سری لنکا: گھر کی مرُغی دال برابر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی فلموں کو بیرون ممالک میں کافی سراہا جاتا ہے اور کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں ان فلموں کو درجنوں ایوارڈز بھی مل چکے ہیں لیکن کولمبو کے کسی بھی سنیما گھر میں جائیں آپ کو سری لنکا میں بنی ہوئی فلم مشکل سے ہی دیکھنے کو ملے گی۔ سری لنکا میں فلم سازوں نے انسانی رشتوں ، اسقاط حمل اور ملک کے شمال میں فوج اور تامل باغیوں کے درمیان سالوں سے جاری لڑائی جیسے حساس اور اہم موضوعات پر فلمیں بنائی ہیں۔ دی ولیج ان دی جنگل‘ سری لنکن سنیما کا زبردست شاہکار ہے۔ یہ فلم ایک گاؤں کے مطلق العنان سربراہ کی کہانی ہے جو آخر کار گاؤں کے ہی ایک شخص کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار لیسٹر جیمز پیرز ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’میری ساری فلمیں سری لنکا کے لوگوں اور ان کی خاندانی زندگیوں پر ہوتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ان کی زیادہ تر فلمیں سنہالہ ادب کے مشہور ناولوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا اصل مسئلہ بالی ووڈ فلمیں ہیں کیونکہ ہمارے سنیما گھروں پر ہندی فلموں کا قبضہ ہے جن میں موسیقی اور رقص کو کہانی میں خوبصورتی سے شامل کیا جاتا ہے۔ کولمبو شہرکےایک بڑے سنیما گھر میں ہندی فلم ’ہم تم‘ دکھائی جارہی تھی۔ شائقین میں سے کچھ کا خیال ہے کہ ہندی فلموں میں خوبصورت مناظر، موسیقی، مزاح اور دلکش ملبوسات بھی تماشبین کو متوجہ کرتے ہیں ۔ لیکن سری لنکن فلمساز ہار نہیں مانتے ان کا کہنا ہے کہ اس کے لئے صرف فلم بینوں کوذمےدار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ سری لنکا میں فلم کلچر ہی نہیں ہے۔ دوسرے پکچر کی کوالٹی بھی اچھی نہیں ہے تو لوگ کم بجٹ والی فلم دیکھنے کے بجائے بڑی بڑی ہندی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||