وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | کتاب نہ تو مصنف کی زندگی کا پورا احاطہ کرتی ہے اور نہ ہی کوئی تاریخی ریفرنس بک کہی جاسکتی ہے |
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ڈائریوں کی اشاعت کے بعد کیپٹن، قومی اسمبلی کے سپیکر، وزیر خارجہ، وزیرِ پانی و بجلی اور ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن کے عہدوں پر فائز رہنے والےگوہر ایوب خان نے ایک انٹرویو کے دوران مجھے اطمینان دلایا تھا کہ جو گوشے والد صاحب کی ڈائریوں میں تشنہ رہ گئے ہیں ان پر وہ اپنی کتاب میں روشنی ڈالیں گے۔ چنانچہ جب اکتیس جولائی کو خود گوہر ایوب خان کی کتاب Glimpses into the corridors of Power منظرِ عام پر آئی تو میں نے اسے بہت زیادہ توقعات کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ لیکن یہ کتاب نہ تو مصنف کی زندگی کا پورا احاطہ کرتی ہے اور نہ ہی کوئی تاریخی ریفرنس بک کہی جاسکتی ہے بلکہ یہ ایک ایسے شخص کا تاثر دیتی ہے جس کے ہمراہ آپ کسی باغ میں ٹہل رہے ہوں اور وہ آپ کو اپنے تجربات و واقعات سے سرسری طور پر آگاہ کر رہا ہو۔ کبھی وہ سیاست پر آجاتا ہے تو کبھی ذاتی واقعات پر تو کبھی لطائف پر تو کبھی دوسروں کی خاکہ آرائی پر اتر آتا ہے۔ زیادہ تر گفتگو نئی نہیں ہے بلکہ مختلف حوالوں سے ایسے ہر شخص کو معلوم ہے جسے تاریخ و سیاست سے تھوڑی بہت بھی دلچسپی ہے۔ لیکن بیچ بیچ میں ایسے واقعات اور قصے بھی آجاتے ہیں جو کسی پرانے واقعہ کی ایک تازہ یا نسبتاً نئی سمت کی جانب اشارہ ضرور کرتے ہیں۔ مثلاً ایک دلچسپ واقعہ انہوں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور فوج کے ایک کرنل کے درمیان کراچی کے ایک ہوٹل میں ’پینے پلانے‘ کے دوران ہونے والی ہاتھا پائی کا بیان کیا ہے۔ گوہر ایوب کے مطابق کرنل نے پٹائی کی تو بھٹو نے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آ کر وہ اسے دیکھ لینگے۔ تاہم بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد بظاہر کوئی انتقامی کارروائی نہ کی۔ تفصیل کے لیے:
 |  والد کے صدر بننے کے بعد جب بھی میں اور میری بیوی زیب ایوانِ صدر جا کر انکے ساتھ کھانا کھاتے تو ہم دونوں کو اسکا بل پیش کردیا جاتا۔اگر صدر کمپٹرولر آفس سے کوئی شے منگواتے چاہے وہ سافٹ ڈرنکس ہی کیوں نہ ہوں تو اسکا بل صدر کو پیش کیا جاتا  گوہر ایوب |
اس کے علاوہ سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کے پہلے ملکی مارشل لا کا تذکرہ کرتے ہوئے گوہر ایوب خان لکھتے ہیں کہ جب صدر سکندر مرزا نے آئین برخواست کرکے والد ( ایوب خان) کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنادیا تو سکندر مرزا کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر سے زیادہ طاقتور عہدہ ہوتا ہے۔ جب ایوب خان مشرقی پاکستان کے دورے پر گئے تو سکندر مرزا نے ائرکموڈور مقبول رب اور بریگیڈیر قیوم شیر سے کہا کہ جیسے ہی ایوب خان ڈھاکہ سے واپس کراچی پہنچیں انہیں گرفتار کر لیا جائے لیکن انٹیلیجنس ایجنسیاں صدر کے فون ٹیپ کر رہی تھیں۔ جب ایوب خان کراچی پہنچے تو گھر کی دہلیز پر لیفٹیننٹ جنرل موسی، میجر جنرل یحیٰی خان، میجر جنرل عبالحمید اور میجر جنرل شیر بہادر انکا انتظار کر رہےتھے۔ وزیرِ اعلی ہاؤس میں ان جنرلوں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملٹری انٹیلی جینس کے ڈائریکٹر بریگیڈیر محمد حیات نے شرکا کو سکندر مرزا کے ارادوں سے آگاہ کیا۔ میجر جنرل یحیی خان اور میجر جنرل عبدالحمید نے کہا کہ اس سے پہلے کہ صدر فوج میں نفاق ڈالنے میں کامیاب ہو اسے ہٹا دیا جائے۔ ستائیس اکتوبر کو ایوانِ صدر میں گارڈن پارٹی ہورہی تھی جس میں مارشل لا کے اعلی حکام بھی شریک تھے۔اس پارٹی کے بعد صدر کے استعفی کے خط کا متن جنرل یحیی اور حمید نے لکھوایا اور یہ خط میجر مجید ملک ( جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل اور وفاقی وزیر بنے) نے ٹائپ کیا۔طےہوا کہ نصف شب کو لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان ، لیفٹیننٹ جنرل ڈبلیو اے برکی اور لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ ایوانِ صدر جا کر سکندر مرزا سے استعفی پر دستخط کروائیں گے اور پنجاب رجمنٹ کی نو کمپنی ایوانِ صدر کے پولیس محافظوں کو غیر مسلح کرے گی۔
 | | | ایوب خان چراٹ ( صوبہ سرحد) میں فوجی کمانڈوز ایس ایس جی کے دستے کی تشکیل و تربیت کرنا چاہتے تھے |
ساڑھے گیارہ بجے شب والد نے ان تینوں جنرلوں کو رخصت کیا۔ جاتے جاتے جنرل اعظم نے مجھ (گوہر ایوب) سے ہتھیار مانگا اور میں نے اپنا چھ گولیوں سے بھرا ریوالور اور چھ اضافی گولیوں کا پاؤچ انکے حوالے کردیا۔ اس موقع پر جنرل برکی نے اپنے بوٹوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ میں اس طرح سے سکندر مرزا کے پاس جاتے ہوئے خود کو کتا محسوس کر رہا ہوں کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے میں نے اسکے ساتھ کھانا کھایا ہے۔ایوانِ صدر کی فون لائنیں کاٹ دی گئیں۔ محافظوں کو غیر مسلح کردیا گیا۔ تینوں جرنیل پہلی منزل کے ڈرائینگ روم میں پہنچے اور عملے کا کہا کہ وہ صدر کو اطلاع دے دیں۔ جب صدر اور انکی اہلیہ ناہید کو دروازہ کھٹکھٹا کر خبر دی گئی تو جنرلوں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی ناہید نے ہذیانی انداز میں چیخنا شروع کردیا۔ صدر مرزا نائٹ گاؤن پہنے باہر نکلے جس کی جیب میں موجود پستول پر انکا ہاتھ تھا۔ صدر ڈرائنگ روم میں پہنچے تو جنرل اعظم نے آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے استعفے کا کاغذ اور قلم صدر کی طرف بڑھا دیا۔ صدر چند سیکنڈ ہچکچائے تو جنرل اعظم نے بلند آواز میں کہا ’اس پر دستخط کردو‘ اور صدر نے دستخط کردیے۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں چند روز کے لیے کوئٹہ بھیجا جا رہا ہے جہاں سے لندن روانہ کردیا جائے گا۔ یہ اور اس طرح کے کئی دلچسپ واقعات گوہر ایوب خان کی کتاب میں ملتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کتاب سے زیادہ جھلک نامہ ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کتاب کا سنگِ میل پبلشر کا شائع کردہ اردو ایڈیشن آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے اوریجنل انگریزی ایڈیشن سے ڈیڑھ سو روپے زیادہ مہنگا ہے۔ ورنہ اردو میں شائع ہونے والی کتاب ہمیشہ انگریزی سے سستی ہوتی ہے۔ گوہر ایوب کی کتاب آکسفرڈ پاکستان نے شائع کی ہے۔ تین سو پچانوے صفحات کے مجلد ایڈیشن ایڈیشن کی قیمت پانچ سو پچانوے روپے ہے۔ |