سیف اللہ لاہور |  |
 |  گزشتہ سال صائمہ اور شامل خان کی ’لڑکی پنجابن‘ کامیاب ترین فلم رہی |
پاکستان میں فلموں کی ریلیز کے حوالے سے عید کا تہوار ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس تہوار پر اردو اور پنجابی کی آٹھ آٹھ دس دس فلمیں ریلیز ہوتی تھیں اور تمام فلمیں مناسب بزنس کر جاتی تھیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس عید پر صرف تین فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جن میں ایک اردو اور دو پنجابی ہیں۔ اردو فلم کا نام ’ہم ایک ہیں‘ اور دو پنجابی فلموں میں ’وحشی حسینہ‘ اور’ بلو گھنٹہ گھریا‘ ہیں۔ اردو فلم’ ہم ایک ہیں‘ کے ڈائریکٹر سید نور اور پروڈیوسر صفدر ملک ہیں۔ اس فلم کی کاسٹ میں شان‘ شامل خان‘صائمہ‘گل‘ افتخار ٹھاکر‘ اسد بخاری‘ شفقت چیمہ‘ راشد محمود اور نثار قادری شامل ہیں۔ پنجابی کی دونوں فلموں کی ڈائریکٹر سنگیتا ہیں۔ فلم’ وحشی حسینہ‘ کے پروڈیوسر ملک یونس ہیں اور کاسٹ میں شان‘ ثنا‘ لیلیٰ اور معمر رانا ہیں۔ پنجابی کی دوسری فلم ’بلو گھنٹہ گھریا‘ کے پروڈیوسر میاں افتخارالحق ٹونی ہیں جبکہ کاسٹ میں شان اور صائمہ مرکزی کردار کر رہے ہیں۔ شان تینوں فلموں کے ہیرو ہیں جبکہ صائمہ دو فلموں ’ہم ایک ہیں‘ اور ’بلو گھنٹہ گھریا‘ میں مرکزی کردار کر رہی ہیں تیسری فلم’ وحش حسینہ ‘ میں شان کی ہیروئن ثنا ہیں۔ عید پر فلموں کا اتنی کم تعداد میں ریلیز ہونا پاکستان کی فلم انڈسٹری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین میاں امجد فرزند نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیبل نیٹ ورک اور پائریسی نے فلم انڈسٹری کو اس حالت تک پہنچایا ہے۔ پاکستان سینما مالکان ایسوسی ایشن کی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ضوریز لاشاری نے کہا کہ پاکستان میں فلمسازی کا کام تقریبا ختم ہوگیا ہے۔ یہاں پر جو فلمیں بن رہی ہیں وہ ملک بھر کے سینماگھروں کا پیٹ نہیں بھر سکتیں لہذا سینما انڈسٹری کو بچانے کے لیے فوری طور پر بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی جائے۔ |