فلمسازی کی تدریس کا اہتمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیشنل کالج آف آرٹس، پاکستان میں فنون کی تدریس کا قدیم ترین ادارہ ہے اور پچھلے ایک سو تیس برس سے مصوری، سنگ تراشی، منی ایچر اور فنِ تعمیر کے شعبوں میں نوجوانوں کو تربیت دے رہا ہے۔ میو سکول آف آرٹس کے نام سے شروع ہونے والا یہ ادارہ پچھلی ایک صدی کے دوران ارتقاء کی بہت سی منازل سے گزرا ہے اور مصور کے مُو قلم سے لے کر کمپیوٹر کے ’ماؤس‘ تک اس نے ہر ذریعہِ اظہار کا تجربہ کیا ہے۔ اس تعلیمی سال سے کالج میں ایک نئےشعبے کا اضافہ ہوا ہے، اور وہ ہے فلم سازی اور ٹی وی پروڈکشن کا شعبہ۔ کالج کی پرنسپل مسز ساجدہ ونڈل کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جو ذریعہِ اظہار سب سے قابلِ رحم حالت میں ہے وہ فلم ہی کا شعبہ ہے، چنانچہ اچھے سکرپٹ نگار ، ماہر کیمرہ مین، زیرک ساؤنڈ ریکارڈسٹ، اور لائق ڈائریکٹر پیدا کرنامعاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے اور نیشنل کالج میں فلم پروڈکشن کے شعبے کا آغاز اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
مسز ونڈل نے بتایا کہ شعبہِ فلم میں چار سال کا گریجویٹ کورس شروع کیا گیا ہے جو اس لحاظ سے انتہائی منفرد ہے کہ اس کی بنیاد فنونِ لطیفہ کی اُس روایت پر رکھی گئی ہے جو گزشتہ ایک سو تیس برس سے اس کالج کی قابلِ فخر میراث ہے۔ پہلے سال کے دوران کیمرے اور ساؤنڈ کے ساتھ ساتھ طلبہ، آرٹ ہسٹری، فلم ہسٹری، ڈرائنگ، ڈرافٹنگ، مجسمہ سازی اور تاریخِ ثقافت سے بھی شناسائی حاصل کریں گے۔ دوسرے سال میں تھیوری پر کم اور عملی مشق پر زور بڑھ جائے گا جبکہ تیسرے سال میں طلبہ پورے طور پر عملی کام میں جُٹ جائیں گے۔ چوتھا سال مکمل طور پر طالب علموں کے پروجیکٹس کے لیے وقف ہوگا جِس میں وہ دستاویزی فلمیں، ڈرامے یا ٹیلی وژن پروگرام تیار کریں گے۔ اس آخری برس کے دوران طالب علموں کو ملک کی فلم، ٹی وی اور وڈیو مارکیٹ کے لیے خصوصی تربیت دی جائے گی۔
فلم ساز اور تقسیم کار ستیش آنند کا کہنا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کے زوال کا سبب تربیت یافتہ افراد کا فقدان ہے اور اس شعبے کے کھلنے سے یہ اُمید پیدا ہوئی ہے کہ چند برس بعد جب یہ تربیت یافتہ نوجوان عملی میدان میں آئیں گے تو فلمی صنعت کو ایسا نیا خون میسر آجائے گا جس کی کمی اس وقت ہماری فلم انڈسٹری کو بسترِمرگ پر لے آئی ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس نے اس نئے شعبے کے لئے بہترین اساتذہ کا انتظام کیا ہے: ملک بھر سے کیمرے، ساؤنڈ اور ایڈیٹنگ کے ماہرین تو بلائے ہی گئے ہیں، جرمنی، انگلستان اور جاپان سے بھی ٹیلی وژن اور فلم کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ میونخ فلم سکول کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر لینگزفیلڈ اور این۔ایچ۔کے (جاپان) میں دستاویزی فلموں کے نگران، پروفیسر اِیواساکی اس وقت لاہور میں موجود ہیں اور طلبہ اُن کے طویل تکنیکی تجربے سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔
پاکستان ٹیلی وژن کی سابق پروڈیوسر اور ڈاکومنٹری فلم ساز شیریں پاشا، اداکار اور ہدایتکار عثمان پیر زادہ، مصنف اداکار اور ہدایتکار سلمان شاھد، لاہور ٹیلی وژن کے سابق مینجر سید محمد انور، معروف فوٹوگرافر نثار مرزا اور مصنفہ اداکارہ فریال گوہر بھی اس شعبے کے تدریسی عملے میں شامل ہیں۔ پروفیسر لینگزفیلڈ کا کہنا ہے کہ اچھی فلم کا انحصار اچھے سکرپٹ پر ہوتا ہے چنانچہ طالب علموں کو پہلے ہی سال سے سکرپٹ نگاری کی تربیت دی جائے گی اور جو طلبہ اس شعبے میں تخصیص حاصل کرنا چاہیں گے اُن کے لیے سکرپٹ رائٹنگ کے ایک سالہ کورس کا علیحدہ اہتمام بھی کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||