’نوشتۂ دیوار‘ کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’حکومت میں شامل سیاست دانوں کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے‘ ’سردار اپنے قبیلے پر ظلم ڈھاتا رہا لیکن اسے نوشتۂ دیوار نظر نہ آیا۔‘ ’باپ کو آخر بیٹی کا مطالبہ تسلیم کرنا ہی پڑا، شاید اس نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا تھا۔‘ اُرود میں تو اس طرح کے جُملے آپ ہر روز اخبارات میں پڑھتے ہوں گے۔ انگریزی میں بھی اس کا متبادل اظہار موجود ہے: Handwriting on the wall یعنی وہ گمبھیر صورتِ حال جو ٹل نہ سکتی ہو اور ایک عبرت ناک انجام سر پہ آن پہنچا ہو۔ لیکن یہ جملہ ہماری زبان میں آیا کہاں سے؟ بلکہ ہماری ہی کیا دنیا کی بے شمار زبانوں میں نوشتۂ دیوار کا اظہار موجود ہے، اسکا پس منظر جاننے کے لیے ہمیں انجیلِ مقدس کی ایک کہانی پہ غور کرنا ہوگا جوکہ اللہ کے نبی حضرت دانیال کے معجزے سے تعلق رکھتی ہے۔ بادشاہ بیلشضّر کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ درباریوں کے ساتھ اپنے محل میں رنگ رلیاں منا رہا تھا اور یروشلم کے معبد سے لُوٹے ہوئے طلائی برتنوں میں شراب نوشی کے دور چل رہے تھے کہ اچانک ۔۔۔ لیکن ٹھہرئیے۔ چونکہ یہ کہانی ہم انگریزی سیکھنے والے طلباء کے لیے پیش کر رہے ہیں اس لیے انگریزی کی بائبل سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں۔ Suddenly the figure of a human hand appeared and wrote on the plaster of the wall, near the lamp stand in the royal palace. The king watched the hand as it wrote. His face turned pale and he was so frightened that his knees knocked together and his legs تو آپ نے دیکھا کہ اچانک غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ بادشاہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ بعد کے واقعات کے مطابق بادشاہ نے بابل کے بڑے بڑے عالموں، پیروں، فقیروں اور نجومیوں کو محل میں بلایا اور کہا کہ اس عبارت کو پڑھ کر ذرا اسکا مطلب سمجھا دو، میں تمھیں سونے میں تول دوں گا۔
سارے عامل، پیر، فقیر اور نجومی کوشش کرتے رہے لیکن وہ عجیب و غریب زبان کسی کے سمجھ میں نہ آئی۔ ادھر بادشاہ کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔ آخر ملکہ نے آکر مشورہ دیا کہ دانیال نامی اُس شخص کو بلایا جائے جسکا جسم تو انسان کا ہے لیکن روح کسی دیوتا کی ہے۔ بادشاہ نے فوراً دانیال کو محل میں بلایا اور اس سے یوں گویا ہوا: (انگریزی بائبل سے اقتباس) I have heard that you are able to give interpretations and solve different problems. If you can read this writing and tell me what it means, you will be clothed in purple and have a gold chain placed around your neck and you will be made the third highest یعنی بادشاہ نے دانیال سے کہا میں نے سنا ہے کہ تم ہر طرح کی گھتیاں سُلجھانے کے ماہر ہو اور ہر مسئلے کو حل کر سکتے ہو۔ اگر تم دیوار پہ لکھی ہوئی یہ عبارت پڑھ کر اسکا مطلب مجھے سمجھا دو تو تمھارے گلے میں سونے کی مالا ڈالی جائے گی اور تمھیں خلعتِ فاخرہ سے نوازا جائے گا اور تمھیں سلطنت کا تیسرا سب سے بڑا عہدہ بھی سونپ دیا جائے گا۔ دانیال نے دیوار کی طرف دیکھا۔ وہاں یہ چار الفاظ لکھے تھے۔ Mene – mene – takel – peres یہ کسی اجنبی زبان کے غیر مانوس الفاظ تھے جنہیں ملک کا کوئی بھی عالم سمجھنے سے قاصر تھا۔ لیکن دانیال نبی نے اپنی روحانی قوت کے زور پر اس زبان کو سمجھ لیا اور بادشاہ سے کہا کہ تمھارا باپ بھی اس سلطنت کا فرماں روا تھا لیکن اس نے عیش و عشرت میں پڑ کر خود کو تباہ کر لیا اور اب تم بھی اسی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہو چنانچہ تمھارا مقّدر بھی تباہی اور بربادی ہے۔ دیوار پہ لکھے ہوئے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئےدانیال نے کہا mene کا مطلب ہے کہ تمھاری بادشاہی کے دِن پورے ہو گئے ہیں۔ takel کا مفہوم ہے کہ تمہیں کسوٹی پہ پرکھا گیا، لیکن تم کم عِیار ( ناقص) نکلے۔ peres سے مُراد ہے کے تمھاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ بائبل میں لکھی کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اسکی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی۔ بائبل کی کہانی تو یہیں تک تھی لیکن ایک ضرب المثل کے طور پر یہ واقعہ کئی زبانوں کا جزو بن چُکا ہے۔ انگریزی اور اُردو اُن بے شمار زبانوں میں سے صرف دو ہیں۔ ( اس مضمون میں ہم نے طالب علموں کی سہولت کیے لئے جدید انگریزی بائیبل یعنی New International Version سے اقتباس پیش کیے ہیں، جس میں کلاسیکی زبان کو آسان اور عام فہم بنا دیا گیا ہے۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||