fix کا مطلب کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ فکس‘ کا لفظ ہمارے یہاں انگریزی ہی میں نہیں اُردو پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے اور اُسی بُنیادی مفہوم میں جو کہ اصل زبان میں موجود ہے یعنی متعین کرنا، جمانا، بٹھانا، درست کرنا، مرمت کرنا وغیرہ۔ البتہ خود انگریزی میں اس لفظ کا مفہوم بہت پھیل چُکا ہے، خاص طور پر امریکہ پہنچنے کے بعد اس لفظ نے ایسے پاؤں پھیلائے ہیں کہ بعض اوقات چادر سے باہر نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آئیے پہلے اس لفظ کے بُنیادی مفہوم پرغور کر لیا جائے۔ ذرا یہ جملے دیکھیئے: 1 2 اِن جملوں میں یہ لفظ گاڑنے ، لگانے، یا جمانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے ملتا جُلتا مفہوم نگاہیں گاڑنا، نظریں جمانا یا ٹکٹکی باندھ کر دیکھناہے مثلاً: 1 2 تاریخ یا وقت مقرر کرنے اور دام ٹھہرانے کے مفہوم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے مثلاً 1 2 3 اسی نسبت سے کسی ’با اصول‘ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے کہ: A man with fixed principles یعنی ایسا شخص جسکےاصول متعین ہیں اور وہ پل پل اپنے اصول نہیں بدلتا۔ جب تک یہ لفظ برطانیہ کی حدود میں رہا اس کا مفہوم بھی کسی حد تک متعین رہا لیکن کوئی چار سو سال پہلے جب آباد کاروں کے ساتھ یہ لفظ امریکہ پہنچا تو اسکے معنی میں وسعت آنے لگی۔ چونکہ نو آباد کاروں کو امریکہ کی نئی سر زمین پر ایک نئی زندگی شروع کرنی تھی اس لئے وہ رات دِن کسی نہ کسی چیز کو ’ فکس ‘ کرنے کی دھُن میں لگے رہتے تھے چنانچہ جوں جوں روز مرہ زندگی کے معمولات میں وسعت آئی توں توں اس لفظ ’فکس‘ کا محّلِ استعمال بھی وسعت اختیار کرتا گیا۔ 1842 میں جب معروف برطانوی ناول نگار چارلس ڈِ کنز نےامریکہ کا دورہ کیا توڈِ کنز یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس لفظ کی امریکہ میں کیا گت بن رہی ہے۔ وہ لکھتا ہے: If you call upon a gentleman in a country town, you are told that the gentleman is ‘fixing up’ but will be with you soon. By this If you ride on a steamboat and ask if breakfast will be ready soon, you are told that they are already ‘fixing’ the table, which means, they are putting on the food If you ask a porter on a train to get your bags, he will tell you not to worry, he will ‘fix’ every thing for you لیکن ڈِ کنز کایہ تجربہ بھی ڈیڑھ سو سال سے زیادہ پُرانا ہو چُکا ہے۔ آج اس لفظ کا مفہوم ایسے شترِ بے مہار کا انداز اختیار کر چُکا ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ مُنہہ اُٹھا کر کدھر کو چل دے۔ شاید اسی لئے ایک دِل جلے برطانوی صحافی نے امریکہ سے اپنے مکتوب میں لکھا: Today, it is said that everything in America is ‘fixed.’The farmer fixes his fences, the mechanic ‘fixes’ his auto, the wife ‘fixes’ her sewing machine, the fine lady ‘fixes’ her hair and the schoolboy his book The minister ‘fixes’ his sermon, the doctor ‘fixes’ his medicine The wife ‘fixes’ the meals, while her daughter ‘fixes’ herself up to go out with a boy friend یعنی آج کے امریکہ میں ہر چیز ’فِکس‘ کی جا رہی ہے: کسان کھیت کی باڑ ’فِکس‘ کر رہا ہے، موٹر مکینک کار ’فِکس‘ کر رہا ہے، گھریلو خاتون سلائی کی مشین ’فِکس‘ کر رہی ہے، فیشنی عورت اپنے بال ’فِکس‘ کر رہی ہے، سکولی لڑکا اپنی کتابیں ’فِکس‘ کر رہا ہے، پادری صاحب اپنا وعظ ’فِکس‘ کر رہے ہیں، ڈا کٹر اپنی دوائیں ’فِکس‘ کر رہا ہے، وکیل اپنے دلائل ’فِکس‘ کر رہا ہے، اُسکی بیوی کھانا ’فِکس‘ کر رہی ہے، جبکہ بیٹی خود کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ’فِکس‘ کر رہی ہے،...... خود اہلِ پاکستان نے بھی 1970 کے زمانے میں اس لفظ کے استعمال کا بھرپور مظاہرہ دیکھا تھا۔ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں سخت بیانات دینے شروع کیے تو جس بیان نے عوام میں سب سے زیادہ مقبولیت اختیار کی وہ تھا: I’ll fix them اُردو اخباروں نے پہلے تو صرف بنیادی لفظ ’فِکس‘ پر اکتفاء کی اور سرخیاں جمائیں اسکے بعد کسی نابغہء روزگار نیوز ایڈیٹر نے ’فِکس اپ‘ کا لفظ چلا دیا جو کہ اُردو اخباروں کی سرخیوں میں اتنا مقبول ہوا کہ انگریزی مفہوم کی حدود سے باہر نکل کر کچھ عرصے کے لئے اُردو کا ایک لفظ بن گیا۔ چارلس ڈ کنز نے امریکیوں کے بارے میں کہا تھا: Americans have run wild with the little world ‘fix.’ The only thing not fixed is the meaning of the word itself سچ تو یہ ہے کہ آج ساری دُنیا ڈِ کنز کے اس الزام کی زد میں آ سکتی ہے کیونکہ انگریزی زبان اب امریکہ یا برطانیہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عالمی زبان کا درجہ اختیار کر گئی ہے اور ہر ملک و ملت کے لوگ اپنے اپنے لسانی مزاج اور سماجی و سیاسی ضرورتوں کے تحت اس لفظ کا مطلب ’فِکس‘ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||