ہالی وڈ چلا چکوال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ’شہرزاد‘ کا بجٹ عام امریکی فلموں جتنا تو نہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں فلمیں انتہائی کم لاگت میں بنتی ہیں اس فلم کے بجٹ نے ملکی فلم انڈسٹری میں کافی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک اعلان کے مطابق پاکستانی اور امریکی فلمسازوں کے تعاون سے بننے والی اس فلم پر 25 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ فلم ’شہرزاد‘ کے کہانی نویس اور مکالمہ نگار سلمان پیرزادہ ہیں جن کی فلم ’زرگل‘ کو فلمی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ فلم کے پروڈیوسر پیٹر زیبٹ ہیں جو اس سے پہلے واشنگٹن میں ایک کامیاب وکیل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شہرزاد‘ ایک اہم وقت پر ایک اہم پیغام لے کر آئی ہے کیونکہ یہ اسلامی تہذیب وتمدن کے عروج کی داستان ہے۔ ’شہرزاد‘ تیرویں صدی سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے روحانی سفر کی کہانی ہے۔ یہ چنگیزخان کی کہانی ہے جو ایشیا فتح کرنے نکلا تھا۔ یہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی بھی کہانی ہے ۔یہ کہانی اس وقت کی جب دنیا افراتفری کا شکار تھی اور ایک عورت اپنی جنگ لڑنے خود نکلی۔
اسی وجہ سے پیٹر بھارت اور ازبکستان پر زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے اور ابھی وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ سلمان نے ان کو لاہور آنے دعوت دی۔ اپنے دورہ لاہور کے دوران یہاں کی روایتی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ انہوں نے وزیر اعلٰی چوہدری پرویز الٰہی سے ایک ملاقات کی جس میں انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا گیا۔ بعد میں صدر پرویز مشرف نے بھی ان کی اس فلم کی کوشش کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے پیٹر فلم پراجیکٹ کو پاکستان لانے منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ فلم کے آن لوکیشن مینجر فیضان پیر زادہ نے بتایا کہ اس فلم کی عکس بندی زیادہ تر چکوال کے علاقہ میں ہو گی کیونکہ وہاں پر ایسے کئی مقامات ہیں جن کو آسانی سے سلک روٹ کے بازاروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ فیضان پیرزادہ کا کہنا ہے ان کی کمپنی پیر فلمز چکوال میں ایک سو ایکڑ سے زائد زمین پر سیٹ لگانے کی ذمہ دار ہو گی۔ پیٹرزیبٹ نے اعلان کیا ہےکہ اس فلم کی عکس بندی مکمل ہونے کے بعد سیٹ کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو ایک عجائب گھر میں تبدیل کرکے عام لوگوں کے لئے کھولا جائے گا۔ فیضان پیرزادہ کا کہنا ہے کہ فلم کی پری پروڈکشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور اس کی شوٹنگ ستمبر میں شروع ہو جائے گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ فلم 2005 میں دنیا بھر میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ اس فلم میں کام کرنے والے اداکاروں کے بارے میں پیٹرزیبٹ اور ان کے ساتھی خاموش ہیں لیکن سننے میں آیا ہے کہ ہالی ووڈ کے سپر سٹارز اور پاکستانی اداکار اکھٹے کام کریں گے۔ اس سلسلے میں ہالی وڈ سے ٹام کروز اور نکول کڈمین جبکہ پاکستان سے راحت کاظمی کے نام لئے جا رہے ہیں۔ سنیما کی دنیا میں ترقی کی وجہ سے فلمسازی کا بہت آسان ہو گیا ہے اور سکرپٹ، ایک کیمرہ اور کچھ سرمایہ رکھنے والا ہر شخص فلم بنانے چل نکلتا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں ایسے کئی فلمی منصوبوں کا اجراء ہوا جو کبھی تکمیل کے مراحل عبور نہ کر سکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا شہرزاد کا منصوبہ مکمل ہو پائے گا یا یہ بھی تشنہ تکمیل رہے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||