BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 February, 2006, 18:09 GMT 23:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیلن کی ڈ کشنری (آخری قسط)

ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری
ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری
’یہ گمان درست نہیں کہ انگریز لغت نگار صرف سیاسی اور انتظامی مصلحت و ضرورت کی بناء پر لُغت نویسی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اُن کے علمی شغف اور زبان سے سچّی دلچسپی کا اعتراف کرنا چاہیئے۔ اُن کے بعض خیالات یا ذوقی ترجیحات سے اِختلاف ہو سکتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اُن پر دانستہ تعصّب یا مسلمانوں سے بغُض و بیَر کا الزام لگانا قرینِ انصاف ہوگا‘۔

متذکرہ بالا اقتباس ڈاکٹر فیلن کی لغت پر مرحوم شان الحق حقّی کے تبصرے سے لیا گیا ہے۔

گزشتہ دو مضامین میں ہم نے ڈاکٹر فیلن کی اُردو ۔ انگریزی لغت کے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے۔ آج کی نشست میں ہم اس کی چند خامیوں اور کوتاہیوں پر بھی نگاہ ڈالیں گےاور اس افسوس ناک حقیقت پر بھی غور کریں گے کہ پہلی اشاعت کے ایک سو پچیس برس بعد تک بھی اس لغت میں موجود غلطیاں جوں کی توں موجود ہیں اور کسی علمی و ادبی ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اِس لغت پر نظر ثانی کر کے اس کا ایک نیا ترمیمی ایڈیشن شائع کر دے۔

ایک زندہ اور زیرِ استعمال زبان کی لغت کبھی حتمی شکل میں مرتب
نہیں ہو سکتی کیونکہ زندہ زبان ہمہ وقت بین الاقوامی اورعلاقائی لسانی اثرات میں رہتی ہے اور اس کا ذخیرۂ الفاظ گوناں گوں کروٹیں لیتا رہتا ہے۔ فیشنی الفاظ کچھ عرصہ اپنا جلوہ دکھا کر لسانی منظر سے غائب ہو جاتے ہیں لیکن مستقل نوعیت کے الفاظ زبان میں جڑیں پکڑ لیتے ہیں اور تناور درخت بن کر خود نئی فرہنگ کو اپنی چھتر چھایا میں لے لیتے ہیں۔

ڈاکٹر فیلن کا حیات نامہ
1817 کلکتہ میں پیدا ہوئے۔
1837 بنگال کے محکمہء تعلیم میں ملازم ہوئے۔
1848 ’طبقات شعرائے ہند‘ شائع کی۔
1858 Law & Commercial Dictionary شائع کی۔
1864 انسپکٹر آف سکولز ، جرمنی سے ڈاکٹریٹ ۔
1875 محکمہء تعلیم سے ریٹائرمنٹ، دہلی میں سکونت۔
1877 ’ہندوستانی محاورے اور کہاوتیں‘ مرتّب کی۔
1879 ’ہندوستانی۔ انگریزی ڈ کشنری‘ شائع ہوئی۔
1880 آبائی وطن انگلستان کو روانگی۔
1880 (تین اکتوبر) انگلستان میں وفات پائی۔

اُردو کی مختلف لغات کو جانچنے پرکھنے کا کام آج سے بیس برس پہلے اُردو ترقی بورڈ نے شروع کیا تھا (جو بعد میں اُردو سائنس بورڈ بن گیا)۔ اس جانچ پرکھ کے دوران جِن کلاسیکی لغات پر کام ہوا اُن میں پلیٹس کی معروف ڈکشنری اور فیلن کی زیرِ بحث لغت کے علاوہ مولوی سید احمد دہلوی کی فرہنگِ آصفیہ اور خواجہ عبدالمجید کی جامع اللغات شامل تھیں۔

فیلن کی لغت کو جانچنے پرکھنے کا کام وارث سرہندی کے سپرد تھا جنہوں نے بڑی عرق ریزی سے ایک ایک لفظ کا مطالعہ کیا اور فیلن کے بیان کردہ مطالب پر مفصّل بحث کی۔

وارث سرہندی نے کئی ایسے الفاظ کی جانب اشارہ کیا جو اُردو یا ہندی میں کبھی نہیں سنے گئے لیکن فیلن کی لغت میں موجود ہیں۔ ناقد کا کہنا ہے کہ فیلن چونکہ ہندوستان بھر کے دیہات میں گھومتے پھرتے تھے اور علاقائی بولی ٹھولی سے بھی استفادہ کرتے تھے چنانچہ انھوں نے ایسے الفاظ بھی ’ہندوستانی‘ زبان میں شامل کر لئے جن کا دائرہ کار شاید کسی مخصوص علاقے کی چند بستیوں تک محدود ہو۔ مثلاً ’اُب ڈُب کرنا‘ کا مطلب فیلن نے دیا ہے ’ابھرنا اور ڈوبنا‘ لیکن یہ محاورہ بقول وارث سرہندی نہ تو اُردو میں مستعمل ہے اور نہ ہندی میں
فیلن نے البتہ اِس کی تشریح اِن لفظوں میں کی ہے:

1: To swim and rise alternately in the water.
2: To breathe one's last, to be at the last gasp.

(لیکن کیا خوب محاورہ ہے! کیوں نہ اسے اُردو میں اپنا لیا جائے؟ -- عارف)

اس کے برعکس کچھ الفاظ ایسے ہیں جو آج کل ہماری زبان میں عام ہیں اور پاکستان میں ہائی سکول کا درمیانی قابلیت کا بچّہ بھی اِن الفاظ سے واقف ہوگا، لیکن فیلن کی ڈ کشنری میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں، جس کی سیدھی سی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ایک صدی پہلے کی بول چال میں وہ الفاظ مستعمل نہیں تھے۔ مثلاً الف کی پٹی میں:
آبشار، آبگینہ، آبرو ریزی، آب پاشی کرنا اور آب و دانہ جیسے (اب عام) الفاظ بھی فیلن نے درج نہیں کئے۔

لیکن فیلن کی لا علمی سے زیادہ یہ اِس طرف اشارہ ہے کہ ہماری زبان نے گزشتہ ایک صدی کے دوران کتنی وسعت اختیار کر لی ہے اور اس کے ذخیرہ الفاظ میں کتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

فیلن کی لغت کو یقیناً نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ ایک ایسا بھاری پتھر ہے کہ بڑے بڑے جیّد علمی و ادبی ادارے بھی اِسے چوم کر ایک طرف ہٹ جاتے ہیں اور جب تک کوئی فرد یا ادارہ اِس لغت کا نیا ایڈیشن شائع نہیں کرتا تب تک اسے وارث سرہندی کی تنقید کے ساتھ مِلا کر پڑھنا مناسب ہوگا۔

اُردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی فرد کے لئے ڈاکٹر فیلن کی اُردو ۔ انگریزی لغت ایک ایسا موضوع ہے جس پر گفتگو کبھی ختم نہیں ہو سکتی، لیکن ہمیں اِن نشستوں میں ڈاکٹر فیلن کی دوسری ڈکشنری (انگریزی سے اُردو) کا بھی جائزہ لینا ہے اور اُس کے بعد پلیٹس کی ڈکشنری پر بھی ایک نگاہ ڈالنی ہے، اِس لئے ہم بادلِ نخواستہ فیلن کی ’نیو ہندوستانی ۔انگلش‘ ڈ کشنری کی بحث کو یہیں پر ختم کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری
24 January, 2006 | Learning English
2005 کے نئے انگریزی الفاظ
11 January, 2006 | Learning English
پُرانی ڈِ کشنری، نیا ایڈیشن
05 December, 2005 | Learning English
فعل بطور اسم و صفت
20 December, 2005 | Learning English
Verbals کا استعمال
26 December, 2005 | Learning English
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد