ سکا۔ بعد میں اُردو ترقی بورڈ نے بھی ایک تھیسارس تیار کرنے کااعلان کیا لیکن ابتدائی کام کے بعد ہمت ہار دی۔ البتہ بورڈ کے سربراہ نے اتنی نیکی ضرور کی کہ لفظوں کی جو فہرستیں تیار ہو چُکی تھیں انھیں ’اُردو مترادفات‘ کے نام سے ایک کتاب میں شائع کر دیا۔ بعد میں یہ فہرست طویل تر ہو ہوتی گئی لیکن یہ کتاب اپنے محدود دائرے سے نکل کر تھیسارس کا درجہ اختیار نہ کر سکی۔ اس کے بعد بھی کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں نے اُردو تھیسارس تیار کرنے کا اعلان کیالیکن پھِر اِس بھاری پتھر کو چُوم کر عقیدت و احترام سے الٹے پاؤں واپس ہوگئے۔ آخر کار محمد رفیق خاور مرحوم نے کمرِ ہمت باندھ کر 1981 میں راجٹ ہی کے انگریزی تھیسارس کو اُردو میں ڈھالنے کا بظاہر نا ممکن کام شروع کر دیا اور بارہ برس کی شبانہ روز محنت کے بعد دسمبر 1993 میں یہ کام ختم کر لیا۔ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نے 1994 میں تھیسارس کا یہ ترجمہ شائع کر دیا اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن چھپ چُکے ہیں۔ اس میں قباحت صرف یہ ہے کہ ترجمے کے لئے 1961 کے انگریزی ایڈیشن کو بُنیاد بنایا گیا ہے جس کا حصول آج کل آسان نہیں ہے۔ چنانچہ اگر آپ انگریزی اور اُردو کے اندراجات کا موازنہ کرنا چاہیں تو کسی لائبریرین سے آپکی دوستی ہونی چاہیے ۔۔ یا پھر آپکو کتابوں کے کباڑ خانے کھنگالنے کا ماہر ہونا چاہیے۔ مجھے تھوڑی سی تگ و دو کے بعد انارکلی کے ایک کباڑیے سے راجٹ کے تھیسارس کا 1961 والا ایڈیشن مل گیا تھا چنانچہ میں ایک مشغلے کے طور پر دونوں کے متون کا موازنہ کرتا رہتا ہوں۔ آئیےآپ کو بھی اس کھیل میں شامل کیا جائے۔۔۔۔ تو لیجیے میں آنکھیں بند کر کے راجٹ کا تھیسارس کھولتا ہوں۔ جو لفظ میرے سامنے آیا ہے وہ: INIMAGINABLE 1 improbable 473 wonderful 870 ہر زمرے کے آگے ایک نمبر درج ہے۔ جب آپ متعلقہ نمبر والا لفظ نکالیں گے تو اسکے مزید متبادلات آپکو نظر آئیں گے مثلاً اگر آپ 471 نمبر پر جائیں تو آپکو لفظوں کی یہ فہرست نظر آئے گی: not-possible, absurd, contrary to reason, unlikely, at variance with facts, unreasonable, incredible inconceivable etc اور آئیے اب ذرا تفّنِ طبع کے لیے اُردو کے تھیسارس میں 471 نمبر کے اندراج پر آتےہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا لکھا ہے: محال، نا ممکن، بعیداز امکان، نا ممکن العمل، نا ممکن الوقوع، نا قابلِ عبور، نا قابلِ رسائی، انہونی، ورائے قیاس، نا قابلِ یقین، نا قابلِ تصّور، بعید از عقل، خارج از بحث، محّیرالعقول۔ یہاں طوالت کے خوف سے ہم مزید تفصیل میں نہیں جاتےلیکن اِن میں سے بہت سے لفظوں کے آگے پھر ایک نمبر درج ہوتا ہے اور اُس نمبر پر پہنچ کر آپکو لفظوں کی ایک اور فہرست ملتی ہے جو کہ عین اُس لفظ کے متبادلات ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہمارا بنیادی مقصد آپکو انگریزی کے تھیسارس سے روشناس کرانا ہے۔ راجٹ کا تھیسارس ڈیڑھ سو برس سے مسلسل چھپ رہا ہے اور اب اسکی تقلید میں کئی اور تھیسارس بھی مارکیٹ میں آگئے ہیں۔ تھیسارس میں محض متبادلات ہی درج نہیں ہوتے بلکہ جہاں جہاں ممکن ہو متضاد المعانی الفاظ کی فہرست بھی درج کی جاتی ہے اور لفظ کو اسکی مختلف قواعدی حالتوں میں پرکھا جاتا ہے یعنی اگر وہ فعل کے علاوہ اسم یا اسم صفت کی صورت میں بھی استعمال ہوتا ہے تو وہ تمام شکلیں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے زبان کے ہر طالبِ علم کے لئے تھیسارس کا مطالعہ انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||