BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرمن، فرنچ ثقافتی مرکز ایک ساتھ

’ این میری شِمل ہاؤس‘
مرکز کا نام معروف صوفی خاتون کے نام پر ’ این میری شِمل ہاؤس‘ رکھا گیا ہے
لاہور میں ایک نسل پہلے کے نوجوان تفریحِ طبع کے لیے کئی جگہوں پر جا سکتے تھے۔

بھلے دنوں میں امریکی مرکز کی ایئر کنڈیشنڈ لائبریری کے علاوہ برطانوی مرکز کا کتب خانہ، گوئٹے انسٹیٹوٹ کا ہال اور فرانس کا ثقافتی مرکز بھی طالب علموں کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ کی طرح تھا جہاں نہ صرف تازہ ترین غیر ملکی مطبوعات اور اخبارات و رسائل کا مطالعہ کیا جا سکتا تھا بلکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے آنے والے ثقافتی وفود کے فن کا مظاہرہ اور نئی سے نئی یورپی فلمیں دیکھنے کے مواقع بھی میسر آتے رہتے تھے۔

پھر ملک میں ایک ایسی ثقافت کُش ہوا چلی کہ ہر طرح کی تفریحات شجرِ ممنوعہ بن گئیں۔ یورپ میں کساد بازاری کے رجحان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور جرمنی کے دونوں حصوں کی وحدت کے بعد وہاں جو اقتصادی بحران شروع ہوا اس نے جرمنی کو مجبور کیا کہ وہ سمندر پار اپنے اخراجات میں کمی کرے چنانچہ بہت سے ملکوں میں جرمنی کے ثقافتی مراکز بند کر دیے گئے۔

امریکہ اور برطانیہ کے لیے مالی مسائل تو پریشان کن نہیں تھے لیکن شدت پسندی اور عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث انھیں اپنی ثقافتی سرگرمیاں محدود اور بعض صورتوں میں بالکل بند کرنی پڑیں۔

اِس وقت جبکہ حکومت خود روشن خیالی اور رواداری کا علم بلند کر رہی ہے، ملک میں ثقافتی سرگرمیاں بھی اپنی نئی آب وتاب سے شروع ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

News image
فرانسیسی مرکز کے ڈائریکٹر میتھیو پِینل

لاہور میں جرمنی اور فرانس کے ثقافتی مراکز نے پھر سے کام شروع کر دیا ہے اور مشترکہ طور پر سکاچ کارنر کے پُرسکون علاقے میں ایک خوبصورت عمارت حاصل کر کے وہاں اپنی تعلیمی، تدریسی اور ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

فرانسیسی مرکز کے ڈائریکٹر میتھیو پِینل نے بتایا کہ وہ لاہور کے روایتی کلچر سے بےحد متاثر ہیں اور یہاں کی موسیقی نے تو انہیں مسحور کر دیا ہے۔

جرمنی کے ساتھ مل کر مشترکہ ثقافتی مرکز شروع کرنے کے بارے میں میتھیو پِینل نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم والا یورپ اب ختم ہو چکا ہے، نئے یورپ میں سب ممالک ایک دوسرے کی جانب دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔

جرمن مرکز کا نام معروف صوفی خاتون کے نام پر ’ این میری شِمل ہاؤس‘ رکھا گیا ہے اور یہاں مختلف علوم و فنون کے جرمن ماہرین آ کر مقامی طالبعلموں کے لیے سیمینار اور مذاکرے منعقد کرتے ہیں۔

فرانسیسی زبان کی طرح یہاں جرمن زبان کی کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ این میری شمل ہاؤس کی ڈائریکٹرمحترمہ نورین ذکی ہیں جوکہ جرمنی میں پیدا ہوئیں اور سولہ برس کی عمر تک وہیں تعلیم حاصل کی، پھر وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنے آبائی وطن لوٹ آئیں اور لاہور کے کینیرڈ کالج میں مزید تعلیم حاصل کی۔

News image
این میری شمل ہاؤس کی ڈائریکٹرمحترمہ نورین ذکی

نورین کی اولین زبان جرمن ہے لیکن وہ انگریزی اور اردو پر بھی مکمل عبور رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری دنیا سکڑ کر ایک گلوبل گاؤں میں تبدیل ہو رہی ہے اور ان حالات میں کوئی ملک بھی گردوپیش سے بے خبر رہ کر زندگی نہیں گزارسکتا۔ مستقبل کی دنیا امن، بھائی چارے، دوستی اور سب سے بڑھ کر باہمی تعاون کی دنیا ہے اور پاکستانیوں کو بھی اکیسویں صدی کے اس چیلنج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

نورین ذکی نے بتایا کہ جرمنی جدید تکنیکی علوم و فنون کی آماجگاہ ہے اور اُن کے ثقافتی مرکز میں آ کر جرمن زبان سیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کی خواہش ہے کہ وہ اس زبان میں اتنی دسترس حاصل کر لیں کہ اعلٰی تعلیم کے لیےانھیں جرمن یونیورسٹیوں میں داخلہ مل سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد